• Sat, 05 September, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

خلائی پیشقدمی: ملک کا اولین جیو سنکرونس سیٹیلائٹ مدار میں داخل

Updated: September 05, 2026, 10:50 AM IST | Agency | New Delhi

۳۶؍ہزارفٹ کی دوری پر اپنے مدار پر گھومتے ہوئے یہ سیٹیلائٹ سمندری طوفان، سیلاب، جنگلاتی آگ اور موسمیاتی تبدیلیوں کی انتہائی درست معلومات فراہم کرے گا۔

ISRO Chairman V. Narayanan and his team after the launch at the Satish Dhawan Space Centre. Picture: INN
ستیش دھون اسپیس سینٹرمیں لانچنگ کے بعد اسرو کے چیئرمین وی نارائنن اور ان کی ٹیم۔ تصویر: آئی این این

ہندوستانی خلائی تحقیقاتی تنظیم(اسرو) نے پی ایس ایل وی راکٹ کے ذریعے ہندوستان کا پہلا جیوسِنکرونس سیٹیلائٹ کامیابی کے ساتھ مدار میں پہنچا دیا ہے۔ اسرو کے سائنسدانوں اور تکنیکی عملے نے یہ کارنامہ۴؍ستمبر ۲۰۲۶ءکی علی الصبح ٹھیک ۲؍ بج کر ۵۵؍ منٹ پرانجام دیا ہے۔ یہ ایک ایسے راکٹ کی مدد سے انجام دیا گیا جو اپنی پچھلی کئی اڑانوں میںناکام رہا، اور اسی بناء پر اسے ’شریر بچے‘ کا خطاب دیا گیا تھا۔

یہ بھی پڑھئے: رومانیہ: سوشل میڈیا انفلوئنسر اینڈریو ٹیٹ کے خلاف فرد جرائم عائد

رپورٹ کے مطابق۴؍ستمبر کو جب پورا ملک گہری نیند میں تھا،اس وقت آندھرا پردیش کے سری ہری کوٹا میں واقع ستیش دھون اسپیس سینٹر میں اسرو کی ٹیم ایک تاریخی چیلنج کا سامنا کررہی تھی۔ اسرو کے تقریباً ۱۶۵۰۰؍ سائنسدانوں، انجینئروں اور معاون عملے کی محنت، دباؤ اور توقعات کے درمیان صرف۱۹؍ منٹ کے اندر، یعنی صبح ۳؍ بج کر۱۴؍ منٹ پر، اسرو کے ’نوٹی بوائے(شریربچہ)‘ کہلانے والے ’جی ایس ایل وی -ایف ۱۷‘راکٹ نے’ای او ایس -۰۵‘ ارتھ آبزرویشن سیٹیلائٹ کو کامیابی سے اس کے مقررہ مدار میں پہنچا دیا۔اس طرح ہندوستان  نے خلائی میدان میں اہم اسٹریٹجک اور تکنیکی فتح حاصل کرلی ہے۔

یہ بھی پڑھئے: نیشوآزاد، شاہین، نفیسہ خان اور آکرتی چودھری کیلئے کانگریس میدان میں اُتری

یہ کامیابی کیوں اہم ہے؟

یہ کامیابی ملک کیلئے انتہائی اہم اور جذباتی ہے، کیونکہ اسرو کا سب سے قابلِ اعتماد سمجھا جانے والا’پی ایس ایل وی‘راکٹ۲۰۲۵ء اور جنوری۲۰۲۶ءمیں مسلسل دو مرتبہ ناکام ہوچکا تھا، جس کے بعد ہندوستان کی خلائی لانچنگ صلاحیتوں پر سوالات اٹھنے لگے تھے۔ ایسے مشکل وقت میں تمام نظریں’جی ایس ایل وی ایم کے سیکنڈ‘ پر مرکوز ہوگئی تھیں۔ ۱۹؍ میں سے۶؍ مرتبہ ناکام رہنے کی وجہ سے اسے اسرو کا’شریربچہ‘ کہا جاتا تھا۔ لیکن مشکل حالات میں یہی ’نوٹی بوائے‘ راکٹ ملک کی تکنیکی خود انحصاری کی اہم ترین علامتوں میں سے ایک بن گیا ہے۔ ’ای او ایس -۰۵‘ خلا میں قائم کیا جانے والا ہندوستان کا پہلا جیو سنکرونس سیٹیلائٹ ہے۔ اس لانچ سے ہندوستان کی قدرتی آفات اور موسم کی نگرانی کی صلاحیت کئی گنا بڑھ جائے گی۔خیال رہے کہ اگست۲۰۲۱ء میں’جی ایس ایل وی -ایف ۱۰‘ مشن کے دوران کرائیوجینک مرحلے میں خرابی کے باعث جدید ارتھ آبزرویشن سیٹیلائٹ ای او ایس -۰۳؍ کو مدار میں پہنچانے کی کوشش ناکام ہوگئی تھی۔ ایسے میں موجودہ کامیابی کو اگست۲۰۲۱ء میں ناکام ’جی آئی ایس اے ٹی ون‘ مشن کے ادھورے خواب کی تکمیل بھی قرار دیا جا رہا ہے۔ 

یہ سیٹیلائٹ منفرد کیوں ہے؟

جی ایس ایل وی ایف ۱۷؍کے ذریعے خلا میں بھیجا گیا۲۳۷۶؍کلوگرام وزنی ای او ایس ۰۵؍ سیٹیلائٹ زمین سے تقریباً ۳۶؍ ہزار کلومیٹر کی بلندی پر جیو سنکرونس مدار میں قائم کیا گیا ہے۔یہ سمندری طوفان، سیلاب، جنگلاتی آگ اور موسمیاتی تبدیلیوں کے متعلق انتہائی درست معلومات فراہم کرے گا۔ عام سیٹیلائٹ وقتاً فوقتاً تصاویر بھیجتے ہیں، جبکہ ای او ایس ۰۵؍ کسی مخصوص علاقے کی مسلسل لائیو ویڈیو نگرانی فراہم کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ نچلے مدار میں گردش کرنے والے سیٹیلائٹس کے برعکس ای او ایس ۰۵؍ زمین سے تقریباً ۳۶؍ ہزار کلومیٹر کی بلندی پر رہتے ہوئے ہندوستان اور اسکی سرحدوں پر۲۴؍ گھنٹے نظر رکھ سکے گا۔اسرو کے چیئرمین ڈاکٹر وی  نارائنن کی قیادت میں حاصل یہ کامیابی حالیہ ناکامیوں کے بعد نہ صرف بھارت کا اعتماد بحال کرتی ہے بلکہ آئندہ بغیر پائلٹ کے ’گگن یان‘ مشن کیلئے بھی ایک مضبوط بنیاد فراہم کرتی ہے۔خیال رہے کہ  ۱۹۹۰ء کی دہائی میں امریکہ اور مغربی ممالک نے ہندوستان کو کرائیوجینک ٹیکنالوجی فراہم کرنے سے انکار کردیا تھا۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK