Inquilab Logo Happiest Places to Work

ہرمز پر کنٹرول سخت، عالمی توانائی سپلائی اور جہاز رانی دباؤ میں

Updated: April 07, 2026, 8:04 PM IST | Tehran

آبنائے ہرمز کے گرد کشیدگی نے عالمی توانائی سپلائی، ایل این جی تجارت اور بحری نقل و حمل کو متاثر کیا ہے۔ ایران نے مخصوص جہازوں کو اجازت دیتے ہوئے کنٹرول برقرار رکھا ہے، جبکہ اقوام متحدہ اس صورتحال پر قرارداد لانے کی تیاری کر رہا ہے۔ قطر کے ایل این جی ٹینکرز کو محدود کلیئرنس دی گئی ہے اور توانائی منڈیوں میں غیر یقینی صورتحال برقرار ہے۔ اس کے ساتھ چین نے متبادل توانائی نظام کی رفتار بڑھانے کا اعلان کیا ہے، جبکہ عالمی سطح پر تیل اور گیس کی سپلائی کے حوالے سے خدشات میں اضافہ ہوا ہے۔

Photo: X
تصویر: ایکس

(۱) ایران نے قطر کے ایل این جی ٹینکرز کو آبنائے ہرمز سے گزرنے کیلئے پیشگی کلیئرنس دے دی: رپورٹ
رپورٹس کے مطابق ایران نے قطر کے ایل این جی ٹینکرز کو آبنائے ہرمز سے گزرنے کیلئے پیشگی کلیئرنس دے دی ہے، جس کے تحت مخصوص جہازوں کو محدود اجازت کے ساتھ راستہ فراہم کیا جا رہا ہے۔ بحری ذرائع کے مطابق یہ کلیئرنس توانائی سپلائی کے تسلسل کو برقرار رکھنے کیلئے دی گئی، جبکہ دیگر جہازوں کیلئے پابندیاں برقرار ہیں۔ ایک رپورٹ میں کہا گیا کہ ’’قطری ایل این جی جہازوں کو پیشگی منظوری کے بعد گزرنے کی اجازت دی گئی ہے۔‘‘ قطر دنیا کے بڑے ایل این جی برآمد کنندگان میں شامل ہے اور اس کی سپلائی متاثر ہونے کی صورت میں عالمی گیس مارکیٹ پر اثرات پڑ سکتے ہیں۔ ذرائع کے مطابق اس اقدام کے باوجود جہاز رانی مکمل طور پر معمول پر نہیں آئی اور سیکوریٹی خدشات برقرار ہیں۔

یہ بھی پڑھئے: اسرائیل کا اہم شہر حیفا لرز اُٹھا، ایرانی حملے میں ۴؍ ہلاک

(۲) اقوام متحدہ سلامتی کونسل ہرمز میں جہاز رانی کے خطرات پر قرارداد کیلئے تیار
اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل آبنائے ہرمز میں جہاز رانی کے خطرات سے نمٹنے کیلئے ایک قرارداد پر ووٹنگ کی تیاری کر رہی ہے۔ سفارتی ذرائع کے مطابق مجوزہ قرارداد میں جہازوں کے تحفظ، معلومات کے تبادلے اور بین الاقوامی تعاون پر زور دیا گیا ہے۔ ایک سفارتی اہلکار نے کہاکہ ’’یہ قرارداد بحری سلامتی کو بہتر بنانے کیلئے اقدامات تجویز کرتی ہے۔‘‘
رپورٹس کے مطابق امریکہ اور خلیجی ممالک اس اقدام کی حمایت کر رہے ہیں، جبکہ چین اور روس نے سخت اقدامات پر تحفظات ظاہر کیے ہیں۔ یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب ہرمز میں کشیدگی کے باعث عالمی سپلائی چین متاثر ہو رہی ہے۔

(۳) چین کا اقدام: مشرق وسطیٰ جنگ کے دوران توانائی نظام کی تیز رفتار تشکیل
چین کے صدر شی جن پنگ نے کہا ہے کہ مشرق وسطیٰ میں جاری کشیدگی کے باعث متبادل توانائی نظام کی ترقی کو تیز کیا جا رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ’’ہم توانائی کے نئے نظام کی تشکیل کو تیز کریں گے تاکہ عالمی سپلائی میں استحکام برقرار رکھا جا سکے۔‘‘ چینی حکام کے مطابق اس اقدام کا مقصد بیرونی توانائی ذرائع پر انحصار کم کرنا اور داخلی توانائی کے ڈھانچے کو مضبوط بنانا ہے۔

یہ بھی پڑھئے: ایران جنگ: جاپان کا ہرمز میں تحفظ کا مطالبہ، ایشیاء متبادل راستوں کی تلاش میں

(۴) ٹرمپ کا مؤقف تبدیل: ایرانی تیل پر انحصار سے انکار کے بعد نئی پالیسی اشارے
ٹرمپ نے ایرانی تیل کے حوالے سے اپنے مؤقف میں تبدیلی کے اشارے دیے ہیں۔ رپورٹس کے مطابق انہوں نے پہلے کہا تھا کہ امریکہ کو ایرانی تیل کی ضرورت نہیں، تاہم حالیہ بیانات میں اس حوالے سے لچک دکھائی گئی ہے۔ ایک بیان میں انہوں نے کہا کہ ’’ہم اپنے مفادات کے مطابق فیصلے کریں گے۔‘‘ ذرائع کے مطابق یہ تبدیلی توانائی کی عالمی صورتحال اور سپلائی خدشات کے تناظر میں دیکھی جا رہی ہے۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK