ادھو ٹھاکرے کی ’رام رکشا‘ تحریک پرنائب وزیراعلیٰ ایکناتھ شندے کا طنز۔
EPAPER
Updated: July 20, 2026, 10:25 AM IST | Mumbai
ادھو ٹھاکرے کی ’رام رکشا‘ تحریک پرنائب وزیراعلیٰ ایکناتھ شندے کا طنز۔
نائب وزیر اعلیٰ ایکناتھ شندے نے ’رام رکشا ‘ تحریک پر شیوسینا (یو بی ٹی) کے سربراہ ادھو ٹھاکرے کوتنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ یو بی ٹی نے بہت پہلے ہندوتوا کو چھوڑ دیا تھا۔ انہوں نے کہا کہ ہندوتوا کوئی ٹی شرٹ نہیں ہے جسے سیاسی ضرورت کے مطابق کبھی بھی پہنا یا اتارا جاسکے۔
درحقیقت شیو سینا (یو بی ٹی) نے ایودھیا رام مندر میں چڑھاوے اور چندے میں چوری اور مالی بے ضابطگیوں کے خلاف احتجاج کیلئے پورے مہاراشٹر میں ’رام رکشا آندولن‘ شروع کیا ہے۔ وہ اس اہم مسئلے کو اٹھا رہے ہیں اور حکومت کو نشانہ بنا رہے ہیں۔ سنیچر کو انہوں نے ناگپور کے ایک رام مندر میں پوجا کی۔ تقریب کے دوران انہوں نے ایک جلسہ عام سے بھی خطاب کیا جہاں انہوں نے بی جے پی اور ایکناتھ شندے پر شدید تنقیدکی ۔
یہ بھی پڑھئے: کئی دَل بدلیوں کے بعدآج سے پارلیمنٹ کا مانسون اجلاس
’’جب بھگوالگاگھٹنے تو تب رام کا نام لگے رٹنے ‘‘
ایکناتھ شندے نے ادھو ٹھاکرے پر جوابی حملہ کرتے ہوئے کہا کہ جب بھگوالگاگھٹنے تو تب رام کا نام لگے رٹنے ۔ انہوں نے کہا کہ پربھو رام چندرجی نے اپنے والد کے کہنے پر۱۴؍ سال کا بن باس کیا اور وہ شدید بارش میں اپنے والد کو چھوڑ کر چلے گئے۔ انہوں نے کہا کہ جو رام کا نہیں ، وہ کسی کام کا نہیںہوسکتا۔
ادھو نے ہندوتوا کا راستہ بہت پہلے چھوڑ دیا تھا‘‘
نائب وزیر اعلیٰ نے کہا کہ ادھو ٹھاکرے کی قیادت میں چل رہی تحریک میںممتا بنرجی، سونیا گاندھی، اکھلیش یادو اور راہل گاندھی کو مدعو کیا جانا چاہئے تھا۔ انہوں نے سوال کیا کہ ادھو ٹھاکرے وزیر اعلیٰ دیویندر فرنویس کو کیوں بلا رہے ہیں؟ انہیں اپنے لوگوں کو بلانا چاہئے۔ انہوں نے کہا کہ جو لوگ کبھی رام بھکتوں کے بارے میں تضحیک آمیز تبصرے کرتے تھے اور اب کانگریس کے ساتھ کھڑے ہیں، وہ اچانک بھگوان رام اور ہندوتوا کی بات کر رہے ہیں۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ ان لوگوں کے ساتھ اتحاد کر کے ادھو نے بہت پہلے ہندوتوا کا راستہ چھوڑ دیا تھا۔
شندے نے کہا کہ بالا صاحب ٹھاکرے نے ہمیشہ یہ نعرہ بلند کیا کہ’ ’فخر سے کہو، ہم ہندو ہیں‘‘ برسوں بعد ادھو دھڑے کو اچانک یہ نعرہ یاد آ رہا ہے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ ہندوتوا سیاسی فائدہ کا معاملہ نہیں ہے، ایسی چیز جسے جب چاہے اتار اور جب سیاسی فائدہ نظر آیا تو دوبارہ پہن لیا۔ ٹی وی نائن کی خبر کے مطابق انہوں نے مزیدکہا کہ رام کی حفاظت کی بات کرنے سے پہلے ادھو ٹھاکرے کو اپنی پارٹی اور اپنی بچے کھچے نظریہ کی حفاظت کرنی چاہئے۔ انہوں نے کہا کہ وزیر اعظم نریندر مودی نے رام مندر بنوایا۔ آج وہ ملک کو آگے لے جا رہے ہیں اور ادھو کو اس پر فخر نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ آج ہائیڈروجن ٹرین اور وکرم راکٹ لانچ ہوئے لیکن راہل گاندھی بیرون ملک جا کر وزیراعظم کو بدنام کرتے ہیں۔ انہوں نے اسے ملک دشمن قرار دیا۔
یہ بھی پڑھئے: پیداوار میں کمی آنے سےشہرو مضافات میں انڈے کی قیمت میں اضافہ، عام صارف متاثر
ایکناتھ شندے نے کہا کہ کئی برسوں سے انہوں نے لوگوں کو ٹوپی پہنائی ہے لیکن مہاراشٹر کے لوگ سمجھدار ہیں۔ بالاصاحب کے نظریے کو چھوڑ کر ادھو نے کرسی اپنائی اور عوام نے انہیں راستہ دکھایا۔ انہوں نے کہا کہ ۴۰؍ اراکین اسمبلی سے آج ہمارے پاس۵۶؍ سے زیادہ ہیں۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ ہم جوڑنے والے ہیں، توڑنے والے نہیں۔ انہوں نےمزید کہا کہ ادھو کے پاس لینا بینک ہے، ہمارے پاس دینا بینک ہے۔