پیر میں گولی مارنے سے لے کر ایف آئی آر، آزادانہ تفتیش اور پولیس اہلکاروں کو فوری انعام تک پر عدالت نے سوال اٹھائے، پولیس انکاؤنٹر کے دعوؤں کی جانچ پر بھی زور دیا۔
EPAPER
Updated: September 09, 2026, 12:03 PM IST | Hamidullah Siddiqui | Lucknow
پیر میں گولی مارنے سے لے کر ایف آئی آر، آزادانہ تفتیش اور پولیس اہلکاروں کو فوری انعام تک پر عدالت نے سوال اٹھائے، پولیس انکاؤنٹر کے دعوؤں کی جانچ پر بھی زور دیا۔
اترپردیش میں پولیس انکاؤنٹرس کے تعلق سے الہ آباد ہائی کورٹ کے حالیہ احکامات نے پولیس کی کارروائی اور انکاؤنٹر کے سرکاری بیانیے پر کئی اہم سوالات کھڑے کئے ہیں۔ عدالت نے واضح کیا کہ پولیس کو حقیقی دفاع میں طاقت استعمال کرنے کا حق حاصل ہے، لیکن انکاؤنٹر کسی پولیس اہلکار کو قانون اور فوجداری انصاف کے نظام سے باہر نہیں کرتا۔ ایک رپورٹ کے مطابق، ۲۰۲۶ء میں عدالت کے سامنے ایسے متعدد معاملات آئے جن میں پولیس کی جانب سے ملزم کے پیر میں گولی مارنے، انکاؤنٹر کی الگ ایف آئی آر درج نہ ہونے، آزادانہ تفتیش نہ کرانے اور پولیس اہلکاروں کو فوری انعام یا ترقی دینے جیسے واقعات اہم ہیں، ان پر عدالت نے سخت سوالات اٹھائے۔
یہ بھی پڑھئے:منی پور کے موسیقار’ سی وکرم سنگھ‘ کے قتل پر اپوزیشن سخت برہم
جنوری ۲۰۲۶ء میں’راجو عرف راجکمار بمقابلہ ریاست اترپردیش‘ معاملے میں جسٹس ارون کمار سنگھ دیشوال کی بنچ نے پولیس کارروائی پر سخت تبصرہ کیا۔ عدالت نے کہا کہ بعض معاملات میں پولیس اہلکار اعلیٰ افسران سے تعریف، آؤٹ آف ٹرن پروموشن یا سوشل میڈیا پر شہرت حاصل کرنے کیلئےعموماً غیر ضروری طور پر ملزم کے پیروں میں گولیاں مارتےہیں۔ عدالت نے واضح کیا کہ کسی ملزم کو سزا دینا عدلیہ کا اختیار ہے، پولیس کا نہیں۔ عدالت کے مطابق پولیس کسی غیر ضروری فائرنگ کے ذریعے کسی ملزم کو سزا دینے کی کوشش نہیں کرسکتی، خواہ گولی جسم کے غیر اہم حصے میں ہی کیوں نہ لگی ہو۔ ہائی کورٹ نے انکاؤنٹر کے معاملات میں سپریم کورٹ کے’ پیپلز یونین فارسول لبرٹیز‘ بمقابلہ ریاست مہاراشٹر فیصلے میں دی گئی ہدایات کا حوالہ بھی دیا۔ ان ہدایات کے مطابق اگر پولیس انکاؤنٹر میں کسی شخص کی موت یا شدید زخمی ہونے کا معاملہ ہو تو الگ ایف آئی آر درج کرنا، آزادانہ تفتیش کرانا، شواہد اور فورینسک مواد محفوظ رکھنا اور زخمی شخص کو طبی امداد فراہم کرنا ضروری ہے۔زخمی شخص کا بیان مجسٹریٹ یا میڈیکل افسر کے سامنے ریکارڈ کیا جانا چاہئے۔ عدالت نے یہ بھی واضح کیا کہ انکاؤنٹر میں شامل اہلکاروں کو فوری طور پر’ آؤٹ آف ٹرن پروموشن ‘یا بہادری کے انعامات نہیں دیئے جانے چاہئیں، جب تک ان کی کارروائی کی قانونی حیثیت ثابت نہ ہو جائے۔
اگست ۲۰۲۶ء میں الہ آباد ہائی کورٹ کی لکھنؤ بنچ کے سامنے ’علاءالدین بمقابلہ ریاست اترپردیش‘ کا معاملہ آیا تو عدالت نے صرف تفتیشی طریقۂ کار ہی نہیں بلکہ پولیس کی جانب سے پیش کی گئی پوری انکاؤنٹر کی کہانی پر سوال اٹھائے۔ہائی کورٹ نے محسوس کیا کہ سپریم کورٹ کی مقرر کردہ انکاؤنٹر گائیڈ لائنس پر پہلی نظر میں عمل نہیں ہوا، اسلئےسی بی آئی کو انکاؤنٹر ایف آئی آر کی جانچ کرنے اور تین ماہ میں رپورٹ پیش کرنے کی ہدایت دی۔اس کے ساتھ ہی آئندہ سماعت کیلئے ۲۳؍ نومبرکی تاریخ مقرر کی۔
یہ بھی پڑھئے:جرمن طلبہ نے PISA ٹیسٹ میں اب تک کے سب سے کم اسکور حاصل کئے
علاءالدین بمقابلہ ریاست اترپردیش
پولیس ایف آئی آر کے مطابق ۱۳؍ پولیس اہلکار ایک سرکاری گاڑی سے ملزم کی تلاش میں تھے، بعد میں ۱۰؍ رکنی’سواٹ‘ ٹیم بھی ان کے ساتھ شامل ہوگئی،یعنی مجموعی طور پر۲۳؍ اہلکار کارروائی میں موجود تھے۔ پولیس کا کہنا تھا کہ ملزم ای رکشا سے فرار ہونے کی کوشش کر رہا تھا، اس نے پولیس پر فائرنگ کی اور پھر پولیس افسر نے جوابی کارروائی میں دو گولیاں چلائیں جو اس کی دونوں ٹانگوں میں لگیں۔ جسٹس سبھاش ودیارتھی کی بنچ نے پولیس کی اس کہانی کو پہلی نظر میں ناقابل یقین قرار دیتے ہوئے سوال کیا کہ۱۳؍ پولیس اہلکار ایک ہی گاڑی میں کس طرح سوار تھے۔ عدالت نے اس پر بھی حیرانی کااظہار کیا کہ۲۳؍ اہلکار ایک ای رکشے پر سوار شخص کو روکنے میں ناکام رہے۔ عدالت نے اس پر بھی سوال اٹھایا جب متعلقہ تھانہ انچارج نے بتایا کہ اس نے تقریباً ۱۵؍میٹر کی دوری سے، چاندنی رات میں، صرف ہتھیار لوڈ کئے جانے کی آواز سن کر فائرنگ کی تھی اور دونوں گولیاں ملزم کی ٹانگوں میں لگیں۔عدالت نےرپورٹ میں درج زخموں اور پولیس افسر کے بیان کا جائزہ لیا اور اس کی وضاحت کو تسلی بخش نہیں پایا۔ عدالت نے جانچ کا حکم دیا کہ تھانہ انچارج ۹؍ ایم ایم سروس پستول سے رات کو تقریباً ۱۵؍ میٹر کی دوری سے اس طرح درست نشانہ لگا سکتا ہے یا نہیں۔