پارٹی کے داخلی سروے میں انکشاف، چڑھاوا چوری، نیٹ،ا تھنال اور شکایات کا ازالہ نہ ہونا عوامی ناراضگی کی وجہ ، ۳۵؍ فیصد ایم ایل ایز کے ٹکٹ کٹ سکتے ہیں۔
EPAPER
Updated: August 01, 2026, 10:38 AM IST | Lucknow
پارٹی کے داخلی سروے میں انکشاف، چڑھاوا چوری، نیٹ،ا تھنال اور شکایات کا ازالہ نہ ہونا عوامی ناراضگی کی وجہ ، ۳۵؍ فیصد ایم ایل ایز کے ٹکٹ کٹ سکتے ہیں۔
اتر پردیش میں بی جےپی ابھی سے اسمبلی الیکشن کی تیاری میں جٹ گئی ہے۔ پارٹی نے داخلی طور پر سروے کراکر یہ جاننے کی کوشش کی ہے کہ عوام میں اس کی مقبولیت کی کی کیفیت ہے۔ نتائج نے زعفرانی پارٹی کو چونکا دیا ہے۔ رپورٹ کے مطابق اگر موجودہ حالات میں انتخابات ہوتے ہیں تو بی جے پی کو واضح اکثریت کیلئے سخت جدوجہد کرنا پڑ سکتی ہے۔ سروے کے مطابق بی جے پی کو براہ راست۵۲؍تا ۶۷؍ سیٹوں کا نقصان ہو سکتا ہے۔ ’ دینک بھاسکر ‘ نے بی جے پی میں موجود اپنے ذرائع کے حوالے سے دی گئی خبر میں بتایا ہے کہ یہ سروے ’’نیشن ود نمو‘‘نامی رجسٹرڈ ایجنسی سے یہ کرایا گیا ہے جوعام طور پر پارٹی کیلئے سیاسی سروے کرتی ہے۔
یہ بھی پڑھئے: بینک منیجر کی بدزبانی پر سوابھیمانی شیتکری سنگٹھنا کے لیڈر نے تھپڑ جڑ دیا
سروے میں کیا انکشاف ہوا؟
سروے کے مطابق موجودہ حالات میں بی جےپی کو اسمبلی الیکشن میں ۱۹۰؍ سے ۲۰۵؍ نشستوں پر اکتفا کرنا پڑ سکتاہےجبکہ حکومت سازی کیلئے ۲۰۲؍ نشستیں درکار ہیں۔ ۲۰۲۲ء کے اسمبلی الیکشن میں بی جے پی نے۲۵۵؍ نشستیں جیتی تھیں جبکہ ضمنی انتخابات میں کامیابی کے بعد اس کے اراکین کی تعدادبڑھ کر ۲۵۷؍ ہوگئی تھی۔
سروے کرنے والی ایجنسی نے اس نقصان سے بچنے کیلئے سفارش کی ہے کہ پارٹی اپنے موجودہ اراکین اسمبلی میں سے تقریباً۳۵؍ فیصد کے ٹکٹ کاٹ دے۔ رپورٹ کے مطابق سب سے زیادہ ناراضگی پوروانچل میں ہے اور یہ ناراضگی اپنے اراکین اسمبلی سے ہے۔ یہ سروے مارچ سے جولائی کے دوسرے ہفتے تک تمام اسمبلی حلقوں میں پہنچ کر کیا گیا۔ سروے میں عوامی ناراضی کو ۲؍حصوں میں تقسیم کیا گیا۔ پہلی قسم میں مرکزی اور ریاستی حکومت کی پالیسیوں سے ناراضی شامل تھی جبکہ دوسری قسم میں اراکین اسمبلی کے خلاف غصے کو رکھا گیا۔
اراکین اسمبلی سے نارضگی کی وجہ اپنے حلقوں میں فعال نہ ہونا، ترقیاتی کام نہ کروانا، ٹھیکوں، پٹوں اور کان کنی جیسے معاملات میں ان کی بدعنوانی ہے۔ سروے رپورٹ میں۳۰؍ سے ۳۵؍ فیصد اراکین اسمبلی کے ٹکٹ تبدیل کرنے کی سفارش کی گئی ہے۔ سروے کے مطابق اس سے بی جےپی دوبارہ واضح اکثریت میں آسکتی ہے۔
جن معاملات اور حکومت کی جن پالیسیوں پر عوام میں زیادہ ناراضگی ہے:
سروے میں کیا پوچھا گیا؟
کیا آپ موجودہ رکن اسمبلی سے مطمئن ہیں؟ ان کی عوامی شبیہ کیسی ہے؟
آپ کے علاقے کے کون سے مسائل اب تک حل نہیں ہوئے؟
ذات کی بنیاد پر حلقے کا توازن کیا ہے اور آپ کس برادری کے امیدوار کو ترجیح دیتے ہیں؟
بی جے پی اور اپوزیشن کے ممکنہ امیدواروں کے بارے میں آپ کی کیا رائے ہے؟
یہ بھی پڑھئے: نیٹ: امیدوار کے نمبر ۲۴؍ گھنٹے میں ۶۵۰؍ سے ۱۳۵؍ ہو گئے!
رام مندر چڑھاوا چوری:
چڑھاوا چوری کے بعد اودھ اور پوروانچل میں بی جے پی کے حامیوں میں ناراضگی بڑھ گئی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اس واقعے کو روکا جا سکتا تھا۔
دلتوں کی ناراضگی:دلت، پسماندہ اور دیگر محروم طبقات کے طلبہ کا کہنا ہے کہ ان کی شکایات سننے کیلئے کمیٹی بنانے کی تجویز کو روک دیاگیا جو غلط فیصلہ تھا۔ اس کی بنا پر ان کا اعتماد متاثر ہوا ہے۔
شکایات کے ازالہ میں کوتاہی
عوام اور بی جے پی کارکنوں نے سروے کے دوران شکایت کی کہ ان کی بات وقت پر نہیں سنی جاتی اور سرکاری اسکیموں کا پورا فائدہ اب بھی ہر شخص تک نہیں پہنچ رہا ہے۔
نیٹ پرچہ لیک: پرچہ لیک کا معاملہ بھی نقصان پہنچا سکتاہے۔لوگوں کا کہنا تھا کہ امتحانات میں بے ضابطگیاں ختم نہیں ہو رہیں اور پیپر لیک روکنا حکومت کی ذمہ داری ہے۔