حکومت پر کانگریس کی سخت تنقید، کہا: اس کارروائی کے ذریعہ یہ پیغام دینے کی کوشش کی جارہی ہے کہ دلتوں کے حق میں کوئی آواز بلند ہوگی تو اس پر اسی طرح کارروائی ہوگی۔
EPAPER
Updated: September 01, 2026, 3:53 PM IST | Ahmadullah Siddiqui | New Delhi
حکومت پر کانگریس کی سخت تنقید، کہا: اس کارروائی کے ذریعہ یہ پیغام دینے کی کوشش کی جارہی ہے کہ دلتوں کے حق میں کوئی آواز بلند ہوگی تو اس پر اسی طرح کارروائی ہوگی۔
کانگریس نے پارٹی صدر ملکا رجن کھرگے کے پروگرام کے بعد ہلدوانی میں رام لیلا گراؤنڈ کے اسٹیج کا’ شدھی کرن ‘کرنے کا معاملہ اٹھانے پر راہل گاندھی کے خلاف درج ایف آئی آر پر سخت برہمی کا ظہار کیا ہے۔ اس تعلق سے کانگریس نے مختلف ریاستوں میں احتجاجی مارچ کیا۔ متعدد ریاستوں میں اور ضلع ہیڈکوارٹرز پر کانگریس کے لیڈروں اور کارکنوں نےبڑے پیمانے پر مظاہرہ کیا اور بی جے پی کی انتقامی سیاست کےخلاف آواز بلند کی۔خیال رہے کہ راہل گاندھی کے خلاف امیت کمار نامی شری رام سینا دھرما رتھ سیوا نیاس کے ایک رکن نے شکایت درج کرائی ہے جس میں ایس سی ؍ایس ٹی ایکٹ کااطلاق بھی کیا گیا ہے۔ ایف آئی آر میں دعویٰ کیا گیا کہ راہل گاندھی نے حقائق کی تصدیق کئے بغیر ہون کی رسم کوچھوا چھوت اور ایس سی ایس ٹی کے خلاف ظلم کے طور پر غلط بیان کیا۔
یہ بھی پڑھئے: اسلام کی تعریف پر کرناٹک کے وزیر کو بھگوا عناصر کی برہمی کا سامنا
کانگریس کے جنرل سکریٹری کے سی وینوگوپال نے اس پر سخت ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے کہاکہ راہل گاندھی کے خلاف ایف آئی آر لوک سبھا میں اپوزیشن لیڈر کو نشانہ بنانے کیلئے ریاستی مشینری کا بے شرمی سے استعمال ہے۔ انہوں نے اس کے خلاف پارٹی کی ریاستی اور ضلعی اکائیوں کو ریاست اور ضلع ہیڈکوارٹرز پراحتجاجی مارچ نکالنےکی کال دی تھی جس کے جواب میں متعدد ریاستوں میں کانگریس کارکنوں نے ریلی نکالی۔وینو گوپال نے پارٹی لیڈروں سے کہاتھا کہ وہ اس انتقامی سیاست کی شدید مذمت کریں اور اتراکھنڈ میں قصوروار بی جے پی کارکنوں کے خلاف فوری قانونی کارروائی کا مطالبہ کریں۔ انہوں نے کہا کہ آئین میں درج سماجی انصاف کی اقدار پر حملہ کرنے والوں کے خلاف پارٹی کی لڑائی جاری رکھنی چاہئے۔
یہ بھی پڑھئے: سی آر پی ایف کی نظر میں پیلٹ گن کا استعمال حقوق انسانی کے خلاف نہیں
کے سی وینوگوپال نے کہا کہ پارٹی اکائیوں کو زیادہ سے زیادہ متحرک ہونے اورایک غیرمتزلزل پیغام بھیجنے کی ضرورت ہے کہ انڈین نیشنل کانگریس ریاستی سرپرستی میں انتقامی کارروائی سے خوفزدہ نہیں ہوگی اور سماجی انصاف، آئینی مساوات، اور ہر شہری کے وقار کیلئے انتھک جدوجہد کرے گی۔انہوں نے کہا کہ بی جے پی کا اس ذات پات پر مبنی رویے کا کھلم کھلا دفاع اور اپوزیشن لیڈر کو نشانہ بنانے کیلئے ریاستی مشینری کوبے شرمی سے ہتھیار بنانا واضح طور پر ثابت کرتا ہے کہ وہ آج سماجی ناانصافی کو تحفظ فراہم کرنے والی ہے۔ انھوں نے یہ ثابت کر دیا ہے کہ وہ ہر اس شخص کو دبانے کیلئے ریاست کی پوری طاقت کو استعمال کر دیں گے جو ذات پات کے خلاف بات کرنے کی جرأت کرے گا۔
یہ بھی پڑھئے: اے آئی کے استعمال میں جین زی سب سے آگے مگر مستقبل کے اثرات سے فکرمند بھی:رپورٹ
’بی جے پی نے خود کو دلت مخالف ثابت کردیا‘
کانگریس لیڈر رندیپ سرجے والا اور جے رام رمیش نے بھی ایف آئی آرکیلئے بی جے پی پر زور دار حملہ بولا۔سرجے والا نے کہا کہ ایف آئی آر درج کر کے بزدل بی جے پی حکومت نے اپنا اصل چہرہ ظاہر کر دیا ۔ ملک میں اپوزیشن لیڈر اور کانگریس صدرملکا رجن کھرگے نے پارلیمنٹ کے اندر اور باہر کھلے عام کہا کہ انہیں کس طرح اپنی تقریر کے بعد اسٹیج کا شدھی کرن کئے جانےکے واقعہ سے گہری تکلیف پہنچی ہے۔ اسی طرح جے رام رمیش نے کہا کہ راہل گاندھی نے اپنی پریس کانفرنس میں دلتوں کے ساتھ ہونے والی ناانصافی، تذلیل اور امتیازی سلوک کا مسئلہ اٹھایا تھا اور بی جے پی اورآر ایس ایس نے انہیں درست ثابت کرنے میں۲۴؍گھنٹے سے بھی کم وقت لیا۔جے رام رمیش نے مزید کہا کہ یہی وہ ذہنیت ہےجس کے سامنے بابا صاحب کا آئین سب سے بڑی رکاوٹ ہے۔اسلئے آئین انہیں کھٹکتا ہے اور وہ اسے تبدیل کرنا چاہتے ہیں۔یہ سب توجہ ہٹانے اور آوازوں کو دبانے کی کوشش ہے۔ جو لوگ چھوا چھوت پر عمل کرتے ہیں اور شدھی کر ن کے نام پرکھرگے جی کی توہین کی ان کے خلاف قانونی کارروائی ہونی چاہیے۔