Inquilab Logo Happiest Places to Work

حماس کا تخفیف اسلحہ مسترد، اسرائیل پر جنگ بندی خلاف ورزیوں کا الزام

Updated: April 06, 2026, 8:13 PM IST | Gaza

حماس کے مسلح ونگ کے ترجمان ابو عبیدہ نے کہا ہے کہ تخفیف اسلحہ پر بات چیت اس وقت تک ممکن نہیں جب تک اسرائیل غزہ سے مکمل انخلا نہیں کرتا۔ انہوں نے امریکی صدر ٹرمپ کے مجوزہ منصوبے کے تحت اس شرط کو ’’نسل کشی جاری رکھنے کی کوشش‘‘ قرار دیا۔ دوسری جانب غزہ میں جنگ بندی کی مبینہ خلاف ورزیوں کے باعث ہلاکتوں میں اضافہ رپورٹ کیا گیا ہے، جس سے مذاکرات مزید پیچیدہ ہو گئے ہیں۔

Abu Ubaidah. Photo: X
ابو عبیدہ۔ تصویر: ایکس

غزہ میں جاری کشیدگی کے درمیان حماس کے مسلح ونگ نے تخفیف اسلحہ کے مطالبات کو سختی سے مسترد کرتے ہوئے اسے فلسطینی عوام کے خلاف جاری کارروائیوں کو طول دینے کی کوشش قرار دیا ہے۔ حماس کے ترجمان ابو عبیدہ نے ایک ٹیلی ویژن بیان میں کہا کہ ہتھیار ڈالنے کا معاملہ اس انداز میں اٹھانا ’’ناقابل قبول‘‘ ہے، خاص طور پر اس وقت جب جنگ بندی کے پہلے مرحلے پر مکمل عمل درآمد نہیں ہوا۔ انہوں نے واضح کیا کہ اسرائیل کی جانب سے تخفیف اسلحہ کی شرط دراصل ایک ’’انتہائی خطرناک‘‘ اقدام ہے، جس کا مقصد فلسطینی مزاحمت کو کمزور کرنا ہے۔ ان کے مطابق ’’یہ مطالبات ہمارے لوگوں کے خلاف نسل کشی جاری رکھنے کی کھلی کوشش ہیں، جسے کسی صورت قبول نہیں کیا جائے گا۔‘‘

یہ بھی پڑھئے: ایران کا سخت ردعمل، صحت کے شعبے پر حملوں کی مذمت، عالمی خدشات

یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب امریکی صدر ٹرمپ کے مجوزہ ’’بورڈ آف پیس‘‘ منصوبے کے تحت جنگ بندی کو مستحکم کرنے کے لیے مذاکرات جاری ہیں۔ اس منصوبے میں حماس کی تخفیف اسلحہ ایک مرکزی نکتہ تصور کیا جا رہا ہے، تاہم یہی معاملہ فریقین کے درمیان سب سے بڑی رکاوٹ بن گیا ہے۔ ذرائع کے مطابق حماس نے ثالثوں کو واضح طور پر آگاہ کیا ہے کہ وہ اس وقت تک تخفیف اسلحہ پر بات چیت نہیں کرے گا جب تک اسرائیل مکمل طور پر غزہ سے انخلا کی ضمانت نہیں دیتا۔ اس مؤقف نے مذاکراتی عمل کو مزید پیچیدہ بنا دیا ہے، جہاں دونوں فریق بنیادی شرائط پر متفق نظر نہیں آ رہے۔
دوسری جانب زمینی صورتحال بھی بدستور کشیدہ ہے۔ غزہ کے محکمہ صحت کے مطابق ۱۰؍ اکتوبر کے بعد سے جنگ بندی کی مبینہ خلاف ورزیوں میں تقریباً ۷۰۰؍ افراد جاں بحق اور ۱۸۷۶؍ سے زائد زخمی ہو چکے ہیں۔ ان اعداد و شمار نے جنگ بندی کے مؤثر ہونے پر سوالات اٹھا دیے ہیں۔ ابو عبیدہ نے اپنے بیان میں ثالثوں پر زور دیا کہ وہ اسرائیل پر دباؤ ڈالیں تاکہ وہ پہلے مرحلے کے تحت کیے گئے وعدوں پر عمل درآمد کرے، اس سے قبل کہ کسی دوسرے مرحلے کی بات چیت شروع کی جائے۔ انہوں نے کہا کہ ’’معاہدے کو کمزور کرنے والا فریق دشمن ہے‘‘، اور موجودہ تعطل کی ذمہ داری اسرائیل پر عائد کی۔

یہ بھی پڑھئے: ایرانی کمانڈر ہلاک، اسرائیل کے اخراجات بڑھے، سیٹیلائٹ نگرانی محدود

یاد رہے کہ غزہ میں جاری تنازع گزشتہ دو برسوں سے شدید نوعیت اختیار کر چکا ہے، جس میں ہزاروں افراد ہلاک اور لاکھوں متاثر ہوئے ہیں۔ عالمی برادری کی جانب سے بارہا جنگ بندی اور انسانی امداد کی اپیلوں کے باوجود زمینی حقیقت میں خاطر خواہ تبدیلی نہیں آئی۔ موجودہ صورتحال اس بات کی عکاسی کرتی ہے کہ جنگ بندی کے باوجود بنیادی تنازعات حل نہیں ہوئے، اور تخفیف اسلحہ جیسے حساس معاملات نے مذاکرات کو مزید مشکل بنا دیا ہے۔ اگر فریقین کے درمیان اعتماد بحال نہ ہوا تو یہ بحران ایک بار پھر مکمل تصادم میں تبدیل ہو سکتا ہے۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK