مشرقِ وسطیٰ میں امریکی فوجی ٹھکانوں پر ایران کے حملوں میں عمارتیں، گاڑیاں اور طیارے تباہ۔
EPAPER
Updated: September 17, 2026, 1:25 PM IST | Agency | Washington
مشرقِ وسطیٰ میں امریکی فوجی ٹھکانوں پر ایران کے حملوں میں عمارتیں، گاڑیاں اور طیارے تباہ۔
سی بی ایس نیوز کے مطابق ایرانی میزائل اور ڈرون حملوں نے پورے مشرقِ وسطیٰ میں امریکی فوجی ٹھکانوں کو بڑے پیمانے پر نقصان پہنچایا، جن میں عمارتیں، گاڑیاں اور طیارے شامل ہیں۔ یہ تصاویر فعال سروس ارکان نے فوجی میڈیا پابندیوں کے باعث گمنامی کی شرط پر سی بی ایس نیوز کو فراہم کیں اور ان میں خطے کے متعدد امریکی مقامات پر پہنچنے والے نقصانات دکھائے گئے ہیں۔ ایک تعینات سروس ممبر نے میڈیا کو بتایاکہ یہ ہمارے اڈوں کو بڑا نقصان ہوا ہے جسے امریکی عوام سے پوشیدہ رکھا گیا ہے۔ ہم آنکھیں بند کیے کھڑے ہیں جبکہ ہم پر ضربیں لگائی جا رہی ہیں۔ سعودی عرب کے پرنس سلطان ایئر بیس کی ایک تصویر کے بارے میں سی بی ایس نیوز نے بوئنگ ای-۳؍ سینٹری طیارے کے پچھلے حصے پر براہ راست ضرب قرار دیا جس کی دم اس کے جلتے ہوئے دھڑ سے الگ ہو گئی۔ بیس دیگر تصاویر میں بری طرح تباہ شدہ عمارتیں اور رہائشی بلاکس دکھائی دیتے ہیں جن کے ساتھ کنکریٹ کی ’ٹی-وال‘ رکاوٹیں بھی موجود ہیں جو بنیادی طور پر گرینیڈ اور مورٹر فائر جیسے خطرات کے خلاف تحفظ کیلئے بنائی جاتی ہیں۔
یہ بھی پڑھئے:حج کانفرنس اور نمائش کے چھٹے ایڈیشن کی تاریخ کا اعلان
رپورٹ کے مطابق کیمپ بیورنگ، کویت کی تصاویر میں بھی وسیع پیمانے پر نقصان دکھایا گیا۔ یہ کیمپ امریکی فوجی عملے، زرہ پوش گاڑیوں اور بعض طیاروں کے لیے ایک اہم پارکنگ ایریا ہے۔ یہ تصاویر اس وقت سامنے آئیں جب امریکی محکمۂ دفاع کے انسپکٹر جنرل نے ایران کے خلاف جنگ سے مشینی خسارے کا تخمینہ تقریباً ۷ء۳؍بلین ڈالر تک لگایا جس میں تقریباً ۶۰؍طیارے بھی شامل ہیں۔ کانگریس کو بھیجی گئی ایک رپورٹ میں انسپکٹر جنرل نے کہا کہ امریکی سینٹرل کمانڈ نے کویت، بحرین، قطر، متحدہ عرب امارات، سعودی عرب، عراق، عمان اور اردن میں امریکی اڈوں پر ایرانی حملوں کی اطلاع دی ہے۔
امریکی نیوز ویب سائٹ ایکسیوس نے بڑا دعویٰ کرتے ہوئے کہا ہے کہ جرمنی میں امریکہ، اسرائیل اور کئی عرب ممالک کے اعلیٰ فوجی کمانڈروں نے گزشتہ ہفتے خفیہ ملاقات کی ہے۔ اسرائیلی حکام کے حوالے سے ایکسیوس نے کہا کہ خفیہ ملاقات میں فوجی سربراہوں نے ایران کے ساتھ جنگ اور خطے میں وسیع تر کشیدگی پر تبادلۂ خیال کیا۔