Inquilab Logo Happiest Places to Work

ہالی ووڈ اداکار مارک روفالو نے Palestine 36 دیکھنے کی اپیل کی

Updated: April 06, 2026, 9:59 PM IST | Los Angeles

ہالی ووڈ اداکار مارک روفالو نے ناظرین کو فلم Palestine 36 دیکھنے کی ترغیب دی ہے، جس کے بعد سوشل میڈیا اور فلمی حلقوں میں وسیع بحث شروع ہو گئی ہے۔ یہ تاریخی ڈرامہ ۱۹۳۶ء کی برطانیہ کے خلاف فلسطینی بغاوت پر مبنی ہے۔ تاہم اس حمایت نے تنازع بھی پیدا کیا، جہاں کچھ حلقوں نے اسے سیاسی مؤقف سے جوڑا، جبکہ دیگر نے اسے آزاد سنیما کی اہم آواز قرار دیا۔

Mark Ruffalo. Photo: INN
مارک روفالو۔ تصویر: آئی این این

ہالی ووڈ کے معروف اداکار مارک روفالو ایک بار پھر عالمی سیاسی و ثقافتی بحث کے مرکز میں آ گئے ہیں، جب انہوں نے حالیہ سوشل میڈیا پوسٹ میں ناظرین سے فلم Palestine 36دیکھنے کی اپیل کی۔ اس اپیل کے بعد نہ صرف فلم کو غیر معمولی توجہ ملی بلکہ سوشل میڈیا، میڈیا اور فلمی حلقوں میں ایک نئی بحث بھی شروع ہو گئی۔ تازہ رپورٹس کے مطابق مارک نے اس فلم کو اسرائیل فلسطین تنازع کی تاریخ پر بننے والی ’’اہم ترین فلموں میں سے ایک‘‘ قرار دیا اور ناظرین کو اسے سنیما گھروں میں دیکھنے کی ترغیب دی۔ یہ فلم فلسطینی ہدایت کار اینی میری یاسر کی تخلیق ہے، جو ۱۹۳۶ء میں برطانوی نوآبادیاتی دور کے خلاف عرب بغاوت کے پس منظر میں ترتیب دی گئی ہے۔

 
 
 
 
 
View this post on Instagram
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 

A post shared by Watermelon Pictures (@watermelonpictures)

فلم کی کہانی ایک واحد زاویہ پیش کرنے کے بجائے متعدد کرداروں کے ذریعے سامنے آتی ہے، جن میں ایک نوجوان مزاحمت کی طرف مائل ہوتا ہے جبکہ ایک صحافی سیاسی اور ذاتی کشمکش کا سامنا کرتا ہے۔ اس میں برطانوی پالیسیوں، داخلی اختلافات اور پیل کمیشن کی سفارشات جیسے تاریخی پہلوؤں کو بھی شامل کیا گیا ہے۔ تاہم، مارک روفالو کی اس حمایت نے صرف فلمی دلچسپی ہی نہیں بلکہ تنازع بھی پیدا کیا۔ حالیہ دنوں میں اداکارہ کیٹ بیکن سیل نے دعویٰ کیا کہ انہیں ایک سوشل میڈیا پوسٹ کے باعث اپنے ایجنٹ سے ہاتھ دھونا پڑا، جبکہ انہوں نے اسی تناظر میں روفالو کا حوالہ دیتے ہوئے ہالی ووڈ میں ’’دوہرے معیار‘‘ پر سوال اٹھایا۔ اس واقعے نے ہالی ووڈ میں سیاسی اظہار، آزادیٔ رائے اور پیشہ ورانہ خطرات پر نئی بحث کو جنم دیا ہے۔
یہ پہلا موقع نہیں جب مارک نے فلسطین سے متعلق کسی معاملے پر کھل کر بات کی ہو۔ ماضی میں بھی وہ جنگ بندی، انسانی بحران اور فلسطینی حقوق کے حق میں آواز اٹھاتے رہے ہیں، حتیٰ کہ انہوں نے فلم ورکرز فار فلسطین جیسے اقدامات کی حمایت بھی کی، جس میں ہزاروں فلمی شخصیات شامل ہوئیں۔ ’’فلسطین ۳۶‘‘ کی ریلیز ایسے وقت میں ہو رہی ہے جب عالمی سطح پر اسرائیل فلسطین تنازع ایک حساس موضوع بنا ہوا ہے، اور ثقافتی و تخلیقی شعبے بھی اس بحث کا حصہ بنتے جا رہے ہیں۔ ماہرین کے مطابق اس طرح کی فلمیں نہ صرف تاریخ کو نئے زاویے سے پیش کرتی ہیں بلکہ عوامی رائے سازی میں بھی کردار ادا کرتی ہیں۔

یہ بھی پڑھئے: آبنائے ہرمز کے ٹرانزٹ فیس پر ایران سے کوئی بات چیت نہیں ہوئی: حکومت

دوسری جانب ناقدین کا کہنا ہے کہ اس طرح کی فلمیں اور ان کی تشہیر اکثر سیاسی بیانیے سے جڑ جاتی ہیں، جس سے ناظرین کے درمیان اختلافات پیدا ہو سکتے ہیں۔ تاہم حامی حلقے اسے ’’آزاد سنیما کی طاقت‘‘ قرار دیتے ہیں، جو ان موضوعات کو سامنے لاتی ہے جو مرکزی دھارے میں کم نظر آتے ہیں۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK