Inquilab Logo Happiest Places to Work

’’اسرائیل کو لبنان سے۶۰؍ دن میں واپس جانا ہوگا‘‘

Updated: June 20, 2026, 10:27 AM IST | Beirut

لبنان میں حزب اللہ کے پارلیمانی گروپ کے سربراہ محمد رعد کا بیان۔

Photo: INN
تصویر: آئی این این

لبنان میں حزب اللہ کے پارلیمانی گروپ کے سربراہ محمد رعد نے خبردار کیا ہے کہ اسرائیل کے پاس اپنے حملے ختم کرنے اور لبنانی سرزمین سے اپنی فوجوں کی مکمل واپسی کے لئے۶۰؍دن کا وقت ہے۔ اس کے ساتھ ہی انہوں نے بیروت پر زور دیا کہ وہ امریکہ اور ایران کے درمیان ہونے والے مفاہمت نامے کا بغور اور غیر جانبدارانہ جائزہ لے۔ محمد رعد کا یہ بیان جمعرات کو اس وقت سامنے آیا جب قابض اسرائیلی افواج نے لبنان پر اپنے روزانہ کے حملے جاری رکھے ہیں اور تل ابیب بضد ہے کہ وہ جنوبی لبنان کے کچھ حصوں پر اپنا قبضہ برقرار رکھے گا جبکہ امریکہ اور ایران کے معاہدے کی پہلی شق کے مطابق تمام محاذوں بشمول لبنان میں فوجی کارروائیوں کو ’فوری اور مستقل طور پر روکنے‘ کا حکم دیا گیا ہے۔  اس مفاہمت نامے میں ’لبنان کی آزادی اور اس کی زمین کی حفاظت کی ضمانت‘ دینے کا وعدہ بھی کیا گیا ہے اور کہا گیا ہے کہ حتمی معاہدہ ’تمام محاذوں پر جنگ کے مستقل خاتمے‘ کی تصدیق کرے گا۔ محمد رعد نے ایک بیان میں کہاکہ ’’دشمن کے پاس لبنانی سرزمین سے مکمل طور پر پیچھے ہٹنے کے لئے زیادہ سے زیادہ دستیاب وقت ٹھیک دو ماہ ہے۔‘‘ انہوں نے مزید کہا کہ اس عرصے کے دوران اسرائیل کو ’زمین، سمندر اور ہوا‘ کے راستے دشمنی بند کرنی ہوگی اور کسی بھی براہ راست مذاکرات کی ضرورت کے بغیر لبنانی سرزمین سے پیچھے ہٹنا شروع کرنا ہوگا۔ حزب اللہ کے قانون ساز نے اصرار کیا کہ لبنانی حکام مفاہمت نامے کے متن کو غور اور غیر جانبدارانہ طریقے سے پڑھیں اور ان حقائق اور اثرات کے بارے میں نتائج اخذ کریں جو لبنان سمیت خطے اور پوری دنیا پر اثر انداز ہوں گے۔‘‘ 

یہ بھی پڑھئے: دورۂ فرانس میں وزیر اعظم مودی نے نور عنایت خان کی قربانی کو یاد کیا

انہوں نے حکام پر یہ بھی زور دیا کہ وہ اسرائیلی دشمن کو روکنے کے لئے ایران کی اپنی عزم کو پورا کرنے کی صلاحیت کو کم نہ سمجھیں۔ بدھ کی شام، امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ اور ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے الیکٹرانک طریقے سے ’اسلام آباد مفاہمت نامے‘ پر دستخط کئے تھے جس کا مقصد۲۸؍ فروری کو ایران کے خلاف شروع ہونے والی امریکہ-اسرائیل جنگ کو ختم کرنا ہے۔  اس مفاہمت نامے کے تحت، واشنگٹن اور تہران کے درمیان۶۰؍ دن تک مذاکرات ہونے ہیں جس میں توسیع کا امکان بھی موجود ہے، تاکہ ایران کے جوہری پروگرام اور بین الاقوامی پابندیوں پر ایک حتمی معاہدے تک پہنچا جا سکے۔ محمد رعد نے کہا، ’’مزاحمت (حزب اللہ) حکومت (بیروت) کو مشورہ دیتی ہے کہ وہ مزاحمت کو نشانہ بنانے کے لئےاسرائیلی دشمن کے ساتھ براہ راست کسی معاملے میں شامل نہ ہو، کیونکہ یہ لبنان یا لبنانی عوام کے مفاد میں نہیں ہے۔‘‘ انہوں نے مزید کہا، ’’لبنان میں مزاحمت کو ختم کرنے کے مقصد سے شروع کی گئی جنگ ناکام ہو چکی ہے اور یہ اپنے مقاصد حاصل نہیں کرے گی۔‘‘  لبنانی یا اسرائیلی حکام کی طرف سے محمد رعد کے اس بیان پر خبر لکھے جانے تک کوئی تبصرہ سامنے نہیں آیا تھا۔ ان کا یہ بیان لبنان اور اسرائیل کے درمیان۲۲؍ جون کو ہونے والے مذاکرات کے پانچویں دور سے پہلے آیا ہے۔ 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK