:اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو نے کہا ہے کہ ان کی افواج غزہ کے ۶۰؍فیصد حصے پر کنٹرول رکھتی ہیں جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ انہوں نے غزہ کے اندر اپنے کنٹرول کا دائرۂ کار گزشتہ اکتوبر میں طے پانے والے جنگ بندی معاہدے کی شقوں سے زیادہ وسیع کر دیا ہے۔
EPAPER
Updated: May 17, 2026, 4:18 PM IST | Tel aviv
:اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو نے کہا ہے کہ ان کی افواج غزہ کے ۶۰؍فیصد حصے پر کنٹرول رکھتی ہیں جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ انہوں نے غزہ کے اندر اپنے کنٹرول کا دائرۂ کار گزشتہ اکتوبر میں طے پانے والے جنگ بندی معاہدے کی شقوں سے زیادہ وسیع کر دیا ہے۔
اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو نے کہا ہے کہ ان کی افواج غزہ کے ۶۰؍فیصد حصے پر کنٹرول رکھتی ہیں جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ انہوں نے غزہ کے اندر اپنے کنٹرول کا دائرۂ کار گزشتہ اکتوبر میں طے پانے والے جنگ بندی معاہدے کی شقوں سے زیادہ وسیع کر دیا ہے۔ یاہو کے یہ بیانات ایسے وقت میں سامنے آئے ہیں جب غزہ میں اب بھی روزانہ کی بنیاد پر تشدد دیکھا جا رہا ہے۔ جنگ بندی کو برقرار رکھنے اور جنگ کے مستقل خاتمے کی کوششوں میں رکاوٹوں کے سائے منڈلا رہے ہیں۔اسرائیلی وزیر اعظم نے ایک تقریب کے دوران کہا کہ گزشتہ دو سالوں کے دوران ہم نے پوری دنیا کو وہ عظیم طاقت دکھائی ہے جو ہمارے لوگوں، ہماری ریاست اور ہماری فوج میں پوشیدہ ہے۔ ہم اپنے تمام قیدیوں کو گھر واپس لے آئے ہیں۔
یہ بھی پڑھئے : نیتن یاہو حکومت آئندہ ہفتے گرسکتی ہے،اتحادیوں کا پارلیمنٹ تحلیل کرنے کا مطالبہ
آخری فرد تک کو واپس لائے ہیں۔ انہوں نے بات جاری رکھتے ہوئے کہا کہ کچھ لوگ ایسے تھے جو کہہ رہے تھے پیچھے ہٹ جاؤ، پیچھے ہٹ جاؤ! ہم پیچھے نہیں ہٹے۔ آج ہم۶۰؍ فیصد پر کنٹرول رکھتے ہیں اور کل ہم دیکھیں گے۔امریکہ کی ثالثی میں ہونے والے جنگ بندی معاہدے میں غزہ کے اندر اسرائیلی افواج کی اس حد تک واپسی کی دفعات شامل ہیں جسے ’پیلی لائن‘ کہا جاتا ہے۔ پیلی لائن تک واپسی سے بھی اسرائیل کا غزہ کے۵۰؍ فیصد سے زیادہ علاقے پر ان کا کنٹرول برقرار رہے گا۔ نیتن یاہو کے بیانات فوج کی جانب سے اپنی تعیناتی کے دائرۂ کار کو وسیع کرنے کی پہلی سرکاری تصدیق ہیں جو ان میڈیا رپورٹس کے بعد سامنے آئے ہیں جن میں حالیہ ہفتوں کے دوران اسرائیلی افواج کی نام نہاد نارنجی لائن کی طرف پیش قدمی کی بات کی گئی تھی۔جنگ بندی کے پہلے مرحلے میں ان آخری قیدیوں کی رہائی دیکھی گئی جنہیں حماس نے۲۰۲۳ء کے حملوں کے دوران حراست میں لیا تھا۔ جہاں تک دوسرے مرحلے کا تعلق ہے، اس میں پیچیدہ مسائل شامل ہیں جن میں شاید سب سے نمایاں حماس کا اسلحہ سے دستبردار ہونا ہے۔حماس نے اس شرط کو تسلیم کرنے سے سختی سے انکارکیا ہے۔