Inquilab Logo Happiest Places to Work

کے ڈی ایم سی اور امبرناتھ میڈیکل کالج کے درمیان تاریخی معاہدہ

Updated: April 22, 2026, 4:03 PM IST | Ejaz Abduilghani | Kalyan

سرکاری اسپتالوں میں اب ماہر ڈاکٹروں اور جدید آلات کی فراہمی ممکن ہو سکےگی،اسپتالوں میں افرادی قوت کی کمی بھی دور ہوگی۔

The Agreement Was Signed During A Special Ceremony Held At Kalyan-Dombivali Municipal Corporation.Photo:INN
کلیان ڈومبیولی میونسپل کارپوریشن میں منعقدہ خصوصی تقریب کے دوران معاہدہ پر دستخط کئے گئے- تصویر:آئی این این
 کلیان ڈومبیولی میونسپل کارپوریشن ( کے ڈی ایم سی) کے زیر انتظام اسپتالوں میں طبی نظام کو جدید خطوط پر استوار کرنے اور شہریوں کو علاج و معالجے کی بہتر سہولیات فراہم کرنے کیلئے انتظامیہ نے ایک بڑاقدم اٹھایا ہے۔میونسپل کارپوریشن نے امبرناتھ کے نو تعمیر شدہ سرکاری میڈیکل کالج کے ساتھ ایک اہم مفاہمتی یادداشت (ایم او یو)پر دستخط کئے ہیں جس کے تحت اب کارپوریشن کے اسپتالوں میں ماہر ڈاکٹروں کی خدمات اور جدید طبی آلات کی دستیابی ممکن ہو سکے گی۔
 
 
کے ڈی ایم سی میں منعقد ایک خصوصی تقریب میں میونسپل کمشنر ابھینو گوئل اور کارپوریشن کے دیگر اہم عہدیداران نے اس معاہدے پر دستخط کئے۔ اس موقع پر میئر ہرشالی تھویل، ڈپٹی میئر راہل داملے اور مختلف سیاسی جماعتوں کے گروپ لیڈران بشمول وشوناتھ رانے (شیو سینا)، ششی کانت کامبلے (بی جے پی)، امیش بورگاؤں کر (ادھو سینا) اور کانچن کلکرنی (کانگریس) بھی موجود تھے۔
 
 
عیاں رہے کہ ریاستی حکومت نے امبرناتھ میں ۱۰۰؍ نشستوں والے میڈیکل کالج اور ۴۳۰؍ بستروں کے اسپتال کی منظوری دی ہے۔ اس ۷؍ سالہ معاہدے کا بنیادی مقصد میڈیکل کے طلبہ کو عملی طبی تجربہ فراہم کرنا اور بدلے میں میونسپل اسپتالوں کو ماہر افرادی قوت مہیا کرنا ہے۔ معاہدے کے مطابق سب سے پہلے اس اسپتال کو میڈیکل کالج سے منسلک کیا جائے گا جہاں ماہرین کی نگرانی میں او پی ڈی اور آئی سی یو کی خدمات شروع ہوں گی۔گوری پاڑا اسپتال امراضِ نسواں اور اطفال کے شعبوں کو فعال کیا جائے گا۔شکتی دھام اسپتال (کلیان مشرق) عمارت کے قانونی مسائل حل ہوتے ہی یہاں بھی مختلف طبی شعبہ جات کا قیام عمل میں آئے گا۔ میونسپل کمشنر ابھینو گوئل نے اس امید کا اظہار کیا کہ اس اشتراک سے عام شہریوں کو نجی اسپتالوں کے مہنگے علاج کے بجائے سرکاری سطح پر ہی جدید ترین طبی سہولیات، ماہر سرجن اور انتہائی نگہداشت کے وارڈ کی سہولت مل سکے گی۔ اس فیصلے کو عوامی حلقوں میں بڑے پیمانے پر سراہا جا رہا ہے کیونکہ اس سے مقامی طبی ڈھانچے میں موجود افرادی قوت کی کمی دور ہو جائے گی۔

 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK