ایران میں جنگ سے متاثرہ شہریوں کی مدد کیلئے کشمیر کے مرد و خواتین سمیت بچے بھی آگے آئے۔ خواتین نے اپنے سونے کے زیورات، تانبے کے برتن اور گھر کا سامان عطیہ کیا۔ کچھ خاندانوں نے مویشی عطیہ کئے، جبکہ بچوں نے اپنی بچت اور جیب خرچ تک پیش کر دیا۔
EPAPER
Updated: March 23, 2026, 9:56 PM IST | New Delhi
ایران میں جنگ سے متاثرہ شہریوں کی مدد کیلئے کشمیر کے مرد و خواتین سمیت بچے بھی آگے آئے۔ خواتین نے اپنے سونے کے زیورات، تانبے کے برتن اور گھر کا سامان عطیہ کیا۔ کچھ خاندانوں نے مویشی عطیہ کئے، جبکہ بچوں نے اپنی بچت اور جیب خرچ تک پیش کر دیا۔
کشمیر کے مختلف علاقوں میں جنگ زدہ ایران میں جاری بحران سے متاثرہ شہریوں کی مدد کیلئے بڑے پیمانے پر عطیات جمع کرنے کی مہم شروع ہے۔ اس کے تحت، بڑی تعداد میں کشمیری، ایرانی عوام کے ساتھ اظہارِ یکجہتی اور ان کی مدد کیلئے نقد رقم، سونے، تانبے کے برتن اور دیگر قیمتی اشیاء عطیہ کررہے ہیں۔ عید الفطر کے دوسرے دن اس مہم میں تیزی دیکھی گئی۔ اس دن سیکڑوں نوجوان رضاکاروں نے شیعہ اکثریتی علاقوں میں گھر گھر جا کر عطیات جمع کرنے کی شروعات کی۔ حکام نے بتایا کہ یہ مہم خاص طور پر ضلع بڈگام اور بارہمولہ کے ساتھ رعناواری جیسے علاقوں میں بہت فعال رہی۔
رپورٹس کے مطابق، اس مہم میں مرد و خواتین سمیت بچے بھی حصہ لے رہے ہیں۔ کشمیری خواتین نے اپنے سونے کے زیورات، تانبے کے برتن اور گھر کا سامان عطیہ کیا۔ کچھ خاندانوں نے مویشی عطیہ کئے، جبکہ بچوں نے اپنی بچت اور جیب خرچ تک پیش کر دیا۔ مسجد امام زمان میں رضاکاروں نے عطیات جمع کرنے کیلئے اسٹالز لگانے کا اہتمام کیا۔ مقامی رہائشی محسن علی نے کہا کہ ”ہماری مائیں اور بہنیں سونے چاندی کے زیورات، تانبا اور نقد رقم دے رہی ہیں تاکہ ہم ایران کی مدد کرسکیں۔“
Even Kashmiri children are offering their piggy banks as gifts to Iran.
— Iran in India (@Iran_in_India) March 22, 2026
God bless you. pic.twitter.com/OfI6w4rNUb
نئی دہلی میں ایرانی سفارت خانے نے سوشل میڈیا پر کشمیری مسلمانوں کی اس حمایت کا اعتراف کرتے ہوئے جمع شدہ عطیات کی تصاویر شیئر کیں اور شکریہ ادا کیا۔ سفارت خانے نے اس بے لوث انسانی ہمدردی کے جذبے پر لوگوں کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ ”یہ مہربانی کبھی فراموش نہیں کی جائے گی۔“
۹۰؍ سالہ خاتون نے اپنی سونے کی انگوٹھی عطیہ کی
سب سے زیادہ متاثر کن عطیہ کشمیر کی ایک ۹۰ سالہ خاتون کی طرف سے سامنے آیا، جنہوں نے اپنی سونے کی انگوٹھی ایرانیوں کی مدد کیلئے پیش کی جو انہوں نے کئی دہائیوں سے سنبھال کر رکھی تھی۔ ان کے اس عمل کی کشمیریوں اور سوشل میڈیا صارفین کی جانب سے خوب ستائش کی جارہی ہے۔
یہ بھی پڑھئے: تہران پر نئے حملے، ایران کا جوابی وار، شہری ردعمل اور ہتھیاروں پر سوالات
ایک اور واقعے میں، ایک کشمیری بیوہ نے ایرانی عوام کی مدد کیلئے وہ سونا عطیہ کیا جو انہوں نے تقریباً ۲۸ سال سے اپنے مرحوم شوہر کی نشانی کے طور پر رکھا ہوا تھا۔ ایرانی سفارت خانے نے ان کے اس جذبے کو نمایاں کرتے ہوئے کہا کہ ”خالص جذبات“ پر مبنی ایسے اقدامات مشکل وقت میں ہماری ڈھارس بندھاتے ہیں۔
A respected sister from Kashmir, donated the gold kept as a memento of her husband who passed away 28 years ago with a heart full of love and solidarity for the people of #Iran.
— Iran in India (@Iran_in_India) March 22, 2026
Your tears and pure emotions are the greatest source of comfort for the people of Iran and will never… pic.twitter.com/0zFcJwGhj0
ایرانی سفارت خانے کے ذریعے عطیات کو ایران بھیجا جائے گا
امدادی کوششوں کا یہ سلسلہ ایرانی سفارت خانے کی جانب سے ۱۴ مارچ کو جاری کردہ اپیل کے بعد شروع ہوا جس میں انسانی ہمدردی کے عطیات کیلئے بینک اکاؤنٹ کی تفصیلات شیئر کی گئی تھیں۔ تاہم، بعد ازاں مشن نے بینکنگ چینلز کے ذریعے فنڈز وصول کرنے میں لاجسٹک چیلنجز کا حوالہ دیا اور لوگوں کی حوصلہ افزائی کی کہ وہ نئی دہلی میں واقع سفارت خانے کے دفتر میں براہِ راست نقد عطیات جمع کرائیں۔
We will never forget your kindness and humanity.
— Iran in India (@Iran_in_India) March 22, 2026
Thank you, India. https://t.co/hiYnIEfN3D
حکام کا کہنا ہے کہ کشمیر سے جمع ہونے والی تمام اشیاء اور فنڈز کو سفارت خانے کے ذریعے ایران بھیجا جائے گا تاکہ اسے متاثرہ اور مستحق شہریوں تک پہنچایا جاسکے۔ سفارت خانے نے اس امداد کیلئے اپنی ستائش کا اعادہ کرتے ہوئے کہا کہ ”ہم آپ کی ہمدردی اور انسانیت کو کبھی نہیں بھولیں گے۔ شکریہ، انڈیا۔“