Updated: July 24, 2026, 9:02 PM IST
| New York
سائنس دانوں کی ایک نئی تحقیق میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ اگر بڑھاپے سے جڑے تقریباً تمام قابلِ علاج حیاتیاتی عوامل پر قابو پا لیا جائے تو انسان کی زیادہ سے زیادہ ممکنہ عمر ۱۵۶؍ سال تک پہنچ سکتی ہے۔ تاہم محققین نے واضح کیا ہے کہ موجودہ طبی حالات میں انسان کی عملی زیادہ سے زیادہ عمر تقریباً ۱۱۶؍ سال کے آس پاس ہی رہتی ہے، اور ۱۵۶؍ سال ایک نظریاتی بالائی حد ہے، نہ کہ موجودہ دور میں حاصل کی جانے والی متوقع عمر۔
سائنسدانوں کی ایک نئی تحقیق نے انسانی عمر کے حوالے سے دلچسپ بحث چھیڑ دی ہے۔ تحقیق کے مطابق اگر بڑھاپے کے تقریباً تمام ایسے حیاتیاتی عوامل، جنہیں مستقبل میں علاج یا جدید ٹیکنالوجی کے ذریعے تبدیل کیا جا سکتا ہے، ختم کر دیے جائیں تو انسان کی زیادہ سے زیادہ ممکنہ عمر ۱۵۶؍ برس تک پہنچ سکتی ہے۔ محققین کا کہنا ہے کہ اس حد کا تعین ایک نئے ریاضیاتی ماڈل کی مدد سے کیا گیا، جو جسم میں عمر کے ساتھ جمع ہونے والی مستقل جینیاتی (Somatic) تبدیلیوں پر مبنی ہے۔ تحقیق میں بتایا گیا ہے کہ انسانی جسم میں وقت کے ساتھ ڈی این اے میں ایسی مستقل تبدیلیاں جمع ہوتی رہتی ہیں جنہیں سومیٹک میوٹیشنز (Somatic Mutations) کہا جاتا ہے۔ یہ تبدیلیاں ہر خلیے میں بتدریج بڑھتی ہیں اور آخرکار جسم کے مختلف اعضا کی کارکردگی کو متاثر کرتی ہیں۔ محققین کے مطابق اگرچہ مستقبل میں بہت سے حیاتیاتی نقصانات کو کم یا ختم کرنا ممکن ہو سکتا ہے، لیکن ان مستقل جینیاتی تبدیلیوں کو مکمل طور پر روکنا فی الحال ممکن نہیں، اور یہی انسانی عمر کی آخری حد متعین کرنے والا بنیادی عنصر بن سکتی ہیں۔
یہ بھی پڑھئے: ترکی: طیب اردگان نے کیک ناٹ ہیٹ مہم چلانے والے آٹزم کے شکار ہیرس سے ملاقات کی
تحقیق کے مطابق موجودہ دور میں انسان کی عملی زیادہ سے زیادہ عمر تقریباً ۷ء۱۱۵؍ سے ۱۱۶؍ سال کے آس پاس ہے، جبکہ تاریخ میں سب سے زیادہ تصدیق شدہ عمر فرانس کی جین کالمان کی رہی، جو۱۲۲؍ سال اور ۱۶۴؍ دن تک زندہ رہیں۔ سائنس دانوں نے واضح کیا کہ ۱۵۶؍ سال کی حد کا مطلب یہ نہیں کہ آج کے طبی نظام کے تحت لوگ اتنی عمر پانے لگیں گے، بلکہ یہ ایک نظریاتی حد ہے جو اس صورت میں ممکن ہو سکتی ہے جب بڑھاپے کے تقریباً تمام قابلِ علاج عوامل پر قابو پا لیا جائے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اس تحقیق سے عمر بڑھانے کے بجائے بڑھاپے کے حیاتیاتی عمل کو بہتر طور پر سمجھنے میں مدد ملے گی۔ ان کے مطابق اگر مستقبل میں جین تھیراپی، خلیاتی مرمت اور دیگر جدید طبی ٹیکنالوجیز ترقی کرتی ہیں تو انسان نہ صرف زیادہ عرصہ زندہ رہ سکتا ہے بلکہ صحت مند زندگی کے سال بھی بڑھ سکتے ہیں۔ تاہم یہ تمام امکانات ابھی تحقیق کے مرحلے میں ہیں اور انہیں عملی علاج قرار نہیں دیا جا سکتا۔
یہ بھی پڑھئے: امریکی کانگریس مین رو کھنہ نے اسرائیلی جیل میں قید رہنے والے فلسطینی نوجوان کی ’ہولناک‘ کہانی سنائی
محققین نے اس بات پر بھی زور دیا کہ صحت مند طرزِ زندگی، متوازن غذا، باقاعدہ ورزش، مناسب نیند اور بیماریوں کی بروقت تشخیص آج بھی لمبی اور بہتر زندگی کے لیے سب سے مؤثر عوامل ہیں۔ ان کے مطابق نئی تحقیق مستقبل کی سائنسی پیش رفت کے امکانات ضرور ظاہر کرتی ہے، لیکن فی الحال ۱۵۶؍ سال تک زندگی گزارنے کا دعویٰ ایک نظریاتی سائنسی تخمینہ ہے، نہ کہ موجودہ حقیقت۔