Inquilab Logo Happiest Places to Work

حماس کمانڈر عزالدین خاندان سمیت شہید

Updated: May 17, 2026, 3:28 PM IST | Gaza

اہلیہ اوربیٹی کے ساتھ سپرد خاک کیاگیا، ۱۰؍اکتوبر ۲۰۲۵ءکو جنگ بندی کے نفاذ سے لے کر اب تک ۸۵۹؍فلسطینی شہیدہوچکے ہیں۔

Scene from the funeral procession, Izz al-Din al-Haddad (inset). Photo: INN
جلوس جنازہ کا منظر ،عزالدین الحداد (انسیٹ)۔ تصویر: آئی این این

اسرائیل نے دعویٰ کیا ہے کہ اس نے غزہ شہر پر ایک فضائی حملے کرکے حماس کے کمانڈر عزالدین الحداد کو ہلاک کر دیا ہے۔میڈیا رپورٹس کے مطابق اسرائیلی وزیر اعظم نتن یاہو اور وزیر دفاع یسرائیل کاٹز نے ایک مشترکہ بیان میں کہا کہ عزالدین اسرائیل ڈیفنس فورسز کے قتل، اغوا اور انہیں زخمی کرنے کا ذمہ دار تھا۔اسرائیلی حکام کے مطابق غزہ میں المعتز کے نام سے مشہور رہائشی عمارت کو دو الگ الگ سمتوں سے بیک وقت داغے گئے تین میزائلوں سے نشانہ بنایا گیا، اس سے پہلے ایک گاڑی کو نشانہ بنایا گیا۔غزہ میں جنگ بندی کے باوجود اسرائیل کی جانب سے غزہ پر یہ تازہ ترین حملہ ہے۔

یہ بھی پڑھئے: نیتن یاہو حکومت آئندہ ہفتے گرسکتی ہے،اتحادیوں کا پارلیمنٹ تحلیل کرنے کا مطالبہ

واضح ہوکہ حملے میں الحداد کی اہلیہ اور بیٹی بھی جاں بحق ہوئی ہیں۔حماس کے ذرائع نے بھی تصدیق کی ہے کہ الحداد جمعہ کے روز غزہ شہر میں ایک رہائشی اپارٹمنٹ پر اسرائیلی حملے میں مارے گئے۔الشرق الاوسط سے گفتگو کرنے والے حماس کے تین ذرائع کے مطابق الحداد کی لاش بری طرح مسخ ہو چکی تھی، تاہم اہل خانہ اور قریبی ساتھیوں نے شناخت کی۔حماس رہنما باسم نعیم نے بھی ایک بیان میں الحداد کی ہلاکت کا اشارہ دیتے ہوئے کہا کہ تحریک مزید قربانیاں دینے کے لیے تیار ہے۔ دریں اثناء ہفتے کے روز حماس کے عسکری ونگ القسام بریگیڈ کے کمانڈر عز الدین الحداد کی نمازِ جنازہ اور تدفین کردی گئی ۔مقامی ذرائع کے مطابق جنازے کی نماز غزہ شہر کی مسجد شہداء الاقصیٰ میں ادا کی گئی، جس کے بعد ان کی میت کو سپرد خاک کیا گیا۔ اسی حملے میں الحداد کی اہلیہ اور بیٹی بھی جاں بحق ہوئی تھیں، جن کی تدفین بھی ساتھ ہی میں کی گئی۔جنازے میں شرکت کیلئے سیکڑوں فلسطینی مسجد کے اطراف جمع ہوئے، جبکہ شرکا نے فلسطینی پرچم اور حماس کے جھنڈے اٹھا رکھے تھے۔دوسری جانب غزہ پر مسلط جنگ بندی کے معاہدے کو پیروں تلے روندتے ہوئے اسرائیل نے غاصب صہیونی دشمن ریاست کی طرف سے فلسطینیوں کی نسل کشی کے تسلسل میں دو وحشیانہ فضائی حملے کیے جس کے نتیجے میں ایک خاتون سمیت کم از کم ۷؍ فلسطینی شہری جامِ شہادت نوش کر گئے جبکہ۵۰؍ سے زائد زخمی ہو گئے، صہیونی حکام نے  ان حملوں کو  ٹارگٹ کلنگ قرار دیا  ہے۔
فلسطینی وزارتِ صحت کے  مطابق ۱۰؍ اکتوبر  ۲۰۲۵ءکو جنگ بندی کے نفاذ سے لے کر اب تک صہیونی سفاکیت اور خلاف ورزیوں کے نتیجے میں شہید ہونے والے فلسطینیوں کی تعداد بڑھ کر۸۵۹؍ تک جا پہنچی ہے، جبکہ۲۴۸۶؍ افراد شدید زخمی ہوئے ہیں اور اب تک ملبے سے ۷۷۱؍ شہداء کے جسد خاکی نکالے جا چکے ہیں۔ اس نئے اسرائیل کے خونی حملے کے بعد۷؍اکتوبر ۲۰۲۳ءسے جاری اس بدترین صہیونی جارحیت اور فلسطینیوں کی نسل کشی کے آغاز سے اب تک کل شہداء کی تعداد ۷۲؍ ہزار۷۴۵؍ ہو چکی ہے جبکہ ایک لاکھ ۷۲؍ ہزار ۵۸۸؍ فلسطینی شدید زخمی ہوئے ہیں جو محصور غزہ پر مسلط اس وحشیانہ جنگ کی اندوہناک اور بھاری انسانی قیمت کا منہ بولتا ثبوت ہے۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK