• Sat, 07 November, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

حج انتظامات میں اے آئی اور جدید طبی آلات متعارف کرانے کی تیاری

Updated: November 07, 2026, 9:54 PM IST | Jeddah

جدہ میں ۸؍ سے ۱۱؍ نومبر تک چھٹی حج کانفرنس و نمائش منعقد ہوگی، جہاں عازمین کی رہنمائی، ہنگامی طبی امداد اور انتظامی امور کے لیے جدید ٹیکنالوجی پیش کی جائے گی۔ نمائش میں ’مفہوم‘ نامی مصنوعی ذہانت پر مبنی ٹیلی فون ایجنٹ عازمین کے سوالات کے جواب دے گا، جبکہ ’وجیب‘ نامی پورٹیبل طبی آلہ انگلی کو چھوتے ہی پانچ اہم حیاتیاتی پیمانوں کی پیمائش کرسکے گا۔

Photo: X
تصویر: ایکس

سعودی عرب نے آئندہ حج سیزن کی تیاریوں کے سلسلے میں عازمینِ حج کی سہولت، طبی حفاظت اور انتظامی کارکردگی بہتر بنانے کے لیے مصنوعی ذہانت (Artificial Intelligence) اور جدید طبی ٹیکنالوجی کے استعمال کو وسعت دینے کا منصوبہ بنایا ہے۔ اسی مقصد کے تحت جدہ میں ۸؍ سے ۱۱؍ نومبر ۲۰۲۶ء تک چھٹی حج کانفرنس و نمائش منعقد ہوگی، جس میں عازمین کی رہنمائی سے لے کر ہنگامی طبی امداد اور مقدس مقامات پر انتظامی فیصلوں تک مختلف شعبوں کے لیے نئی ٹیکنالوجی پیش کی جائے گی۔ اس نمائش میں دو خصوصی اختراعات توجہ کا مرکز ہوں گی: مصنوعی ذہانت سے چلنے والا ٹیلی فون ایجنٹ اور انگلی کے لمس سے پانچ اہم طبی پیمانے جانچنے والا خودکار آلہ۔ کانفرنس کے اختراعی پروگرام میں ’مفہوم‘ (Mafhoom) نامی مصنوعی ذہانت پر مبنی ٹیلی فون ایجنٹ متعارف کرایا جائے گا۔ اس کا بنیادی مقصد عازمینِ حج کے سوالات کا فون کال کے ذریعے جواب دینا اور انہیں متعلقہ معلومات و رہنمائی فراہم کرنا ہے۔ اس نظام کے ذریعے عازمین کو معلومات حاصل کرنے کے لیے ہر مرتبہ کسی انسانی نمائندے سے رابطہ کرنے کی ضرورت کم ہوسکتی ہے۔ بالخصوص ایسے افراد کے لیے یہ سہولت اہم ثابت ہو سکتی ہے جو اسمارٹ فون ایپلی کیشن استعمال کرنے میں دشواری محسوس کرتے ہیں یا جنہیں فوری طور پر کسی سوال کا جواب درکار ہوتا ہے۔ یہ منصوبہ ان اختراعات میں شامل ہے جنہیں حرمین شریفین کے امور کی جنرل اتھاریٹی کے زیرِ اہتمام ’فکر برائے حرمین‘ (Fikr for the Two Holy Mosques) کے اختراعی سلسلے میں پیش کیا جا رہا ہے۔ 
دوسری اہم اختراع ’وجیب‘ (WajeeB) نامی ایک خودمختار اور پورٹیبل آلہ ہے، جسے ہنگامی طبی امداد فراہم کرنے والے ابتدائی کارکنوں کے لیے تیار کیا گیا ہے۔ سرکاری پروگرام میں دی گئی تفصیل کے مطابق یہ آلہ کسی شخص کی انگلی کو چھوتے ہی پانچ اہم حیاتیاتی پیمانوں (Vital Signs) کی پیمائش کرسکتا ہے۔ اس سے ابتدائی طبی امداد فراہم کرنے والے کارکنوں کو مریض کی حالت کا فوری اندازہ لگانے اور یہ فیصلہ کرنے میں مدد مل سکتی ہے کہ اسے کس نوعیت کی طبی امداد یا مزید معائنے کی ضرورت ہے۔ تاہم دستیاب سرکاری تفصیل میں ان پانچ پیمانوں کے نام یا آلے کی تکنیکی حدود کی وضاحت نہیں کی گئی ہے۔ کانفرنس میں ’مزن‘ (Muzn) نامی ایک اور اختراعی نظام بھی پیش کیا جائے گا، جسے آپریشنل اور بنیادی ڈھانچے سے متعلق فیصلوں میں معاونت کے لیے تیار کیا گیا ہے۔ اس کا مقصد مختلف انتظامی امور میں زیادہ مؤثر اور درست فیصلے کرنے میں مدد فراہم کرنا ہے۔ اس طرح تینوں اختراعات عازمین کی براہِ راست رہنمائی، فوری طبی جائزے اور حج انتظامات کی منصوبہ بندی جیسے مختلف شعبوں کا احاطہ کرتی ہیں۔ کانفرنس کے اختراعی پروگرام میں ان منصوبوں کو محض ٹیکنالوجی کی نمائش کے بجائے عملی ضروریات سے مربوط کرنے اور متعلقہ اداروں و سرمایہ کاروں کے درمیان تعاون کے مواقع پیدا کرنے پر بھی توجہ دی جائے گی۔ 

یہ بھی پڑھئے: ایران: سفارتی سرگرمیاں تیز، ۴۸؍ گھنٹوں میں ۱۲؍ ممالک کے وزرائے خارجہ سے رابطے

سعودی عرب کی وزارتِ حج و عمرہ، زائرین کے تجربے سے متعلق پروگرام (Pilgrim Experience Program) کے تعاون سے اس کانفرنس کا اہتمام کر رہی ہے۔ اس سال اس کا موضوع ’مکہ سے دنیا تک‘ (From Makkah to the World) رکھا گیا ہے۔ کانفرنس و نمائش میں ۱۵۰؍ سے زائد ممالک کی ۵۲۰؍ سے زیادہ سرکاری، نجی اور غیر منافع بخش اداروں کی شرکت متوقع ہے۔ نمائش کا رقبہ ۶۷؍ ہزار مربع میٹر سے زیادہ ہوگا اور اس میں ۱۵؍ سے زائد خصوصی شعبے اور پروگرام شامل کیے جائیں گے۔ اس کا مقصد ۱۴۴۸؍ہجری کے حج سیزن کے لیے ابتدائی تیاریوں کو آگے بڑھانا، خدمات فراہم کرنے والے اداروں کے درمیان رابطہ قائم کرنا اور مختلف انتظامی و عملی معاہدوں کو حتمی شکل دینے کے مواقع فراہم کرنا ہے۔ کانفرنس میں تین بنیادی شعبوں کو مرکزی اہمیت دی گئی ہے۔ پہلے شعبے میں بنیادی ڈھانچے اور عملی خدمات، جن میں ٹرانسپورٹ، لاجسٹکس، رہائش، مہمان نوازی اور خوراک کی فراہمی شامل ہیں، پر گفتگو ہوگی۔ دوسرے شعبے میں سکیورٹی، حفاظت، طبی خدمات، ذرائع ابلاغ اور ٹیکنالوجی کے باہمی اشتراک کو موضوع بنایا جائے گا۔ تیسرے شعبے میں پائیدار ترقی، کاروباری اختراعات، تربیت، پیشہ ورانہ صلاحیتوں میں اضافے اور عازمین کے مجموعی تجربے کو بہتر بنانے پر توجہ مرکوز ہوگی۔ اس کے علاوہ صحت، ٹیکنالوجی، ہوا بازی اور میڈیا کے لیے الگ خصوصی زون بھی قائم کیے جائیں گے۔ 

یہ بھی پڑھئے: امریکہ کے ۹؍ بڑے ایریناز نے فلسطین ٹور کےفنڈ ریزنگ شوز کی میزبانی سےانکار کردیا: امریکی ریپر میکلمور

