• Sat, 05 September, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

منوج جرنگے کا حکومت کو ۱۱؍ ستمبر تک کا الٹی میٹم

Updated: September 05, 2026, 11:18 AM IST | Agency | Jalna

وزیروں پر مشتمل سرکاری وفد مراٹھا کارکن کو منانے میں پھر ناکام، مطالبات تسلیم نہ ہونے کی صورت میں ۱۲؍ ستمبرکو ممبئی کا رخ کیا جائے گا۔

Manoj Jarange (holding a microphone) stands firm on his stance. Picture: INN
منوج جرنگے (ہاتھ میں مائیک) اپنے موقف پر قائم ہیں۔ تصویر: آئی این این

مراٹھا سماجی کارکن منوج جرنگے نے اب حکومت کو حتمی طور پر الٹی میٹم دیا ہے کہ وہ ۱۱؍ ستمبر تک ان کے تمام مطالبات تسلیم کر لے ورنہ ۱۲؍ ستمبر کو وہ ممبئی کوچ کریں گے اور وہاں میٹنگ کے بعد آگے کا لائحہ عمل طے کریں گے۔ یاد رہے کہ جمعرات کی دیر رات ریاستی وزیر رادھا کرشن وکھے پاٹل کی قیادت میں ایک وفد حکومت کی جانب سے جرنگے کو منانے انتراولی سراتی پہنچا تھا۔ دیر رات تک وہ جرنگے کو مختلف حیلوں سے منانے کی کوشش کرتا رہا لیکن بات نہیں بنی اور وفد کو مایوس لوٹنا پڑا۔ 

یہ بھی پڑھئے:ایس آئی آر قانونی عمل تو ہے لیکن غیر منصفانہ: سابق الیکشن کمشنر لواسا

منوج جرنگے گزشتہ ۲۹؍ اگست سے جالنہ میں واقع اپنے گائوں انتراولی سراتی میں بھوک ہڑتال پر بیٹھے ہیں۔ ان کا مطالبہ ہے کہ شندے کمیٹی کو تحقیقات کے دوران جن ۵۸؍ لاکھ مراٹھا افراد کے نام حیدر آباد گزٹ میں ملے ہیں انہیں کنبی سرٹیفکیٹ جاری کیا جائے لیکن حکومت نے اب تک اس پر کوئی ٹھوس اقدام شروع نہیں کیا ہے۔ البتہ جمعرات کی رات رادھا کرشن وکھے پاٹل، اُودے سامنت اور پرساد لاڈ انتراولی سراتی پہنچے۔ انہوں نے منوج جرنگے کو بھوک ہڑتال ختم کرنے کی گزارش کی۔ ساتھ ہی یہ سمجھانے کی کوشش کی کہ حکومت مراٹھوں کیلئے بہت سے اقدامات کر رہی ہے۔ ان وزراء نے جرنگے سے کہا کہ ان کی بہت سی مانگیں پوری کی جا چکی ہیں ۔ اس پر بات ہوتی رہے گی لیکن ان کی طبیعت اور صحت اہم ہیں۔ انہیں فوراً اپنی بھوک ہڑتال ختم کرنی چاہئے  اور اسپتال میں بھرتی ہو کر اپنا علاج کروانا چاہئے۔ 

منوج جرنگے نے ان لیڈران کی بات سننے کےبجائے انہی کے سامنے شرائط رکھ دیں۔ جرنگے نے کہا آپ ۱۱؍ ستمبر تک میری تمام  مانگیں پوری کر دیجئے میں اپنا احتجاج ختم کردوں گا۔ بھوک ہڑتال واپس لے لوں گا۔ میں خود ممبئی جا کر جشن منائوں گا اور اگر نہیں تو ممبئی جا کر آئندہ کا لائحہ عمل طے کروں گا۔ منوج جرنگے نے کہا میری صحت لگاتار گر رہی ہے۔ میں اور زیادہ بھوک ہڑتال نہیں کر سکتا۔ لگاتار بھوک ہڑتال کرنے سے ہو سکتا ہے کہ میں مر جائوں ۔ اس لئے جو کچھ ہونا ہے ابھی ہو جائے۔ جرنگے نے کہا ’’ میں وزیروں کی بات کا لحاظ کرتے ہوئے سلائن لگوا رہا ہوں ، چاہئے تو ایک اور سلائن لگوا لوں گا لیکن بھوک ہڑتال ختم نہیں کروں گا۔‘‘ ساتھ ہی انہوں نے یہ الٹی میٹم بھی دیا کہ اگر ۲؍ یا ۳؍ روز میں ان کے مطالبات کے مطابق کنبی سرٹیفکیٹ کی تقسیم کا کام شروع نہیں ہوا تو سلائن بھی نکال دیں گے اورپانی پینا بھی چھوڑ دیں گے۔ 

یہ بھی پڑھئے:خاتون صحافیوں کو مسلم ہونے کی بنا پر نشانہ بنایا گیا، کیا مسلمان ہونا جرم ہے: فور پی ایم کے ایڈیٹر

یاد رہےکہ منوج جرنگے اس سے قبل سلائن لگوانے اور پانی پینے کیلئے تیار نہیں تھے لیکن ڈاکٹروں کی ضد اور انتراولی سراتی میں موجود اپنے حامیوں کے اصرار پر انہوں نے پانی پیا اور سلائن بھی لگوائی تھی۔یہ تینوںہی لیڈران منوج جرنگے کو تقریباً ڈھائی گھنٹے تک سمجھاتے رہے لیکن وہ ٹس سے مس نہیں ہوئے اور انہیں مایوس لوٹنا پڑا۔ یاد رہے جرنگے کی بھوک ہڑتال کو جمعہ کے روز ۷؍ روز پورے ہوگئے۔ ان طبیعت دن بہ دن بگڑتی جا رہی ہے جس کی وجہ سے مراٹھا سماج کے صبر کا پیمانہ بھی چھلکنے لگا ہے۔ جالنہ ، لاتور، ناندیڑ، اورنگ آباد جیسے اضلاع میں مراٹھا سماج کا احتجاج بھی بڑھتا جا رہا ہے۔ حکومت کی کوشش ہے کہ کسی طرح منوج جرنگے کو مناکر احتجاج کے اس سلسلے کو ختم کروایا جائے۔ 

 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK