سلووینیا نے سپین کے ساتھ مل کر یورپی یونین سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ بین الاقوامی فوجداری عدالت (آئی سی سی) اور اقوام متحدہ کی آزادی کے ساتھ غزہ میں اسرائیلی نسل کشی کو روکنے کی ان کوششوں کا تحفظ کرے۔
EPAPER
Updated: May 08, 2026, 3:08 PM IST | Ljubljana
سلووینیا نے سپین کے ساتھ مل کر یورپی یونین سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ بین الاقوامی فوجداری عدالت (آئی سی سی) اور اقوام متحدہ کی آزادی کے ساتھ غزہ میں اسرائیلی نسل کشی کو روکنے کی ان کوششوں کا تحفظ کرے۔
سلووینیا کے وزیر اعظم رابرٹ گولوب نے اسپین کے وزیر اعظم پیڈرو سانچیز کی اپیل کی حمایت کرتے ہوئے کہا کہ ’’یورپ کا اب تک کا ردعمل صورت حال کی سنگینی کے مطابق نہیں رہا۔ گولوب نے سوشل میڈیا ایکس پر ایک پوسٹ میں کہا کہ ’’ہمیں فوری عمل کرنا ہوگا کیونکہ بنیادی یورپی اقدار کی کوئی قیمت نہیں لگائی جا سکتی۔ بین الاقوامی عدالتوں کی آزادی پر کوئی سمجھوتہ نہیں ہونا چاہئے۔‘‘بعد ازاں پیڈرو سانچیز نے یورپی کمیشن سے بلاکنگ اسٹیٹیوٹ فعال کرنے کی اپیل کی تاکہ بین الاقوامی فوجداری عدالت اور اقوام متحدہ کی آزادی اور غزہ میں نسل کشی ختم کرنے کی ان کی کارروائیوں کا تحفظ کیا جا سکے۔ انہوں نے کہا کہ ’’بین الاقوامی انصاف کا دفاع کرنے والوں پر پابندیاں لگانا پورے انسانی حقوق کے نظام کو خطرے میں ڈال دیتا ہے۔‘‘سانچیز نے مزید کہا کہ ’’ جب انسانی حقوق پامال ہورہے ہوں تو یورپین یونین کو خاموش نہیں بیٹھنا چاہئے۔
یہ بھی پڑھئے: صمود فلوٹیلا: اسرائیلی حراست میں موجود کارکن تھیاگو اپنی والدہ کی موت سے بے خبر
واضح رہے کہ بلاکنگ ا سٹیٹیوٹ یورپی یونین کا ایک قانون ہے جو یورپی کمپنیوں کو امریکی پابندیوں کی تعمیل سے روکتا ہے۔ یاد رہے کہ اسرائیل کے غزہ میں نسل کشی کے ارتکاب کے سبب بین الاقوامی عدالت نے اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو کے خلاف گرفتاری وارنٹ جاری کئے تھے، جس کے جواب میں امریکہ نے گزشتہ سال آئی سی سی پر پابندیاں عائد کی تھیں۔ ان پابندیوں کا مقابلہ کرنے کیلئے گولوب نے بلاکنگ ا سٹیٹیوٹ پر عمل کرنے کا مطالبہ کیا۔