• Sat, 12 September, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

حوثیوں کا بحیرۂ احمر کے پورے ساحلی علاقے پرقبضہ

Updated: September 12, 2026, 1:22 PM IST | Agency | Sanaa

حوثیوں کا باب المندب کی اہم بحری گزرگاہ پر کنٹرول مزید مضبوط ہو گیا ہے جو خلیج عدن کو بحیرۂ احمر سے ملاتی ہے۔

A soldier from the Yemeni government army operating a machine gun during the fight against the Houthis. Photo: INN
حوثیوں سے لڑائی کےد وران یمن کی سرکاری فوج کا جوان مشین گن چلاتے ہوئے۔ تصویر: آئی این این

الجزیرہ کے مطابق حوثیوں نے یمن کے بحیرۂ احمر کے پورے ساحلی علاقے پر کنٹرول حاصل کر لیا ہے۔جمعہ کی صبح بین الاقوامی سطح پر تسلیم شدہ یمنی حکومت کی فورسیز کے خلاف تیز رفتار پیش قدمی کرتے ہوئے باغی گروپ نے ساحل پر واقع آخری قصبوں پر بھی قبضہ کر لیا اور آبنائے باب المندب میں واقع جزیروں تک بھی پیش قدمی کی۔ یہ بات حکومتی ذرائع اور عینی شاہدین نے بتائی۔اس پیش قدمی سے حوثیوں کا باب المندب کی اہم بحری گزرگاہ پر کنٹرول مزید مضبوط ہو گیا ہےجو خلیج عدن کو بحیرۂ احمر سے ملاتی ہے۔یہ بحری راستہ آبنائے ہرمز کے متبادل کے طور پر اہم رہا ہے۔

یہ بھی پڑھئے: سوئفٹی فائلس سے ملئے! پودے کھانے والے نئے دریافت شدہ کیڑوں کا نام ٹیلر سوئفٹ کے نام پر رکھا گیا

دوسری جانب ایرانی سرکاری خبر رساں ایجنسی’ ارنا‘ کے مطابق یمن کی حوثی تحریک (انصار اللہ) نے دعویٰ کیا ہے کہ اس کے جنگجوؤں نے آبنائے باب المندب پر نظر رکھنے والے اہم فوجی مرکز العمری گارژن کا مکمل کنٹرول حاصل کر لیا ہے۔حوثیوں کے مطابق ان کی بحری فورسیز نے بحیرۂ احمر میں واقع اہم جزیرہ زقر پر بھی مکمل کنٹرول قائم کر لیا ہے اور جزیرے کو مخالف فورسیز سے خالی کرا لیا گیا ہے۔ رواں سال کے آغاز میں امریکہ اور ایران کے درمیان جنگ شروع ہونے سے قبل دنیا بھر کی تقریباً پانچواں حصہ توانائی کی ترسیلات یہیںسے گزرتی تھیں۔ الجزیرہ کے مطابق حوثی جنگجو جمعرات کو طلوعِ فجر کے وقت ساحلی قصبے موخا پہنچے اور اس کے بعد سمندر کی جانب پیش قدمی کرتے ہوئے قریبی جزیروں پر قبضہ کر لیا۔یمنی حکومت کے ذرائع نے جمعہ کو رائٹرز کو بتایا کہ حوثی جنگجو باب المندب کے ساحل پر واقع قصبے ذباب تک پہنچ گئے ہیں۔حکومتی حکام کے مطابق سرکاری فورسیز کے انخلاء کے بعد جنگجوؤں کو لے جانے والی کشتیاں میون جزیرے تک پہنچ گئیں جسے پیریم بھی کہا جاتا ہے ۔ یہ جزیرہ آبنائے باب المندب کے عین وسط میں واقع ہے۔ذرئع نے خبر رساں ادارے اے ایف پی کو بتایاکہ حوثیوں نے باب المندب کے علاقے پر اپنا قبضہ مکمل کر لیا ہے۔حوثیوں کے دعوے پر یمنی حکومت یا سعودی حمایت یافتہ فورسز کی جانب سے فوری طور پر کوئی تبصرہ سامنے نہیں آیا لیکن حالیہ دنوں میں مغربی یمن کے ساحلی علاقوں میں شدید لڑائی اور حوثیوں کی پیش قدمی کی اطلاعات موصول ہو رہی ہیں۔

یہ بھی پڑھئے: ۱۱؍ ستمبر حملوں کے متاثرین کی یاد میں نیویارک ہاربر میں ڈرونز کا شاندار مظاہرہ

سعودی پر حوثیوں کے حملے کی مذمت

اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل نے سعودی عرب پر حوثیوں کے حملے کی شدید مذمت کی ہے اور ریاض سے یکجہتی کا اظہار کیا ہے۔رکن ممالک نے خبردار کیا ہے کہ۲۰۲۲ءمیں ہونے والے جنگ بندی کے معاہدے کے بعد پہلی بار یمن دوبارہ ایک وسیع جنگ کی طرف جا سکتا ہے۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK