۱۹۹۷ء میں برطانوی اقتدار کے خاتمے کے بعد چین کے تحت ہانگ کانگ کے پہلے سربراہ بنے؛ ۲۰۰۳ءمیں متنازع قومی سلامتی قانون کے خلاف ۵؍ لاکھ افراد کے احتجاج کے بعد سیاسی ساکھ کو شدید نقصان پہنچا، ۲۰۰۵ء میں عہدہ چھوڑ دیا۔
EPAPER
Updated: September 09, 2026, 2:59 PM IST | Hong Kong
۱۹۹۷ء میں برطانوی اقتدار کے خاتمے کے بعد چین کے تحت ہانگ کانگ کے پہلے سربراہ بنے؛ ۲۰۰۳ءمیں متنازع قومی سلامتی قانون کے خلاف ۵؍ لاکھ افراد کے احتجاج کے بعد سیاسی ساکھ کو شدید نقصان پہنچا، ۲۰۰۵ء میں عہدہ چھوڑ دیا۔
ہانگ کانگ کے پہلے چیف ایگزیکٹو تنگ چی ہوا ۸۹؍ برس کی عمر میں انتقال کرگئے۔ ان کے دفتر نے بتایا کہ وہ ۸؍ ستمبر کو اہل خانہ کی موجودگی میں پُرسکون طور پر انتقال کرگئے۔ موت کی وجہ فوری طور پر نہیں بتائی گئی۔ تنگ چی ہوا نے ۱۹۹۷ء میں برطانیہ سے چین کو ہانگ کانگ کی حوالگی کے بعد شہر کے پہلے سربراہ کی حیثیت سے عہدہ سنبھالا اور ۲۰۰۵ء تک اس منصب پر رہے۔ تنگ چی ہوا ایک معروف شپنگ خاندان سے تعلق رکھتے تھے اور سیاست میں آنے سے پہلے خاندانی کاروبار سنبھالتے رہے۔ وہ ۱۹۳۷ء میں شنگھائی میں پیدا ہوئے، ۱۹۴۷ء میں خاندان کے ساتھ ہانگ کانگ منتقل ہوئے اور بعد میں برطانیہ کی یونیورسٹی آف لیورپول سے تعلیم حاصل کی۔ ۱۹۶۹ء میں ہانگ کانگ واپس آکر خاندانی شپنگ کاروبار میں شامل ہوئے اور ۱۹۸۲ء میں والد کی وفات کے بعد Orient Overseas شپنگ کاروبار کی قیادت سنبھالی۔
یہ بھی پڑھئے:یوپی پولیس کے ’انکاؤنٹر‘ بیانیے پر الہ آباد ہائی کورٹ کی سخت نظر
۱۹۹۶ء میں بیجنگ نواز ۴۰۰؍ رکنی انتخابی کمیٹی نے انہیں ہانگ کانگ کا پہلا چیف ایگزیکٹو منتخب کیا۔ یکم جولائی ۱۹۹۷ء کو انہوں نے عہدہ سنبھالا، جب برطانیہ نے ۱۵۰؍سال سے زائد نوآبادیاتی اقتدار کے بعد ہانگ کانگ چین کے حوالے کیا۔ ان کی حکومت نے ’’ایک ملک، ۲؍ نظام‘‘ کے تحت شہر کی اعلیٰ خودمختاری، آزاد اقتصادی نظام اور طرز زندگی برقرار رکھنے کا وعدہ کیا تھا۔ تنگ کے اقتدار کے ابتدائی برس انتہائی مشکل رہے۔ ایشیائی مالیاتی بحران، برڈ فلو اور بعد میں ۲۰۰۳ء کی SARS وبا نے ہانگ کانگ کی معیشت اور انتظامیہ کو سخت آزمائش میں ڈالا۔ SARS کے دوران تقریباً ۳۰۰؍ افراد ہلاک ہوئے اور حکومت پر سست اور ناقص ردعمل کے الزامات لگے۔ ان بحرانوں کے باعث عوام میں تنگ کی مقبولیت مسلسل کم ہوتی گئی۔
ان کے دور کا سب سے بڑا سیاسی تنازع ۲۰۰۳ء میں سامنے آیا، جب حکومت نے بنیادی قانون کی دفعہ ۲۳؍ کے تحت غداری، بغاوت اور قومی سلامتی سے متعلق جرائم کے خلاف قانون نافذ کرنے کی کوشش کی۔ ناقدین نے اسے شہری آزادیوں کے لیے خطرہ قرار دیا۔ تقریباً ۵؍ لاکھ افراد نے احتجاجی مارچ کیا، جس کے بعد حکومت نے قانون سازی کو مؤخر کردیا۔ یہی احتجاج ہانگ کانگ میں بیجنگ اور جمہوریت پسند حلقوں کے درمیان بڑھتی کشیدگی کا ایک اہم موڑ بن گیا۔ تنگ نے مارچ ۲۰۰۵ء میں چیف ایگزیکٹو کے عہدے سے استعفیٰ دے دیا اور صحت کو وجہ بتایا۔ وہ عہدے سے سبکدوش ہونے کے بعد بھی چینی سیاست میں بااثر رہے اور ۲۰۰۵ء سے ۲۰۲۳ء تک چینی عوامی سیاسی مشاورتی کانفرنس کی قومی کمیٹی کے نائب چیئرمین رہے۔ ۲۰۱۹ء میں چینی صدر شی جن پنگ نے انہیں ’’ایک ملک، ۲؍ نظام‘‘ کے نفاذ اور ہانگ کانگ کی چین کو واپسی میں خدمات کے اعتراف میں قومی اعزاز سے نوازا۔
۲۰۱۹ء کے بڑے جمہوریت نواز مظاہروں کے دوران تنگ نے مظاہرین کے خلاف بیجنگ کے مؤقف کی حمایت کی اور ۲۰۲۰ء میں ہانگ کانگ میں نافذ کیے گئے قومی سلامتی قانون کا دفاع کیا۔ ۲۰۲۱ء میں انتخابی نظام میں تبدیلیوں کی بھی حمایت کی، جن کے نتیجے میں حزب اختلاف کے جمہوریت پسند حلقوں کی سیاسی نمائندگی نمایاں طور پر محدود ہوگئی۔ ۲۰۲۴ءمیں دفعہ ۲۳؍ کے تحت قومی سلامتی سے متعلق نئی قانون سازی بھی ہانگ کانگ میں منظور ہوئی۔ تنگ حالیہ برسوں میں منظرعام سے تقریباً غائب رہے تھے۔ انہیں آخری مرتبہ جولائی ۲۰۲۱ء میں عوامی تقریب میں دیکھا گیا تھا۔ ہانگ کانگ کے موجودہ چیف ایگزیکٹو جان لی نے ان کے انتقال پر گہرے رنج کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ تنگ نے شہر اور چین کے درمیان اقتصادی تعلقات مضبوط کرنے اور ’’ایک ملک، ۲؍ نظام‘‘ کے نفاذ میں اہم کردار ادا کیا۔
یہ بھی پڑھئے:اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کا ۸۱؍ واں اجلاس شروع، عالمی نظام پر اعتماد بحال کرنے پر زور
ان کے انتقال کے موقع پر ان کی سیاسی میراث پر بحث بھی دوبارہ شروع ہوگئی ہے۔ بعض تجزیوں کے مطابق ان کی رہائش، ٹیکنالوجی اور چین کے ساتھ اقتصادی روابط سے متعلق طویل المدتی پالیسیاں بعد کی حکومتوں میں بھی کسی نہ کسی شکل میں جاری رہیں، جبکہ ان کے ناقدین انہیں ہانگ کانگ میں بیجنگ کے بڑھتے سیاسی اثر و رسوخ کے ابتدائی دور کی علامت قرار دیتے ہیں۔ موجودہ چیف ایگزیکٹو جان لی ۱۶؍ ستمبر کو ہانگ کانگ کا پہلا ۵؍ سالہ اقتصادی و سماجی ترقی منصوبہ پیش کرنے والے ہیں، جس میں رہائش، ٹیکنالوجی اور چین کے ساتھ مزید انضمام کو اہمیت دی جائے گی۔