Inquilab Logo Happiest Places to Work

یورپی ممالک میں گرمی کا قہر، تمام ریکارڈ ٹوٹ گئے، نظام زندگی متاثر

Updated: June 29, 2026, 9:18 AM IST | Berlin

فرانس میں ایک ہزار سے زیادہ اموات ، ریلوے نظام اور دیگر عوامی خدمات بھی متاثر۔جرمنی، ڈنمارک،چیک جمہوریہ اور سوئزرلینڈ سمیت کئی ممالک میں درجہ حرارت کے نئے ریکارڈ قائم۔

A boy takes a dip in a fountain to cool off from the heat in Vilnius, Lithuania. (Photo: AP/PT)
لتھوانیا کے شہر ولنیئس میں ایک لڑکا گرمی سے بچنے کیلئے فوارے میں نہاتے ہوئے۔ (تصویر: اے پی / پی ٹی)

یورپی ممالک اس وقت قیامت خیز گرمی کی غیر معمولی لہر کی زد میں ہیں  جہاں جرمنی، ڈنمارک،چیک جمہوریہ   اور سوئزرلینڈ سمیت کئی ممالک میں درجہ حرارت کے نئے ریکارڈ قائم ہو گئے ہیں۔غیر ملکی خبر رساں ادارے کی رپورٹ کے مطابق سنیچر کو یورپ کے شمالی اور وسطی علاقوں میں بعض مقامات پر درجہ حرارت ۴۰؍ ڈگری سینٹی گریڈ سے تجاوز کرگیا، متعدد ممالک میں درجہ حرارت کے ریکارڈ ٹوٹ گئے۔جرمنی، ڈنمارک اور چیک جمہوریہ   میں تاریخ کے بلند ترین درجہ حرارت کے ابتدائی ریکارڈ رپورٹ ہوئے جبکہ سوئزر لینڈ میں جون  مہینے کا نیا ریکارڈ قائم ہوا ہے۔

جرمنی کے محکمہ موسمیات کے مطابق مشرقی ریاست سیکسونی انہالٹ کے علاقے موکرن ڈریوٹز میں درجہ حرارت۴۱ء۵؍ ڈگری سینٹی گریڈ ریکارڈ کیا گیا جو ایک روز قبل قائم ہونے والے ریکارڈ سے بھی زیادہ ہے، ڈنمارک میں ۱۸۷۴ء  سے جاری موسمی ریکارڈ کے دوران پہلی بار درجہ حرارت۳۷؍ ڈگری سینٹی گریڈ تک پہنچ گیا۔

یہ بھی پڑھئے: امریکی جنگی جرائم کیخلاف قانونی چارہ جوئی کا حکم

فرانس میں گرمی کی لہر کے باعث درجنوں افراد کے ہلاک ہونے کی اطلاعات موصول ہوئی ہیں۔ شدید درجہ حرارت نے ریلوے نظام، بجلی کی پیداوار اور دیگر عوامی خدمات کو بھی متاثر کیا ہے جبکہ کئی علاقوں میں تعلیمی سرگرمیاں معطل اور بیرونی تقریبات ملتوی کر دی گئی ہیں۔فرانسیسی محکمہ صحت کے حکام نے اتوار کو کہا ہے کہ گرمی کی ریکارڈ توڑ لہر کے دوران توقع سے ایک ہزار زیادہ اموات ہوئی ہیں جو مغربی یورپ کے بیشتر حصوں میں کئی دنوں سے شدید تپش کا باعث ہے۔پبلک ہیلتھ فرانس نے ایک بیان میں کہاکہ ۲۴؍جون سے گزشتہ مہینوں میں ریکارڈ کی گئی اموات کے مقابلے میں تقریباً ایک ہزار اضافی اموات   دیکھی گئی ہیں۔‘‘ایجنسی نے یہ بھی کہاکہ گرمی کے ریڈ الرٹ والے علاقے خاص طور پر بری طرح متاثر ہوئے اور۸۵؍ فیصد اموات۶۵؍سال یا اس سے زیادہ عمر کے لوگوں کی تھیں۔ سب سے زیادہ اضافہ گھر میں ہلاک شدہ لوگوں کی تعداد میں ہوا، خاص طور پر الی ڈی فرانس کے علاقے میں جس میں پیرس اور اس کے مضافات شامل ہیں۔گرمی کی لہر کے دوران ۲۴؍گھنٹوں کے دوران پیرس میں۱۰۹؍ اموات ریکارڈ کی گئی ہیں۔

یہ بھی پڑھئے: دوحہ: ایک چور نے فلسطینی خاتون کا چوری شدہ بیگ معافی نامہ کے ساتھ واپس کردیا

اٹلی کی وزارت صحت نے میلان، روم، ٹورین، وینس، فلورنس اور جینوا سمیت۱۸؍ شہروں میں سنیچر اور اتوار کیلئے ریڈ الرٹ جاری کیا تھا۔ ملک کے سب سے بڑے دریا پو میں پانی کی سطح نمایاں حد تک کم ہو گئی ہے جس سے زرعی شعبے اور مقامی ماحولیاتی نظام کو خطرات لاحق ہو گئے ہیں۔

ماہرین کے مطابق یہ غیر معمولی موسمی صورتحال ’اومیگا بلاک‘ نامی فضائی نظام کے باعث پیدا ہوئی ہے جس میں گرم ہوا کا ایک بڑا دباؤ طویل عرصے تک کسی خطے پر برقرار رہتا ہے اور درجہ حرارت معمول سے کہیں زیادہ بڑھ جاتی ہے۔موسمیات کے محکموں نے پیش گوئی کی ہے کہ ہفتے کے اختتام اور آئندہ چند روز کے دوران بعض علاقوں میں گرج چمک کے ساتھ بارش کا امکان ہے۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK