کلنٹن نے ایپسٹین کے ساتھ کسی بھی قسم کے تعلقات سے انکار کرتے ہوئے کہا کہ ”مجھے یاد نہیں پڑتا کہ میں کبھی ایپسٹین سے ملی ہوں، میں نے کبھی ان کے جزیرے، گھروں، دفاتر کا دورہ نہیں کیا اور نہ ہی ان کے نجی طیارے سے کبھی سفر کیا۔“
EPAPER
Updated: February 27, 2026, 9:04 PM IST | Washington
کلنٹن نے ایپسٹین کے ساتھ کسی بھی قسم کے تعلقات سے انکار کرتے ہوئے کہا کہ ”مجھے یاد نہیں پڑتا کہ میں کبھی ایپسٹین سے ملی ہوں، میں نے کبھی ان کے جزیرے، گھروں، دفاتر کا دورہ نہیں کیا اور نہ ہی ان کے نجی طیارے سے کبھی سفر کیا۔“
امریکہ کی سابق وزیر خارجہ ہلیری کلنٹن نے جنسی مجرم جیفری ایپسٹین کے ساتھ کسی بھی قسم کے تعلقات کے الزامات کو سختی سے مسترد کر دیا ہے۔ انہوں نے امریکی کانگریس کی کمیٹی کو بتایا کہ وہ نہ کبھی ایپسٹین سے ملی ہیں، نہ ان کے طیارے میں سفر کیا اور نہ ہی ان کی کسی پراپرٹی یا جزیرے کا دورہ کیا ہے۔
ہلیری کلنٹن نے جمعرات کو ایپسٹین کے جرائم کی تحقیقات سے منسلک مواد اور ایپسٹین کی ساتھی جزلین میکسویل کے ریکارڈز کے جاری جائزے کے سلسلے میں کانگریس میں پیش ہوکر گواہی دی۔ انہوں نے کہا کہ ”کمیٹی کے سمن سے ایسا لگتا ہے جیسے میرے پاس اس حوالے سے متعلقہ معلومات موجود ہیں، لیکن میں نہایت واضح طور پر بتانا چاہتی ہوں کہ میرے پاس ایسی کوئی معلومات نہیں ہے۔“ کلنٹن نے مزید کہا کہ انہیں ایپسٹین کی مجرمانہ سرگرمیوں کا کوئی علم نہیں تھا۔ انہوں نے بیان دیا کہ ”مجھے یاد نہیں پڑتا کہ میں کبھی ایپسٹین سے ملی ہوں، میں نے کبھی ان کے جزیرے، گھروں، دفاتر کا دورہ نہیں کیا اور نہ ہی ان کے نجی طیارے سے کبھی سفر کیا۔“
متاثرین کے ساتھ اظہارِ ہمدردی
ایپسٹین کے جرائم کے شکار متاثرین کے ساتھ ہمدردی کا اظہار کرتے ہوئے ہلیری کلنٹن نے کہا کہ وہ بدسلوکی کے الزامات کی وسعت دیکھ کر ”خوفزدہ“ ہیں۔ انہوں نے انسانی اسمگلنگ کے خلاف ماضی میں اپنی سرگرمیوں کو اجاگر کیا۔ کلنٹن نے اس کیس کو ادارہ جاتی ناکامی قرار دیا جس نے برسوں تک جرائم کو جاری رہنے دیا۔ انہوں نے دلیل دی کہ تحقیقات میں سیاسی پوائنٹ اسکورنگ کے بجائے جواب دہی اور نظامی اصلاحات پر زور دیا جانا چاہئے۔
کلنٹن نے کہا کہ پالیسی سازوں کو اس بات کا جائزہ لینا چاہئے کہ کس طرح ۲۰۰۸ء میں قانونی اور نافذ کرنے والے اداروں کی ناکامیوں نے ایپسٹین کو اس وقت سخت ترین نتائج سے بچنے کا موقع دیا۔ انہوں نے زور دیا کہ بامعنی کارروائی کے لئے نظامِ عدل میں موجود خلاء اور خامیوں کو سمجھنا ضروری ہے جس کی وجہ سے استحصال کرنے والے نیٹ ورکس کا فعال رہنا ممکن ہوا۔
یہ بھی پڑھئے: ایک اسرائیلی یرغمالی کی لاش تلاش کرنے میں سیکڑوں فلسطینیوں کی لاشیں برآمد ہوئیں: ٹرمپ
ٹرمپ سے پوچھ گچھ کرنے کی تجویز
کلنٹن نے تجویز دی کہ اگر قانون ساز مکمل سچائی سامنے لانے کیلئے سنجیدہ ہیں تو انہیں امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ سے براہِ راست حلف کے تحت پوچھ گچھ کرنی چاہئے۔ سابق سیکریٹری آف اسٹیٹ نے میڈیا رپورٹس کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا کہ ایپسٹین کیس سے جڑی دستاویزات میں ٹرمپ کا نام متعدد بار سامنے آیا ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ عوامی بیانات یا میڈیا کے تبصروں کے مقابلے میں باضابطہ گواہی زیادہ مؤثر ثابت ہوگی۔ انہوں نے مزید کہا کہ اگر آپ سچ جاننا چاہتے ہیں تو براہ راست ٹرمپ سے حلف کے تحت ایپسٹین کے بارے میں پوچھیں۔