• Sun, 27 September, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

فلسطین کے حق میں بولنے سے کبھی خوفزدہ نہیں ہوئی:ہالی ووڈ ادارہ فلورنس پگھ

Updated: September 27, 2026, 10:00 PM IST | Los Angeles

ہالی ووڈ اداکارہ فلورنس پگھ کا کہنا ہے کہ وہ فلسطین کے حق میں بولنے سے کبھی خوفزدہ نہیں تھیں،انہوں نے کہا کہ فلسطین کے معاملے پر دوسروں کی خاموشی نے انہیں الجھن میں ڈال دیا تھا، اور انہوں نے سوال کیا کہ عوامی شخصیات نے ہمدردی ظاہر کرنے میںاتنا وقت کیوں لیا۔

Hollywood actress Florence Pugh. Photo: X
آسکر کے لیے نامزد اداکارہ فلورنس پگھ۔ تصویر: ایکس

آسکر کے لیے نامزد اداکارہ فلورنس پگھ نے کہا ہے کہ وہ اپنی نئی فلم ایسٹ آف ایڈن کی تشہیر کے دوران فلسطین کے لیے آواز اٹھانے سے کبھی خوفزدہ نہیں تھیں۔ویریٹی کے ساتھ ایک خصوصی انٹرویو میں، اداکارہ نے کہا کہ کسی نے بھی انہیں اس معاملے پر خاموش رہنے کا مشورہ نہیں دیا، اور وہ الجھن میں تھیں کہ اتنی زیادہ تعداد میں لوگ اپنی حمایت کا اظہار کیوں نہیں کر رہے۔پگھ نے وینٹی فیئر کو بتایا، ’’مجھے نہیں معلوم کہ لوگوں کو بات شروع کرنے اور واقعی ہمدردی محسوس کرنے میں اتنا وقت کیوں لگا۔‘‘لیکن نہیں، میں اس سے کبھی خوفزدہ نہیں تھی۔ اور مجھے لگتا ہے کہ عجیب طور پر، چونکہ بہت سے لوگ فعال طور پر آواز نہیں اٹھا رہے تھے، اس نے مجھے اور بھی زیادہ الجھن میں ڈال دیا، اور شاید اس بارے میں بات کرنے کے لیے اور بھی زیادہ حق بجانب بنا دیا۔

یہ بھی پڑھئے: جنگی مجرم کی جگہ عدالت کے کٹہرے میں ہے،نہ کہ اقوام متحدہ کے منبر پر: صدر اردگان

بعد ازاںمشہور اداکارہ نے یہ بھی بتایا کہ غزہ پر آواز اٹھانے کی وجہ سے انہوں نے شایدلاکھوں فالوورز کھو دیے ہیں۔پگھ نے کہا، ’’تاہم، یہ اب بھی ہو رہا ہے۔ بچے اب بھی مر رہے ہیں۔ مائیں اب بھی درد میں ہیں۔ ایسے درد کو دیکھنا واقعی خوفناک ہے جب ہماری زندگیوں کا زیادہ تر حصہ آگے بڑھتا دکھائی دے رہا ہو۔مجھے لگتا ہے کہ سوشل میڈیا کے بارے میں میں نے یہی سب سے مشکل پایا: میں کیسے کہہ سکتی ہوں کہ میں واقعی اچھا وقت گزار رہی ہوں جب بالکل ایک اسکرول اوپر، میں ایک ایسے بچے کو دیکھ رہی ہوں جس کی ماں اور باپ نہیں؟‘‘
واضح رہے کہ فلسطین اور اسرائیل کے مظالم پر بات کرنے کی بہت سے ہالی ووڈ اداکاروں، خاص طور پر خواتین کو، بہت سے کرداروں اور مواقع کی قیمت چکانی پڑی ہے۔تھیلما اینڈ لوئیس میں اداکاری کے لیے مشہور تجربہ کار اداکارہ سوسن سیرینڈن نے انکشاف کیا کہ وہ اپنی فلسطین کی سرگرمی کی وجہ سے اب بھی کردار کھو رہی ہیں، جبکہ میلیسا بیریرا کو غزہ پر اپنی پوسٹوں کی وجہ سے اسکریم فرنچائز سے نکال دیا گیا تھا۔پگھ ان کئی نامور شخصیات میں سے ایک ہیں جنہوں نے فلسطین پر آواز اٹھائی، گزشتہ سال ٹوگیدر فار فلسطین ایونٹ میں اچانک شرکت کی، جہاں انسانی ہمدردی کی تنظیموں کے لیے ۲؍ ملین ڈالر سے زیادہ جمع کیے گئے۔اس وقت پگھ نے اسٹیج پر کہاتھا، ’’ایسے مصائب کے سامنے خاموشی غیر جانبداری نہیں، بلکہ شمولیت ہے، اور ہمدردی اتنی مشکل نہیں ہونی چاہیے اور یہ کبھی اتنی مشکل نہیں ہونی چاہیے تھی۔‘‘

یہ بھی پڑھئے: نیتن یاہو نے امریکہ میں اسرائیل کے وقار کو ’بے مثال پستی‘ تک پہنچا دیا ہے: ہاریٹز

مڈسومر کی اسٹار نے اکثر اپنے فالوورز کے ساتھ لنکس بھی شیئر کیے ہیں تاکہ فلسطینیوں کو انسانی امداد کے لیے فنڈز جمع کرنے میں مدد کی جا سکے۔پگھ کے ساتھ دیگر نمایاں ستاروں نے بھی اپنے پلیٹ فارمز کو فلسطینی مقصد کے بارے میں آگاہی بڑھانے کے لیے استعمال کیا ہے، کیونکہ غزہ پر اسرائیل کی نسل کشی جاری ہے۔حال ہی میں، فرنچائز کے کئی اداکاروں نے ’’فری مروان‘‘ مہم کی حمایت کی، جو قید فلسطینی لیڈرمروان برغوتی کی رہائی کا مطالبہ کرتی ہے۔ اس مہم کی حمایت مارک رفالو، بینیڈکٹ کمبر بیچ، تاتیانا ماسلانی اور مے کالاماوی سمیت دیگر ستاروں نے بھی کی ہے۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK