بن بھول پورہ میںمنظوری اور رجسٹریشن کے کاغذات کی جانچ کے دوران کارروائی، اتراکھنڈ بھر میں غیر منظور شدہ اداروں کے خلاف مہم جاری رکھنے کا اعلان۔
EPAPER
Updated: September 05, 2026, 10:53 AM IST | Agency | Dehradun
بن بھول پورہ میںمنظوری اور رجسٹریشن کے کاغذات کی جانچ کے دوران کارروائی، اتراکھنڈ بھر میں غیر منظور شدہ اداروں کے خلاف مہم جاری رکھنے کا اعلان۔
اتراکھنڈ انتظامیہ نے گزشتہ روز ہلدوانی کے بن بھول پورہ علاقے میں ۲؍ مدارس کو سیل کر دیا۔ یہ کارروائی اس وقت کی گئی جب مبینہ طور پر ان کے منتظمین معائنہ کے دوران منظوری اور رجسٹریشن سے متعلق مطلوبہ دستاویز پیش کرنے میں ناکام رہے۔یہ کارروائی ریاستی حکومت کی جانب سے ان اداروں کے معائنے کے لئے جاری مہم کا حصہ ہے جو مطلوبہ منظوری یا قانونی شناخت کے بغیر چلائے جا رہے ہیں۔
یہ بھی پڑھئے:خلائی پیشقدمی: ملک کا اولین جیو سنکرونس سیٹیلائٹ مدار میں داخل
ہلدوانی کے سٹی مجسٹریٹ اور سب ڈویژنل مجسٹریٹ کی قیادت میں ایک مشترکہ ٹیم نے بن بھول پورہ کے مدارس کا معائنہ کیا، جس کا مقصد ان کی رجسٹریشن، منظوری اور دیگر متعلقہ دستاویزات کی جانچ کرنا تھا۔انتظامیہ کے مطابق، دو مدارس کے منتظمین مطلوبہ دستاویزات پیش نہیں کر سکے، جس کے بعد حکام نے دونوں اداروں کو سیل کر دیا۔تازہ کارروائی کے بعد علاقہ کے دیگر مدارس کے منتظمین میں بھی تشویش پیدا ہونے کی اطلاعات ہیں، خصوصاً ان اداروں میں جو ممکنہ طور پر مطلوبہ منظوری کے بغیر چل رہے ہیں۔ اطلاعات کے مطابق کچھ منتظمین نے رضاکارانہ طور پر اپنے ادارے بند کرنا بھی شروع کر دئیے ہیں، تاہم حکام ایسے اداروں کا معائنہ جاری رکھے ہوئے ہیں۔ہلدوانی کے سٹی مجسٹریٹ اے پی واجپئی نے کہا کہ مطلوبہ قانونی شناخت کے بغیر اور مقررہ ضابطوں کی خلاف ورزی کرتے ہوئے کسی ادارے کو چلانے کی اجازت نہیں دی جا سکتی۔واجپئی نے کہا، ’’کسی بھی ایسے ادارے کو چلانے کی اجازت نہیں دی جائے گی جو ضروری منظوری کے بغیر اور مقررہ ضابطہ کی خلاف ورزی کرتے ہوئے کام کر رہا ہو۔
یہ بھی پڑھئے: OpenAI اے آئی سسٹمز کیلئے ’خودکار شٹ ڈاؤن‘ صلاحیت تیار کر رہا ہے: رپورٹ
‘‘انہوں نے مزید کہا کہ انتظامیہ کی ٹیمیں موقع پر ہی دستاویزات کی جانچ کر رہی ہیں اور اداروں کے انتظام و انصرام سے متعلق دیگر امور کا بھی جائزہ لے رہی ہیں۔ وانی میں یہ کارروائی ایک دن بعد کی گئی جب ادھم سنگھ نگر میں حکام نے ایک اور مدرسے کو سیل کرکے اسے غیر قانونی قرار دیا تھا۔تاہم، اس مدرسہ کے منتظم نے دعویٰ کیا کہ منظوری حاصل کرنے کے لیے متعلقہ سرکاری محکمہ میں درخواست پہلے ہی جمع کرائی جا چکی تھی، لیکن اس عمل میں تاخیر ہوئی۔ انہوں نے کہا کہ وہ انتظامیہ کے فیصلے کو عدالت میں چیلنج کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں۔ اتراکھنڈ حکومت کا مؤقف ہے کہ اس کی مہم ان اداروں کے خلاف ہے جو ضروری اجازت، قانونی شناخت اور دستاویزات کے بغیر چل رہے ہیں۔تاہم، بعض مدرسہ منتظمین نے ایسی کارروائیوں کو چیلنج کیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ اس طرح نجی طور پر چلنے والے مدارس کو نشانہ بنانے سے ان کے آئینی حقوق متاثر ہو سکتے ہیں۔