شرد پوار نے پونے میں ودیانند باپٹ پر ہوئے حملے کو جمہویت پر حملہ قرار دیا۔
دیویندر فرنویس۔ تصویر: آئی این این
پونے:( ایجنسی)’’ تہواروں اور تقریبات کے دوران تشدد مناسب نہیں ہے۔ تہوار زیادہ سے زیادہ روایتی انداز میں منائے جائیں۔ تہوار کے دوران شروع ہونے والے کچھ غلط طریقوں کو مکمل طور پر روکا نہیں جا سکتا، لیکن لوگوں کو اعتماد میں لے کر ایک مناسب حل تلاش کیا جاسکتا ہے‘‘ پونے میں ڈی جے کے نام پر ہونے والے تشدد کے پس منظر میں وزیر اعلیٰ دیویندر فرنویس یہ بات کہی۔انہوں نے پونے میں ڈی جے کے خلاف آواز اٹھانے والے ودیانند باپٹ کی پٹائی کی مذمت بھی کی۔
وزیر اعلیٰ نے یہ بھی بتایا کہ حکومت صوتی آلودگی کو روکنے کیلئے کوشاں ہے تاکہ شہریوں کو ڈی جے کی آواز سے زلزلے جیسی پریشانی کا سامنا نہ کرنا پڑے۔ انہوں نے کہا’’ اب ہم اس بحث سے نکلنے کا راستہ تلاش کر رہے ہیں۔ مستقبل میں اس تعلق سے ضرور کوئی پالیسی بنائی جائے گی۔‘‘ یاد رہے کہ ایک روز قبل پونے میں ودیانند باپٹ نامی ایک نوجوان کی صرف اس لئے پٹائی کر دی گئی تھی کہ اس نے گنپتی میں بجائے جانے والے ڈی جے کی مخالفت کی تھی۔ پولیس نے حملہ کرنے والے شخص کو گرفتار کر لیا ہے۔ جمعہ کے روز وزیر اعلیٰ فرنویس خود پونے پہنچے۔
اس سے قبل این سی پی (شرد) کے سربراہ شرد پوار نے بھی ودیانند باپٹ پر ہوئے حملے کی مذمت کرتے ہوئے اسے ’جمہوریت پر حملہ‘ قرار دیا۔ شرد پوار نے کہا ’’ تہوار کو خوشگوار اور لوگوں کو راحت فراہم کرنے والا ہونا چاہئے۔ ڈی جے کی آواز اور راستوں پر ہونے والی سرگرمیوں کے سبب عوام کو تنگی محسوس ہونے لگتی ہے۔‘‘ پوار نے کہا’’ میں ودیانند باپٹ کو نہیں جانتا لیکن انہوں نے جو موضوع چھیڑا ہے وہ اہم ہے۔‘‘ معمر لیڈر نے باپٹ کی حمایت کرتے ہوئے کہا ’’گنیش اتسو ایک تہوار ہے اور باپٹ نے اس تہوار میں ہونے والی غلط باتوں کی طرف اشارہ کیا ہے۔ میں اس کی پوری طرح سے حمایت کرتا ہوں۔‘‘ شرد پوار نے واضح کیا کہ ’’ اس تعلق سے اپنی رائے ظاہر کرنے پر ان پر حملہ کر دیا گیا جو کہ بالکل غلط ہے اور یہ جمہوریت پر حملہ ہے۔ پونے کے پولیس کمشنر اور دیگر حکام کو اس جانب توجہ دینی چاہئے۔ میں باپٹ پر ہوئے حملے کی مخالفت کرتا ہوں۔‘‘