Inquilab Logo Happiest Places to Work

ڈنمارک: اسلامائزیشن کے خدشات، اذان پر پابندی کی تجویز، قانونی جائزہ دوبارہ شروع

Updated: June 26, 2026, 6:03 PM IST | Copenhagen

ڈنمارک کی حکومت نے اذان پر ممکنہ پابندی عائد کرنے کیلئے قانونی جائزہ دوبارہ شروع کرنے کا اعلان کیا ہے۔ حکومت کا مؤقف ہے کہ یہ اقدام عوامی نظم و نسق اور انضمامی پالیسیوں کے تناظر میں کیا جا رہا ہے، جبکہ اس پر مذہبی آزادی سے متعلق نئی بحث بھی چھڑ گئی ہے۔

Danish Minister for Migration Morten Bodskov. Photo: INN
ڈنمارک کے وزیر برائے مائیگریشن مورٹن بوڈسکوف۔ تصویر: آئی این این

’دی ٹیلی گراف‘ کی رپورٹ کے مطابق ڈنمارک کے امیگریشن وزیر مورٹن بوڈسکوف نے اذان پر پابندی لگانے کا منصوبہ پیش کیا ہے۔ وزیر کا کہنا ہے کہ ملک کے بعض حصے ایسے محسوس ہوتے ہیں جیسے وہ ’اسلام آباد کا کوئی مضافاتی علاقہ‘ ہوں۔ رپورٹ کے مطابق، ڈنمارک نے بوڈسکوف کی قیادت میں امیگریشن اور انضمام (Integration) سے متعلق اپنی پالیسیاں مزید سخت کر دی ہیں۔ 

یہ بھی پڑھئے: ڈونالڈ ٹرمپ کے غزہ امن بورڈ پر فلسطینی ریاست کے قیام کے امکان کوکچلنے کا الزام

ڈنمارک اب یہ قدم کیوں اٹھا رہا ہے؟
ڈنمارک ایک بار پھر اذان پر ملک گیر پابندی پر غور کر رہا ہے جس سے یورپ میں امیگریشن اور مذہبی انضمام سے متعلق ایک متنازع بحث دوبارہ شروع ہو گئی ہے۔ حکومت یورپ کی سخت ترین انضمامی پالیسیوں کو مزید آگے بڑھانا چاہتی ہے۔ مرکزِ بائیں بازو کی سوشل ڈیموکریٹس پارٹی سے تعلق رکھنے والے وزیر مورٹن بوڈسکوف نے اعلان کیا کہ حکومت اذان پر پابندی کے قانونی امکانات کا دوبارہ جائزہ لے گی۔ انہوں نے نیوز ایجنسی رٹزاؤ سے گفتگو کرتے ہوئے کہا:’’اذان کی آواز ڈنمارک کی چھتوں پر سنائی نہیں دینی چاہئے۔ اس کی ڈنمارک میں کوئی جگہ نہیں، اور لوگوں کو یہ محسوس نہیں ہونا چاہئے کہ وہ ڈنمارک میں چلتے ہوئے اسلام آباد کے کسی مضافاتی علاقے میں پہنچ گئے ہیں۔‘‘ملک کے بعض علاقوں، مثلاً کوپن ہیگن میں، پہلے ہی شور سے متعلق قوانین (Noise Regulations) کی وجہ سے میناروں سے لاؤڈ اسپیکر کے ذریعے اذان نشر کرنے پر پابندی ہے۔ بوڈسکوف کا یہ بھی کہنا تھا کہ ڈنمارک میں بڑھتی ہوئی ’’اسلامائزیشن‘‘عوامی جگہ پر بہت زیادہ اثر انداز ہو رہی ہے، اسی لئے اس معاملے کا دوبارہ جائزہ لیا جا رہا ہے۔ 

یہ بھی پڑھئے: عزم کی مثال: وہیل چیئر پر حاجی زین اقبال نائک کے سفر حج کی کہانی انہی کی زبانی

یہ تجویز دوبارہ کیوں سامنے آئی؟
اذان مسلمانوں کو نماز کیلئے مسجد بلانے کی صدا ہے، جو روزانہ پانچ مرتبہ دی جاتی ہے اور عموماً میناروں پر نصب لاؤڈ اسپیکرز کے ذریعے علاقے کے لوگوں تک پہنچائی جاتی ہے۔ یہ تیسری بار ہے کہ کسی ڈینش وزیرِ امیگریشن نے اذان پر پابندی کیلئے قانونی فریم ورک بنانے کی کوشش کی ہے۔ اس سے پہلے۲۰۲۰ء اور۲۰۲۵ء میں بھی سوشل ڈیموکریٹس کی حکومت نے اسی نوعیت کی کوششیں کی تھیں۔ یہ پیش رفت وزیر اعظم میٹے فریڈرکسن کی تیسری مدتِ حکومت کے آغاز کے بعد سامنے آئی ہے۔ ان کی حکومت نے یورپ کی سخت ترین امیگریشن پالیسیوں میں سے بعض نافذ کی ہیں، اور اسے اکثر ’کم امیگریشن والی بائیں بازو کی سیاست‘(Low Immigration Left) کی مثال کے طور پر پیش کیا جاتا ہے، جسے یورپ کے بعض معتدل سیاست دان بھی قابلِ تقلید سمجھتے ہیں۔ 

یہ بھی پڑھئے: چین میں متنازع اشتہار پر ڈیٹول کی معافی، خواتین سے متعلق پیغام پر شدید ردعمل

ڈنمارک کی امیگریشن پالیسی کیسے سخت ہوئی؟
اذان پر نظرِ ثانی کا فیصلہ ان سخت امیگریشن پالیسیوں کا حصہ ہے جو کئی برسوں سے ڈنمارک کی سیاست کی پہچان بن چکی ہیں۔ ’’گیٹو‘‘ (Ghetto) قوانین کے تحت حکومت ایسے محلوں سے لوگوں کو منتقل کر سکتی ہے جہاں غیر ملکی نژاد افراد کی تعداد مقررہ حد سے زیادہ ہو۔ پناہ کے متلاشی افراد (Asylum Seekers) سے رہائش کے اخراجات پورے کرنے کیلئے زیورات اور دیگر قیمتی اشیاء لینے کا قانون بھی موجود ہے۔ جن افراد کی پناہ کی درخواست مسترد ہو جائے، انہیں مالی امداد بھی فراہم نہیں کی جاتی۔ ۲۰۱۵ء کے یورپی مہاجر بحران کے دوران، جب مشرقِ وسطیٰ میں جنگ اور بدامنی کے باعث دس لاکھ سے زائد افراد یورپ پہنچے، ڈنمارک نے اپنے ہمسایہ ممالک کے مقابلے میں بہت کم پناہ گزین قبول کئے۔ اسی وجہ سے ملک میں غیر ملکی نژاد آبادی نسبتاً کم رہی، جسے مسلسل آنے والی حکومتوں نے اپنی پالیسی کی کامیابی قرار دیا۔ 

یہ بھی پڑھئے: ہندوستان، بنگلہ دیشی شہریوں کیلئے دو سال سے معطل سیاحتی ویزا خدمات کو دوبارہ شروع کرے گا

اس وقت ڈنمارک کی تقریباً۶۰؍ لاکھ آبادی میں لگ بھگ ۲؍ لاکھ۷۰؍ ہزار مسلمان رہتے ہیں، جبکہ ملک میں تقریباً ۱۰۰؍مساجد موجود ہیں۔ قابلِ ذکر بات یہ ہے کہ کوپن ہیگن کی گرینڈ مسجد پہلے ہی مقامی حکام کے ساتھ رضاکارانہ معاہدے کے تحت باہر لاؤڈ اسپیکر سے اذان نشر نہیں کرتی۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ لاؤڈ اسپیکر کے ذریعے اذان کا رواج ویسے بھی بہت محدود ہے، جبکہ اس معاملے کو سیاسی طور پر زیادہ بڑھا چڑھا کر پیش کیا جا رہا ہے۔ 

یہ بھی پڑھئے: چین: LineShine دنیا کا تیز ترین سپر کمپیوٹر بن گیا، امریکہ پہلی پوزیشن سے محروم

آگے کیا ہوگا؟
اس تجویز پر ردِعمل حسبِ توقع مختلف رہا ہے۔ حامیوں کا کہنا ہے کہ آج کے دور میں، جب تقریباً ہر شخص کے پاس اسمارٹ فون اور نماز کے اوقات یاد دلانے والی ایپس موجود ہیں، تو لاؤڈ اسپیکر سے اذان دینا ضروری نہیں رہا۔ ان کے مطابق اصل مسئلہ مذہب نہیں بلکہ شور اور عوامی مقامات کا مشترکہ استعمال ہے۔ دوسری جانب ناقدین کا مؤقف ہے کہ ایسی پابندی مذہبی آزادی کو محدود کر سکتی ہے۔ حکومت نے ابھی تک یہ نہیں بتایا کہ قانونی جائزہ کب مکمل ہوگا۔ اگر پابندی کی تجویز کو قانون کی شکل دی جاتی ہے، تو اس کا انحصار اس بات پر ہوگا کہ آیا یہ ڈنمارک کے آئین اور یورپی انسانی حقوق کے قوانین سے مطابقت رکھتی ہے یا نہیں۔ 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK