ہیومن رائٹس واچ کے ڈائریکٹر نے فلسطینیوں کے حقِ واپسی پر رپورٹ پر پابندی عائد کئے جانے کے بعد اپنے عہدے سے استعفیٰ دے دیا۔وہ ایک دہائی سے اس سے وابستہ تھے۔
EPAPER
Updated: February 04, 2026, 9:01 PM IST | Gaza
ہیومن رائٹس واچ کے ڈائریکٹر نے فلسطینیوں کے حقِ واپسی پر رپورٹ پر پابندی عائد کئے جانے کے بعد اپنے عہدے سے استعفیٰ دے دیا۔وہ ایک دہائی سے اس سے وابستہ تھے۔
ہیومن رائٹس واچ (ایچ آر ڈبلیو) کے اسرائیل-فلسطین ڈائریکٹر عمر شاکر اور یروشلم میں ان کے ایک محقق نے تنظیم کی جانب سے فلسطینی واپسی کے حق پر ایک رپورٹ روکنے کے بعد استعفیٰ دے دیا ہے۔ شاکر، جو تنظیم کے ساتھ ایک دہائی سے زیادہ عرصے سے کام کر رہے تھے، نے کہا کہ انھوں نے ’’حقائق اور قانون کے اطلاق پر اصولی رپورٹنگ کے حوالے سے نئی قیادت کے سوال اٹھانے کے بعد استعفیٰ دے دیا۔واضح رہے کہ ایچ آر ڈبلیو کے نئے ایگزیکٹو ڈائریکٹر فلپ بولوپین نے گزشتہ سال اپنا عہدہ سنبھالا تھا۔ خبروں کے مطابق، شاکر نے اپنے استعفیٰ کے خط میں کہا کہ بولوپین نے،ایک رپورٹ جس کا عنوان تھا،’’ہماری روحیں ان گھروں میں ہیں جو ہم نے چھوڑے: اسرائیل کا فلسطینیوں کے واپسی کے حق سے انکار اور انسانیت کے خلاف جرائم‘‘ کو بغیر جائز بنیاد کے روک دیا۔ شاکر نے منگل کو ایکس (سابقہ ٹویٹر) پر لکھا، ’’ میں ایک زیادہ منصفانہ دنیا کی جدوجہد نہیں چھوڑوں گا اور آنے والے دنوں میں اپنے اگلے اقدامات کے بارے میں مزید شیئر کرنے کی توقع رکھتا ہوں۔‘‘
یہ بھی پڑھئے: رفح کراسنگ پر فلسطینیوں کے ساتھ اسرائیلی رویہ، منظم دہشت گردی ہے: حماس
دریں اثناءفلسطینی کارکنوں نے بین الاقوامی گروپ کی سالمیت پر سوال اٹھائے ہیں۔ایک بیان میں، ایچ آر ڈبلیو نے کہا کہ ’’مذکورہ رپورٹ میں پیچیدہ اور دور رس نتائج کے حامل مسائل اٹھائے گئے تھے۔ہمارے جائزہ کے عمل میں، ہم اس نتیجے پر پہنچے کہ تحقیق کے بعض پہلوؤں اور ہمارے قانونی نتائج کی حقائق پر مبنی بنیادوں کو ہیومن رائٹس واچ کے اعلیٰ معیارات پر پورا اترنے کے لیے مضبوط بنانے کی ضرورت ہے۔ اسی وجہ سے، مزید تجزیہ اور تحقیق تک رپورٹ کااجرا موخر کر دیا گیا ہے۔ تاہم شاکر نے الجزیرہ کو بتایا کہ رپورٹ۴؍ دسمبر کو شائع ہونے والی تھی اور اندرونی جائزے کے دوران ایچ آر ڈبلیو میں دیگر عہدیداروں کی جانب سے اسے منظوری دے دی گئی تھی۔
یہ بھی پڑھئے: رفح کراسنگ سے بذریعہ بس۱۲؍ فلسطینیوں کی غزہ واپسی، محدود بحالی کا آغاز
یاد رہے کہ ایچ آر ڈبلیو پر۱۷؍ اکتوبر۲۰۲۳ء کے ال اہلی اسپتال پر حملے سے متعلق اپنی قبل از وقت رپورٹ پر فلسطینی گروپوں کی جانب سے سخت تنقید کی گئی تھی، جس میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ اسپتال میں ہونے والا دھماکا راکٹ سے چلنے والے گولے سے ہوا تھا اور یہ مفروضہ پیش کیا کہ فلسطینی مسلح گروپ عام طور پر ایسے راکٹ استعمال کرتے ہیں۔جبکہ فورینسک آرکیٹیکچر، دی نیویارک ٹائمز اور دی واشنگٹن پوسٹ کی تحقیقات نے اس نتیجے کی بڑے پیمانے پر تردید کی تھی۔