Inquilab Logo Happiest Places to Work

آر ٹی او میں بےضابطگیوں کی اعلیٰ سطحی تحقیقات کی جائے گی: دیویندر فرنویس

Updated: July 08, 2026, 11:04 AM IST | Iqbal Ansari | Mumbai

کانگریس کے گروپ لیڈر اور رکن اسمبلی وجے وڈیٹیوار نے مہنگی گاڑیوں کی رجسٹریشن کی فیس سے بچنے کیلئے دیگر ریاستوں میںاس کا رجسٹریشن کرنے کا معاملہ منگل کو ایوان اسمبلی میں اٹھا یا گیا۔

Devendra Fadnavis.Photo:INN
دیویندرفرنویس۔ تصویر:آئی این این
کانگریس کے گروپ لیڈر  اور رکن اسمبلی وجے وڈیٹیوار نے مہنگی گاڑیوں کی رجسٹریشن کی فیس سے بچنے کیلئے دیگر ریاستوں میںاس کا رجسٹریشن کرنے کا معاملہ منگل کو ایوان اسمبلی میں اٹھا یا گیا۔ انہوںنے دعویٰ کیا کہ ان کےپاس آڈیو کلپ بھی ہیں جس سے یہ ثابت ہوتا ہےکہ ریجنل ٹرانسپورٹ آفس(آر ٹی او) میں ایک ریکٹ  چل رہا جس کی مدد سے مہاراشٹر میں رہنے والےافراد دیگر ریاستوں میں مہنگی گاڑیوں کا رجسٹریشن کروا رہے ہیں جس سےریاست کو کروڑوں روپے کا نقصان ہو رہاہے۔ اس ضمن میں وزیر اعلیٰ دیویندر فرنویس نے اسمبلی میں کہا ہےکہ ریاست کے آر ٹی او محکمہ میں   بے ضابطگیوں، ٹیکس چوری اور دیگر بے قاعدگیوں کی اعلیٰ سطحی جانچ کی جائے گی۔ انہوں نے یقین دلایا کہ تحقیقات میں قصوروار پائے جانے والوں کے خلاف سخت کارروائی کی جائے گی۔وزیر اعلیٰ دیویندر فرنویس نے اسمبلی میںکہا کہ اس معاملے پر وزیر ٹرانسپورٹ کے ساتھ تبادلہ خیال کیا گیا ہے اور ایوان کے اراکین کی طرف سے اٹھائے گئے خدشات کو سنجیدگی سے لیا گیا ہے۔
 
 
اس معاملے میں وزیر ٹرانسپورٹ پرتاپ سرنائک نے تفصیلی جانکاری فراہم کی۔ انہوں نے کہا کہ مہنگی لگژری گاڑیوں کے رجسٹریشن سے متعلق کچھ معاملات میں ٹیکس چوری کا پتہ چلا ہے۔ یہ پتہ چلا ہے کہ کچھ گاڑیوں کے مالکان مہاراشٹر میں رہتے ہیں اور ریاستی بینکوں سے گاڑیوں کا قرض لیتے ہیں لیکن ٹیکس سے بچنے کیلئے وہ اپنی گاڑیاں دادرا اور نگر حویلی، دمن   دیو، پڈوچیری اور دیگر جگہوںپر رجسٹر کرواتے ہیں۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ آر ٹی او محکمہ نے ایسے معاملات میں کارروائی شروع کی ہے۔ مستقبل میں ٹیکس چوری کو روکنے کیلئے گاڑیوں کے رجسٹریشن کے وقت جی ایس ٹی کی تفصیلات، قرض کے دستاویزات اور رہائش کے ثبوت کی سختی سے جانچ کی جائے گی۔ انہوں نے مزید کہا کہ سینئر آئی پی ایس افسر پرینکا نرناورے کی سربراہی میں ایک خصوصی تحقیقاتی ٹیم (ایس آئی ٹی) تشکیل دی گئی ہے تاکہ آر ٹی او محکمہ کے بارے میں موصول ہونے والی شکایات، آڈیو،ویڈیو ثبوت اور دیگر الزامات کی آزادانہ طور پر جانچ کی جا سکے۔ اس ۳؍رکنی کمیٹی کو ایک ماہ میں رپورٹ پیش کرنے کی ہدایت کی گئی ہے۔

 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK