Updated: April 06, 2026, 9:06 PM IST
| Mumbai
مہاراشٹر حکومت نے عالمی حالات کے باوجود ریاست میں پیٹرول، ڈیزل اور ایل پی جی کی بلا رکاوٹ فراہمی کا یقین دلاتے ہوئے بلیک مارکیٹنگ کے خلاف سخت کارروائی کا اعلان کیا ہے، جبکہ ہزاروں چھاپوں کے دوران بڑی مقدار میں گیس ضبط کر کے درجنوں افراد کو گرفتار کیا گیا ہے۔
گیس سپلائی۔ تصویر:آئی این این
مہاراشٹر حکومت نے عالمی حالات کے باوجود ریاست میں پیٹرول، ڈیزل اور ایل پی جی کی بلا رکاوٹ فراہمی کا یقین دلاتے ہوئے بلیک مارکیٹنگ کے خلاف سخت کارروائی کا اعلان کیا ہے، جبکہ ہزاروں چھاپوں کے دوران بڑی مقدار میں گیس ضبط کر کے درجنوں افراد کو گرفتار کیا گیا ہے۔
حکومت نے بی پی سی ایل، آئی او سی ایل اور ایچ پی سی ایل جیسی آئل مارکیٹنگ کمپنیوں کے ساتھ مل کر واضح کیا ہے کہ مشرق وسطیٰ میں جاری کشیدگی کے باوجود سپلائی چین پر کڑی نظر رکھی جا رہی ہے تاکہ کسی قسم کی کمی پیدا نہ ہو۔ اعداد و شمار کے مطابق روزانہ تقریباً۱۸۵۰۰؍ کلو لیٹر پیٹرول اور۴۰؍ہزار کلو لیٹر ڈیزل فراہم کیا جا رہا ہے، جبکہ ریاست بھر میں ۲۴؍ ڈپو اور۸۱۲۶؍ پیٹرول پمپ اس نظام کو سہارا دے رہے ہیں۔ گھریلو ایل پی جی کی سپلائی بھی بکنگ کے مطابق جاری ہے، جس کے لیے ۲۳؍ بوتلنگ پلانٹس تقریباً ۵ء۳؍ کروڑ صارفین کو خدمات فراہم کر رہے ہیں۔
حکومت نے موجودہ صورتحال میں وسائل کی ترجیحی تقسیم بھی مقرر کی ہے، جس کے تحت اسپتالوں، تعلیمی اداروں، یتیم خانوں اور شمشان گھاٹوں کو۱۰۰؍ فیصد گیس فراہم کی جا رہی ہے جبکہ دفاع، پولیس اور ریلوے جیسے شعبوں کو ۷۰؍ فیصد اور صنعتی شعبے کو۲۰؍ فیصد سپلائی دی جا رہی ہے۔ مرکزی حکومت کی جانب سے۳۷۴۴؍ کلو لیٹر مٹی کا تیل بھی فراہم کیا گیا ہے، جسے فی خاندان ۳؍ لیٹر کے حساب سے سرکاری راشن دکانوں کے ذریعے تقسیم کیا جائے گا۔
یہ بھی پڑھئے:اکشے کمار کی فلم ’’بھوت بنگلہ‘‘ کا ٹریلر ریلیز، فلم۱۷؍ اپریل کو آئے گی
بلیک مارکیٹنگ کے خلاف کارروائی کے تحت ۶؍ اپریل ۲۰۲۶ء تک ۱۴۳۲۹؍ معائنہ کارروائیاں کی گئیں،۳۶۲۸؍ سلنڈر اور۷۱۵۶۵؍ کلوگرام سے زائد ایل پی جی ضبط کی گئی، جبکہ ۵۳؍ مقدمات درج کر کے ۳۶؍ افراد کو گرفتار کیا گیا۔ ضبط شدہ گیس اور گاڑیوں کی مجموعی مالیت تقریباً ۸۵ء۲۳؍ کروڑ روپے بتائی گئی ہے۔
یہ بھی پڑھئے:ایف اے کپ: گول کیپر لیوکس پیری کی بدولت لیڈز یونائیٹڈ سیمی فائنل میں داخل
حکومت نے سلنڈر پر انحصار کم کرنے کے لیے پائپڈ نیچرل گیس (پی این جی) کے منصوبوں کو بھی تیز کر دیا ہے، جس کے تحت ۲۷؍ مارچ ۲۰۲۶ء کو زیر التوا درخواستوں کو منظوری دی گئی اور اب شہری اداروں کو نئی منظوری ۲۴؍ گھنٹوں میں دینا لازمی قرار دیا گیا ہے، جبکہ متعلقہ اداروں کو۲۴؍ گھنٹے کام کرنے کی اجازت بھی دے دی گئی ہے۔ حکام نے شہریوں سے اپیل کی ہے کہ وہ گھبراہٹ میں خریداری سے گریز کریں۔