اسرائیل کی نیتن یاہو کی حکومت آئندہ ہفتے گر سکتی ہے، جس کی وجہ نیتن یاہو کے اتحادی ’’ انتہائی قدامت پسند پارٹی ‘‘ کا پارلیمنت تحلیل کرنے کا مطالبہ ہے، جبکہ نیتن یاہو نے خبردار کیا ہے کہ انتخاب ہونے کی صورت میں انہیں شکست کا سامنا ہو سکتا ہے۔
EPAPER
Updated: May 17, 2026, 2:17 PM IST | Tel Aviv
اسرائیل کی نیتن یاہو کی حکومت آئندہ ہفتے گر سکتی ہے، جس کی وجہ نیتن یاہو کے اتحادی ’’ انتہائی قدامت پسند پارٹی ‘‘ کا پارلیمنت تحلیل کرنے کا مطالبہ ہے، جبکہ نیتن یاہو نے خبردار کیا ہے کہ انتخاب ہونے کی صورت میں انہیں شکست کا سامنا ہو سکتا ہے۔
اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو کی اتحادی حکومت ممکنہ طور پر اگلے ہفتے ختم ہو سکتی ہے، جب ان کے ایک اہم حلیف قدامت پسندمذہبی یہودی گروپ) نے پارلیمنٹ تحلیل کرنے کا مطالبہ کر دیا ہے۔ اسرائیلی اخبار ’’ہاریٹز‘‘کے مطابق، یہ سیاسی بحران اس وقت پیدا ہوا جب نیتن یاہو نے قدامت پسندمذہبی یہودی رہنماؤں کو بتایا کہ وہ مذہبی یہودیوں کو فوجی خدمات سے استثنیٰ دینے والے قانون کو آگے نہیں بڑھائیں گے، اور انہوں نے انتخابات کے بعد ایسی قانون سازی کی تجویز دی۔جبکہ قدامت پسندوں کا طویل عرصے سے فوجی خدمات چھوٹ کا مطالبہ رہا ہے۔
یہ بھی پڑھئے: ۲۰۲۶؍میں اسرائیل دنیا کا سب سے زیادہ ناپسندیدہ ملک بن گیا: عالمی سروے میں انکشاف
جمعرات کو اسرائیلی میڈیا کے مطابق، وزیر اعظم نیتن یاہو نے مذہبی جماعتوں کو خبردار کیا کہ ستمبر میں جلد انتخابات کی صورت میںحکمراں اتحاد کو شکست ہو سکتی ہے، حالانکہ اتحاد نے خود پارلیمنٹ تحلیل کرنے کی تجویز پیش کی ہے۔اسرائیلی چینل۱۲؍ نے ذرائع کے حوالے سے بتایا کہ نیتن یاہو نے مذہبی جماعتوں کے لیڈروں سے کہا کہ اسرائیل ابھی ایران کے حوالے سے مطلوبہ کامیابی حاصل نہیں کر سکا، اور انہوں نے مزید کہا کہ وہ اس وقت انتخابی مہم چلانے کے لیے دستیاب نہیں ہیں۔ چینل ۱۲؍ کے مطابق، اسرائیلی کنیسیٹ (پارلیمنٹ) اگلے بدھ کو خود کو تحلیل کرنے کی تجویز پر ووٹنگ کرے گی۔ادھر، اپوزیشن لیبرمین نے خبردار کیا کہ نیتن یاہو انتخابی مفادات کے لیے فوجی کارروائی کر سکتے ہیں۔
یہ بھی پڑھئے: اسرائیل اور لبنان ۴۵؍ روزہ جنگ بندی میں توسیع پرمتفق: امریکہ
مذہبی گروپ کو استثنیٰ معاملے پر نیتن یاہو نے انہیں یہ بل پیش کرنے میں دقتوں کا سامنا کرنا پڑرہا ہے،جس سے یہ جماعتیں ناراض ہوگئیں، اور انہوں نے بل نہ پاس ہونے پر پارلیمنٹ تحلیل کرنے اور جلد انتخابات کی دھمکی دی۔مزید برآں اپوزیشن نے بھی پارلیمنٹ تحلیل کرنے پر زور دیا ہے۔تجزیہ کاروں کے مطابق، مذہبی جماعتوں کا موقف فیصلہ کن ہو گا۔