Inquilab Logo Happiest Places to Work

امریکی کانگریس مین رو کھنہ نے اسرائیلی جیل میں قید رہنے والے فلسطینی نوجوان کی ’ہولناک‘ کہانی سنائی

Updated: July 23, 2026, 7:09 PM IST | Washington

رو کھنہ نے بتایا کہ اسرائیلی افواج ۱۵ سالہ محمد کو آدھی رات کو اس کے گھر سے اٹھا کر لے گئی تھیں۔ پولیس اسٹیشن لائے جانے سے پہلے ایک فوجی کیمپ میں اس کی آنکھوں پر پٹی باندھی گئی، زپ ٹائی (ہتھکڑی) لگائی گئی اور اس پر تشدد کیا گیا۔ اسے اپنے والدین سے ملنے اور وکیل کی سہولت حاصل کرنے سے محروم رکھا گیا۔

Ro Khanna. Photo: X
رو کھنہ۔ تصویر: ایکس

امریکی کانگریس مین رو کھنہ نے فلوریڈا سے تعلق رکھنے والے ایک فلسطینی-امریکی نوجوان کی کہانی بیان کی جسے بغیر کسی الزام کے تقریباً ۱۰ ماہ تک اسرائیلی حراست میں رکھا گیا۔ انہوں نے اسے انسانی حقوق کی خلاف ورزی کا ”ہولناک“ واقعہ قرار دیا جسے حل کرنے میں ان کا اپنا ملک ناکام رہا۔

بدھ کے روز سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر پوسٹ کردہ ایک ویڈیو میں، کھنہ نے بتایا کہ مقبوضہ فلسطینی علاقے مغربی کنارے کے ایک حالیہ دورے کے دوران ان کی ملاقات اس لڑکے کے والد سے ہوئی۔ ۱۵ سالہ نوجوان محمد ابراہیم کو فروری ۲۰۲۵ء میں اسرائیلی افواج نے بغیر کسی الزام کے گرفتار کرلیا تھا، اسے ۱۰ ماہ تک قید میں رکھا گیا اور گزشتہ سال نومبر میں رہا کیا گیا۔ کھنہ نے کہا کہ ”اس امریکی لڑکے کو اسرائیلی جیل میں ہولناک حالات کے تحت تقریباً ث ماہ تک رکھا گیا اور ہمارے ملک نے اسے بے یار و مددگار چھوڑ دیا۔“

یہ بھی پڑھئے: میئر ممدانی نےنیتن یاہو کو ’جنگی مجرم‘ قرار دیا، آئی سی سی کےگرفتاری وارنٹ پر عمل درآمد کامطالبہ کیا

رو کھنہ نے بتایا کہ اسرائیلی افواج محمد کو آدھی رات کو اس کے گھر سے اٹھا کر لے گئیں۔ پولیس اسٹیشن لائے جانے سے پہلے ایک فوجی کیمپ میں اس کی آنکھوں پر پٹی باندھی گئی، زپ ٹائی (ہتھکڑی) لگائی گئی اور اس پر تشدد کیا گیا۔ اسے اپنے والدین سے ملنے اور وکیل کی سہولت حاصل کرنے سے بھی محروم رکھا گیا۔ کھنہ نے کہا کہ ”منجمد کر دینے والے انتہائی درجہ حرارت میں اسے صرف وہاں بیٹھنا پڑا۔“

محمد پر اسرائیلی گاڑی پر پتھراؤ کرنے کا الزام لگایا گیا تھا لیکن نوجوان نے ان الزامات کو مسترد کردیا۔ کھنہ نے کہا کہ اس کیلئے ”کوئی حقیقی قانونی طریقۂ کار“ نہیں تھا اور نہ ہی تعصب سے پاک انصاف کا کوئی نظام تھا۔ انہوں نے بتایا کہ محمد کے تفتیش کار نے اعترافِ جرم نہ کرنے پر اسے دوبارہ مارنے پیٹنے کی دھمکی دی تھی۔

یہ بھی پڑھئے: غزہ کی شہد کی صنعت اسرائیل کی نسل کشی کے سبب تباہی کے دہانے پر

محمد کو ملٹری ڈٹینشن سینٹر (فوجی حراستی مرکز) میں ۶ افراد کے سیل میں رکھا گیا تھا جس میں ۱۰ دیگر نوجوان لڑکے بھی موجود تھے۔ کھنہ نے بتایا کہ محمد نے اپنے سیل کے ساتھی، ۱۷ سالہ ولید احمد، جسے وہ بچپن سے جانتا تھا، کو حراست کے دوران فوری طبی امداد نہ ملنے کی وجہ سے دم توڑتے دیکھا۔ محمد کے ۲۰ سالہ کزن کو اسرائیلی آبادکاروں نے الگ سے تشدد کرکے مار ڈالا تھا۔

فلسطینیوں کیلئے انصاف کا مطالبہ کرتے ہوئے کھنہ نے کہا کہ ”ہمارا ملک، جس کی بنیاد آزادی کے اصولوں پر رکھی گئی تھی، مقبوضہ مغربی کنارے میں انسانی حقوق کی ہولناک خلاف ورزیوں میں مدد کر رہا ہے جو خاندانوں کو اجاڑ رہی ہیں۔“

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK