Inquilab Logo Happiest Places to Work

ہمالیہ کی برف خطرناک حد تک کم، ۲؍ ارب افراد کیلئے پانی کے بحران کا خدشہ

Updated: April 27, 2026, 9:56 PM IST | Kathmandu

ہندوکش ہمالیہ میں برف کی مقدار گزشتہ دو دہائیوں کی کم ترین سطح پر آ گئی ہے، جس سے ایشیا میں بڑے آبی بحران کا خدشہ پیدا ہو گیا ہے۔ اس کمی سے ہندوستان، پاکستان، چین، نیپال، بھوٹان، بنگلہ دیش، افغانستان اور میانمار کے کم و بیش ۲؍ ارب افراد متاثر ہوسکتے ہیں۔

Himalayas. Photo: INN
ہمالیہ۔ تصویر: آئی این این

ایشیا کے اہم آبی ذخیرے سمجھے جانے والے ہندو کش ہمالیہ میں برف کی سطح میں شدید کمی نے ماہرین کو تشویش میں مبتلا کر دیا ہے۔ انٹرنیشنل سینٹر فار انٹیگریٹڈ ماؤنٹین ڈیولپمنٹ کی تازہ رپورٹ ’’HKH Snow Update 2026‘‘ کے مطابق نومبر ۲۰۲۵ء سے مارچ ۲۰۲۶ء تک برف کی موجودگی معمول سے ۸ء۲۷؍ فیصد کم رہی۔ برف کی موجودگی (Snow Persistence) اس بات کی پیمائش ہے کہ گرنے کے بعد برف کتنی دیر زمین پر باقی رہتی ہے، اور یہ پہاڑی علاقوں میں پانی کے مستقبل کا ایک اہم اشاریہ سمجھی جاتی ہے۔

رپورٹ کے مطابق، موسمی برف ایک قدرتی آبی ذخیرے کا کردار ادا کرتی ہے اور ہندوکش ہمالیہ کے ۱۲؍ بڑے دریائی نظاموں کے سالانہ بہاؤ کا تقریباً ایک چوتھائی حصہ فراہم کرتی ہے۔ یہ نظام زراعت، پن بجلی اور پانی کی فراہمی کے لیے انتہائی اہم ہیں، جو کابل سے کولکاتا تک کروڑوں افراد کی زندگیوں کو متاثر کرتے ہیں۔

یہ بھی پڑھئے: اسرائیل میں اپوزیشن متحد: بینیٹ اور لاپیڈ کا مشترکہ انتخابی اتحاد

اہم خطوں میں کمی
دریائے میکونگ بسین میں برف کی سطح ۵ء۵۹؍ فیصد کم رہی۔ تبت کی سطح مرتفع میں ۴ء۴۷؍ فیصد کمی، زرد دریا اور امو دریا میں بھی نمایاں کمی ریکارڈ کی گئی۔ اگرچہ دریائے گنگا کے منبع میں اس سال ۳ء۱۶؍  زیادہ برف باری ریکارڈ کی گئی، لیکن ماہرین کے مطابق یہ صرف قلیل مدتی راحت ہے کیونکہ یہ مسلسل چوتھا سال ہے جب مجموعی طور پر برف معمول سے کم رہی۔

سائنسدانوں نے خبردار کیا ہے کہ گلیشیئرز اب ۲۰۰۰ء سے پہلے کے مقابلے میں تقریباً دوگنی رفتار سے پگھل رہے ہیں، جس سے طویل اور شدید خشک موسم گرما کا خطرہ بڑھ رہا ہے۔ اس کے ممکنہ اثرات اور خدشات یہ ہیں کہ پانی کی شدید قلت ہوگی، زیر زمین پانی کے ذخائر پر دباؤ پڑسکتا ہے، زراعت اور خوراک کی پیداوار میں کمی ہوسکتی ہے، اور توانائی کے شعبے، خاص طور پر ہائیڈرو پاور، پر اثرات پڑ سکتے ہیں۔ ماہرین نے حکومتوں پر زور دیا ہے کہ وہ فوری اقدامات کریں، جن میں ابتدائی انتباہی نظام کو مضبوط بنانا، پانی ذخیرہ کرنے کے بہتر نظام تیار کرنا اور علاقائی سطح پر پالیسی ہم آہنگی بڑھانا شامل ہیں۔

یہ بھی پڑھئے: نیتن یاہو کے بدعنوانی کیس کی سماعت عین وقت پر منسوخ، سیکوریٹی وجوہات کا حوالہ

تجزیہ کاروں کے مطابق، اگر موجودہ رجحان جاری رہا تو ہندو کش ہمالیہ میں برف کی مسلسل کمی ایشیا کے لیے آنے والے برسوں میں ایک بڑے ماحولیاتی اور انسانی بحران کی شکل اختیار کر سکتی ہے۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK