Updated: July 07, 2026, 8:22 PM IST
| Gaza
حماس کا کہنا ہے کہ اسرائیل غزہ میں،نئی انتظامیہ کو داخلے سے روک کر انتظامی خلاء پیدا کرنا چاہتا ہے، فلسطینی مزاحمتی گروپ کا کہنا ہے کہ وہ جنگ بندی معاہدے کا پابند ہے، ساتھ ہی ثالثوں پر زوردیا کہ وہ اسرائیل پر دباؤ ڈالے کے وہ نئی انتظامی کمیٹی کو خطے میں داخل ہونے دے۔
حماس عہدہدار ۔ تصویر: ایکس۔ تصویر: ایکس
فلسطینی مزاحمتی گروپ حماس نے کہا کہ اسرائیل غزہ کی پٹی میں ایمرجنسی کمیٹی کی تحلیل کے بعد وہاں ’’انتظامی خلا‘‘ پیدا کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔اپنے ایک بیان میں گروپ نے کہا کہ وہ غزہ جنگ بندی معاہدے کی تمام شقوں پر عملدرآمد کے لیے ’’مکمل طور پر پرعزم‘‘ہے، جب تک کہ علاقے کی انتظامیہ مکمل طور پر نیشنل کمیٹی فار دی ایڈمنسٹریشن آف غزہ کو منتقل نہیں ہو جاتی۔حماس نے کہا کہ ایمرجنسی کمیٹی کی تحلیل اور عبوری حکومت کے نگران سربراہ محمد عبدالخالق الفرہ کا استعفیٰ انتظامی اور قانونی انتظامات کا حصہ تھے، جن کا تعلق ذمہ داریوں کو نیشنل کمیٹی کو سونپنے سے ہے۔گروپ نے اسرائیل پر الزام لگایا کہ وہ معاہدے پر عملدرآمد میں رکاوٹ ڈالنے اور غزہ میں انتظامی خلا پیدا کرنے کی کوشش کر رہا ہے تاکہ فلسطینیوں کے مصائب کو مزید گہرا کیا جا سکے اور علاقے میں معمول کی زندگی بحال کرنے کی کوششوں کو کمزور کیا جا سکے۔
یہ بھی پڑھئے: حماس کا غزہ میں اپنی حکومت کے خاتمے کا اعلان
دریں اثناء حماس نے ثالث ممالک سے مطالبہ کیا کہ وہ اسرائیل پر فوری دباؤ ڈالیں تاکہ وہ معاہدے میں رکاوٹ ڈالنا بند کرے اور نیشنل کمیٹی فار دی ایڈمنسٹریشن آف غزہ کو غزہ میں داخل ہونے اور اپنا کام شروع کرنے کی اجازت دے۔یہ بات قاہرہ میں جاری اجلاسوں کے دوران سامنے آئی، جن کا مقصد جنگ بندی معاہدے پر عملدرآمد مکمل کرنا اور اس کے اگلے مرحلے پر بات چیت کو آگے بڑھانا ہے۔پیر کے اوائل میں غزہ کے گورنمنٹ میڈیا آفس نے ایمرجنسی کمیٹی کی تحلیل اور اس کے عبوری چیئرمین کے استعفیٰ کا اعلان کیا، جو انتظامی منتقلی میں سہولت فراہم کرنے کے انتظامات کا حصہ تھے۔ تاہم اسرائیلی وزیر خارجہ گیڈون سائر نے بعد ازاں اس اقدام کو ’’دھوکا‘‘ قرار دیتے ہوئے کہا کہ حماس، لبنان میں حزب اللہ کی طرز پر غزہ میں فوجی اثر و رسوخ برقرار رکھنا چاہتا ہے۔
یہ بھی پڑھئے: بشار الاسد حکومت کے حامی مفتی اعظم احمد بدرالدین عدالت کے کٹہرے میں
واضح رہے کہ ۲۵؍ستمبر۲۰۲۵ء کو امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے غزہ میں جنگ ختم کرنے کے لیے ۲۰؍نکاتی منصوبہ کا اعلان کیا تھا، جس میں اسرائیلی یرغمالیوں کی رہائی، اسرائیلی فوج کا جزوی انخلا، ایک ٹیکنوکریٹک حکومت کی تشکیل، ایک بین الاقوامی استحکام فوج کی تعیناتی، اور حماس کے تخفیف اسلحہ شامل تھے۔چنانچہ اس منصوبے کا پہلا مرحلہ۱۰؍ اکتوبر۲۰۲۵ء کو نافذ العمل ہوا۔ جبکہ حماس کا کہنا ہے کہ اس نے ابتدائی مرحلے میں اپنی ذمہ داریاں پوری کیں، لیکن اسرائیل اپنے وعدوں کو پورا کرنے میں ناکام رہا ہے اور اس نے روزانہ حملے جاری رکھے ہوئے ہیں۔مزید برآں اسرائیل نے اکتوبر۲۰۲۳ء سے غزہ میں جاری جارحیت میں۷۳؍ ہزار سے زائد افراد کو شہید اور۱۷۳۰۰۰؍ سے زائد کو زخمی کیا ہے۔