۲۵۔۲۰۲۴ء میں صحت بیمہ کے پریمیم کی رقم ۱ء۲؍ لاکھ کروڑ سے تجائوز کر گئی۔
EPAPER
Updated: March 27, 2026, 11:13 AM IST | Mumbai
۲۵۔۲۰۲۴ء میں صحت بیمہ کے پریمیم کی رقم ۱ء۲؍ لاکھ کروڑ سے تجائوز کر گئی۔
ملک کا صحت بیمہ شعبہ سالانہ بنیاد پر تقریباً نو فی صد کی مضبوط شرح سے ترقی کر رہا ہے۔ وزارتِ خزانہ کے مطابق مالی سال ۲۵۔۲۰۲۴ء میں مجموعی صحت بیمہ پریمیم کی رقم ۱ء۲؍ لاکھ کروڑ روپے سے تجاوز کر گئی ۔ جمعرات کو جاری ایک اعلامیے کے مطابق یہ اضافہ بڑھتی ہوئی بیداری، صحت کی دیکھ بھال کے مالی وسائل تک بہتر رسائی اور طبی اخراجات کے خلاف مالی تحفظ کی بڑھتی ہوئی مانگ کو ظاہر کرتا ہے۔پالیسی ہولڈرز کو بروقت سہولت فراہم کرنے کیلئے انشورنس ریگولیٹری اینڈ ڈیولپمنٹ اتھاریٹی آف انڈیا (آئی آر ڈی اے آئی) نے کیش لیس صحت بیمہ دعوؤں کی کارروائی کیلئے مخصوص وقت کی حد مقرر کی ہے۔ آئی آر ڈی اے آئی کی ہدایت کے مطابق کیش لیس پری- آتھورائزیشن ایک گھنٹے کے اندر اور حتمی منظوری تین گھنٹے کے اندر دی جانی چاہئے۔
یہ بھی پڑھئے: یکم اپریل سے مالیاتی اور روزمرہ سے وابستہ قوانین میں تبدیلی
ان وقت کی حدود کا مقصد تاخیر کو کم کرنا اور مریضوں کو بروقت طبی سہولت کی فراہمی کو یقینی بنانا ہے ۔ آئی آر ڈی اے آئی کے ۲۰۲۴ء کے ضوابط میں یہ بھی طے کیا گیا ہے کہ بیمہ مصنوعات کی قیمتوں کا تعین تمام متعلقہ خطراتی عوامل کو مدنظر رکھتے ہوئے مناسب انداز میں کیا جائے ۔ اس کے ساتھ مقررہ ایکچوئری (بیمہ ماہر) کے ذریعے مستند ڈیٹا اور صارفین کی رائے کی بنیاد پر وقتاً فوقتاً جائزہ بھی لیا جائے۔۲۳۔۲۰۲۲ء، ۲۴۔۲۰۲۳ء اور ۲۵۔ ۲۰۲۴ء میں دعوؤں کے تصفیے کی شرح ۸۵ء۶۶؍فی صد، ۸۲ء۴۶؍فی صد اور ۸۷ء۵۰؍ فی صد رہی۔