سعودی وزارتِ داخلہ بھی کانفرنس میں مصنوعی ذہانت سے بہتر بنائے گئے اپنے سکیورٹی اور انتظامی نظام پیش کرے گی۔ ان میں ہجوم کی نقل و حرکت کو منظم کرنے، مقدس مقامات پر آمدورفت کی نگرانی اور ڈجیٹل حل کے ذریعے انتظامی فیصلوں میں مدد دینے والی ٹیکنالوجی شامل ہوگی۔ وزارت اپنے پویلین میں ’بغیر اجازت حج نہیں‘ (No Hajj Without a Permit) مہم اور ’مکہ روٹ انیشی ایٹو‘ (Makkah Route Initiative) سے متعلق اقدامات بھی اجاگر کرے گی۔ مکہ روٹ منصوبے کے تحت عازمین کو ان کے اپنے ممالک میں ہی سفر سے پہلے امیگریشن اور دیگر ضروری کارروائیوں کی سہولت فراہم کی جاتی ہے۔ یہ پیش رفت سعودی عرب میں حج و عمرہ کی خدمات کو ڈجیٹل بنانے کی وسیع تر حکمت عملی کا حصہ ہے۔ وزارتِ حج و عمرہ کی ’نسک اے آئی‘ (Nusuk AI) سروس پہلے ہی عازمین کو حج، عمرہ اور زیارت سے متعلق سوالات کے جواب دینے اور رہنمائی فراہم کرنے کے لیے استعمال ہو رہی ہے۔ یہ سروس ۱۸۰؍ سے زیادہ زبانوں کی معاونت اور صوتی رابطے کی سہولت فراہم کرتی ہے۔ اسی طرح ’ڈجیٹل مطوف‘ (Digital Mutawwif) نظام مصنوعی ذہانت اور جغرافیائی معلومات کی مدد سے عازمین کو مناسب راستوں کی رہنمائی، طواف اور سعی کے چکروں کی گنتی اور مناسک کے مختلف مراحل کے مطابق دعائیں فراہم کرنے میں مدد دیتا ہے۔ 

یہ بھی پڑھئے: عبدالرحمٰن کی کامیابی کی تقریر میں عربی الفاظ کے استعمال کا خیر مقدم

طبی شعبے میں بھی سعودی عرب پہلے ہی جدید ٹیکنالوجی کے تجربات کرچکا ہے۔ ۱۴۴۷؍ ہجری کے حج سیزن کے دوران وزارتِ صحت نے ٹیلی میڈیسن، ورچوئل اسپتال، طبی سامان کی ترسیل کے لیے ڈرونز اور عازمین کی صحت کے اہم اشاریوں کی نگرانی کے لیے اسمارٹ واچز کا استعمال کیا تھا۔ مدینہ ہیلتھ کلسٹر کے اسمارٹ واچ منصوبے میں دل کی دھڑکن، ای سی جی، خون میں آکسیجن کی سطح اور بلڈ پریشر سمیت مختلف پیمانوں کی نگرانی کی گئی۔ ان اقدامات کا مقصد طبی عملے کو مریضوں کی حالت سے بروقت آگاہ کرنا اور ضرورت پڑنے پر فوری طبی مدد فراہم کرنا تھا۔ جدہ سپرڈوم میں منعقد ہونے والی یہ کانفرنس محض نئی مصنوعات کی نمائش نہیں بلکہ حج کے پورے نظام کو بہتر بنانے کے لیے سرکاری اداروں، نجی کمپنیوں، طبی ماہرین، ٹیکنالوجی کے شعبے سے وابستہ افراد اور مختلف ممالک کے حج امور کے نمائندوں کو ایک جگہ جمع کرنے کا پلیٹ فارم بھی ہوگی۔ سعودی حکام کی توقع ہے کہ ان اختراعات اور باہمی تعاون کے ذریعے عازمین کے سفر، رہائش، نقل و حرکت، طبی سہولتوں اور مناسک کی ادائیگی کو مزید محفوظ، آسان اور مؤثر بنایا جا سکے گا۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK