• Wed, 28 October, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

الخلیل: اسرائیلی کارروائی میں بے گھر فلسطینیوں کیلئے شہریوں نے گھر کھول دیئے

Updated: October 28, 2026, 2:06 PM IST | Hebron

مغربی کنارے کے شہر الخلیل میں اسرائیلی فوج کی کارروائی اور رہائشی علاقوں سے انخلا کے احکامات کے بعد مقامی خاندانوں، صاحبِ ثروت شہریوں اور مکان مالکان نے بے گھر فلسطینیوں کو اپنے گھروں اور خالی فلیٹوں میں پناہ دینا شروع کردی؛ تاہم ہزاروں افراد کی نقل مکانی، آمدورفت پر پابندیوں اور بنیادی ضروریات کی قلت نے امدادی کوششوں کو شدید مشکل بنا دیا ہے۔

Palestinians displaced by Israeli operations. Photo: X
اسرائیلی کارروائی میں بے گھر فلسطینی۔ تصویر: ایکس

مقبوضہ مغربی کنارے کے شہر الخلیل میں اسرائیلی فوجی کارروائی کے باعث اپنے گھروں سے بے دخل ہونے والے ہزاروں فلسطینیوں کی مدد کے لیے مقامی شہری آگے آئے ہیں۔ کسی نے اپنے گھر کے دروازے کھول دیے، کسی نے خالی فلیٹ خاندانوں کے حوالے کردیے، جبکہ بعض مخیر افراد نے خوراک، ادویات اور بچوں کی ضروریات فراہم کرنے کی کوششیں شروع کردی ہیں۔ فلسطینی خبر رساں ایجنسی وفا کے مطابق ۲۶؍ اکتوبر تک ۶۱۹؍ خاندان متاثر ہوچکے تھے اور ۳۹۷۱؍ فلسطینیوں کو اپنے گھروں سے بے دخل کیا جاچکا تھا۔ ان میں سے ۲۸۳؍ خاندان رشتہ داروں کے ہاں پناہ لینے پر مجبور ہوئے، جبکہ ۲۶۶؍ خاندانوں کے لیے محفوظ رہائش کا انتظام نہیں ہوسکا تھا۔ الخلیل کی امدادی کمیٹی کے ترجمان ریاض خمیس کے مطابق متاثرہ خاندانوں کی تعداد کارروائی کے پہلے دن کے مقابلے میں تین گنا سے بھی زیادہ ہوچکی تھی۔

یہ بھی پڑھئے: غزہ: اسرائیلی حملے میں فلسطینیوں کے خیمے جل کر خاکستر، ۸۰۰؍ سے زائد بے آسرا

اس بحران کے دوران الخلیل کی سماجی یکجہتی نے متاثرہ خاندانوں کو فوری سہارا فراہم کیا ہے۔ شہر کے قریب واقع قصبے دورا میں جائیدادوں کے مالک محمد الرجوب نے اپنے متعدد فلیٹ بے گھر خاندانوں کے لیے کھول دیے۔ الجزیرہ کی رپورٹ کے مطابق وہ اب اپنے فلیٹوں میں تین بڑے خاندانوں کی میزبانی کررہے ہیں، جن میں تقریباً ۳۰؍  بچے شامل ہیں۔ ان کا کہنا تھا، ’’ہمیں لوگوں کی عزتِ نفس برقرار رکھنی ہے۔ آج ہم ان لوگوں کو پناہ دے رہے ہیں، کل کیا معلوم ہمیں خود پناہ کی ضرورت پڑجائے۔ ہم سب ایک ہی قبضے کے زیرِ اثر ہیں اور سب غیر محفوظ ہیں۔‘‘ ان کے اس اقدام کے بعد دوسرے مکان مالکان نے بھی اپنے گھروں اور فلیٹوں کو بے گھر خاندانوں کے لیے دستیاب کرنے کا اعلان کیا۔ الخلیل میں امدادی کوششیں کسی ایک خاندان یا ادارے تک محدود نہیں رہیں۔ فلسطینی حکام نے ہنگامی حالت کا اعلان کرکے ایک بحرانی کمیٹی تشکیل دی ہے، جس میں سرکاری اداروں، نجی شعبے اور سماجی تنظیموں کو شامل کیا گیا ہے۔ اس کمیٹی کا مقصد بے گھر افراد کی ضروریات کا اندازہ لگانا، انہیں عارضی رہائش فراہم کرنا اور خوراک، ادویات، بچوں کے لیے دودھ، ڈائپرز، کپڑے، گدے اور کمبل جیسی اشیا پہنچانا ہے۔ تاہم، ضرورت مند خاندانوں کی تعداد تیزی سے بڑھنے کے باعث دستیاب وسائل ناکافی ثابت ہورہے ہیں۔ دی یروشلم پوسٹ کے مطابق امدادی کمیٹی کو موصول ہونے والی ابتدائی معلومات میں ۲۳۱؍ خاندانوں نے خوراک، ۱۲۹؍ نے ادویات، ۱۰۷؍ نے بچوں کے دودھ اور ڈائپرز اور ۱۲۶؍ خاندانوں نے رہائش کی ضرورت ظاہر کی تھی۔ بعض خاندانوں کو نفسیاتی مدد اور بزرگوں، معذور افراد اور مسلسل طبی نگہداشت کے محتاج مریضوں کے لیے خصوصی انتظامات بھی درکار ہیں۔
اسرائیلی فوج نے ۲۳؍ اکتوبر سے الخلیل کے بعض علاقوں میں بڑے پیمانے پر کارروائی شروع کی۔ اس سے قبل ایک فوجی چوکی پر فائرنگ کے حملے میں دو اسرائیلی فوجی ہلاک اور دیگر زخمی ہوئے تھے؛ اسرائیلی حکام نے اس حملے کے بعد کارروائی کو سکیورٹی اقدام قرار دیا۔ حملے کے دونوں فلسطینی ملزمان بھی مارے گئے تھے۔ اس کے بعد اسرائیلی فوج نے ان محلوں میں کارروائیاں تیز کردیں جہاں حملہ آور رہتے تھے، جبکہ عمارتوں کو منہدم کرنے، گھروں کی تلاشی لینے اور رہائشیوں کو علاقہ خالی کرنے کے احکامات دینے کی اطلاعات سامنے آئیں۔ الخلیل کی بلدیہ کے مطابق فارش الہوا اور عین دیر بہا کے علاقوں میں رہائشی عمارتوں، دکانوں اور صنعتی تنصیبات کو نقصان پہنچا، جبکہ متعدد سڑکوں اور راستوں کو بھی بند کردیا گیا۔ اسرائیلی فوج نے کارروائی کو محدود اور مخصوص علاقوں پر مرکوز قرار دیا، جبکہ فلسطینی حکام نے بڑے پیمانے پر بے دخلی اور اجتماعی سزا کے خدشات ظاہر کیے ہیں۔ اسرائیلی فوج کی جانب سے راستے بند کیے جانے اور چیک پوسٹوں پر سخت تلاشی کے باعث متاثرہ خاندانوں کے لیے محفوظ مقامات تک پہنچنا بھی مشکل ہوگیا ہے۔ شہر اور اس کے گردونواح کے متعدد داخلی راستے بند ہونے سے لوگوں کی آمدورفت، کاروبار اور روزمرہ زندگی متاثر ہوئی ہے۔ الخلیل کے اسکولوں میں تدریس آن لائن منتقل کردی گئی، جبکہ شہر کی جامعات نے بھی اپنے تقریباً ۱۸؍ ہزار طلبہ کے لیے آن لائن تعلیم کا انتظام کیا ہے۔ الخلیل کے الفوار پناہ گزین کیمپ کے داخلی راستے کی بندش نے وہاں رہنے والے تقریباً ۸؍ ہزار فلسطینیوں کی نقل و حرکت کو مزید محدود کردیا۔ ایک مقامی استاد عبدالفتاح التیتی نے الجزیرہ کو بتایا کہ کیمپ کے رہائشی عملاً محصور ہوکر رہ گئے ہیں اور کسی ہنگامی طبی ضرورت کی صورت میں مناسب علاج تک پہنچنا دشوار ہوسکتا ہے۔

یہ بھی پڑھئے: اہلِ غزہ نیتن یاہو کی برطرفی کے خواہاں، مگر اسرائیلی انتخابات سے کسی ”نئے آغاز“ کی امید نہیں

بے گھر ہونے والے خاندانوں کے لیے سب سے بڑا مسئلہ یہ بھی ہے کہ انہیں معلوم نہیں کہ وہ اپنے گھروں کو کب واپس جاسکیں گے۔ بعض رہائشیوں نے بتایا کہ انہیں سامان سمیٹنے کے لیے بہت کم وقت دیا گیا، جس کے باعث وہ ضروری دستاویزات، بچت اور گھریلو اشیا تک پیچھے چھوڑ آئے۔ امدادی کمیٹی کے ترجمان ریاض خمیس کے مطابق متعدد خاندانوں کو انخلا کی مدت اور واپسی کے امکان کے بارے میں واضح معلومات نہیں دی گئیں۔ بزرگوں، بیمار افراد اور معذور شہریوں کی منتقلی کے لیے بھی کوئی واضح انتظام سامنے نہیں آیا۔ اس صورتِ حال میں مقامی لوگوں کی جانب سے اپنے گھر کھولنا متاثرہ خاندانوں کے لیے فوری مدد ضرور ہے، لیکن اس سے مستقل رہائش، روزگار، تعلیم اور طبی سہولتوں کی ضروریات پوری نہیں ہوسکتیں۔ الخلیل میں بے دخلی کے تازہ اعدادوشمار اس بحران کی وسعت ظاہر کرتے ہیں۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK