Inquilab Logo Happiest Places to Work

آئی سی سی کے رکن ممالک کی چیف پراسیکیوٹر کریم خان کی برطرفی کیلئے رائے شماری

Updated: July 24, 2026, 10:09 PM IST | New York

آئی سی سی کے رکن ممالک چیف پراسیکیوٹر کریم خان کو برطرف کرنے کیلئےرائے شماری کریں گی ، اگر یہ تحریک کامیاب ہو جاتی ہے تو یہ آئی سی سی کی۲۴؍ سالہ تاریخ میں ایک غیر معمولی لمحہ ہو گا، کیونکہ اب تک کسی بھی موجودہ چیف پراسیکیوٹر کو رکن ریاستوں نے اس طرح کے ووٹ کے ذریعے نہیں ہٹایا ہے۔

International Criminal Court Chief Prosecutor Karim Khan. Photo: X
بین الاقوامی فوجداری عدالت کے چیف پراسیکیوٹر کریم خان۔ تصویر: ایکس

بین الاقوامی فوجداری عدالت (آئی سی سی) کے رکن ممالک جمعہ کو نیویارک میں اقوام متحدہ کے ہیڈکوارٹر میں اجلاس کریں گی تاکہ چیف پراسیکیوٹر کریم خان کو مبینہ بدانتظامی کے الزامات پر عہدے سے ہٹانے کیلئے اہم ووٹنگ کی جا سکے۔ اس خفیہ بیلٹ فیصلے کے لیے، جو اسمبلی آف اسٹیٹس پارٹی عدالت کی ۱۲۵؍رکنی گورننگ باڈی—کے ذریعے کیا جائے گا،جبکہ کم از کم ۶۳؍ ووٹوں کی مطلق اکثریت درکار ہے۔ واضح رہے کہ اگر یہ تحریک کامیاب ہو جاتی ہے تو یہ آئی سی سی کی۲۴؍ سالہ تاریخ میں ایک غیر معمولی لمحہ ہو گا، کیونکہ اب تک کسی بھی موجودہ چیف پراسیکیوٹر کو رکن ریاستوں نے اس طرح کے ووٹ کے ذریعے نہیں ہٹایا ہے۔ 

یہ بھی پڑھئے: فلسطینی الیکشن کمیشن نے ۲۸؍نومبر کے قانونی انتخابات کا شیڈول جاری کیا

بعد ازاں خان کے گرد تنازع نے قانونی ماہرین اور سفارت کاروں میں شدید بحث کو جنم دیا ہے۔ ان کی قانونی ٹیم نے اس عمل کو سختی سے مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس نے ان کے منصفانہ سماعت کے حق کو منظم طریقے سے مجروح کیا ہے۔ ان کے وکلاء کے مطابق، انہیں اجلاس میں شرکت کے لیے تصدیق نامہ دینے سے انکار کیا گیا، باضابطہ دفاع پیش کرنے سے روکا گیا، اور ووٹ سے قبل رکن ریاستوں سے خطاب کرنے کی بھی اجازت نہیں دی گئی۔ وہ مزید کہتے ہیں کہ اسمبلی ایک آزاد عدالتی پینل کے نتائج کو نظر انداز کر رہی ہے، جس نے کہا تھا کہ پیش کردہ شواہد بدانتظامی کی کوئی بنیاد ثابت نہیں کرتے۔تاہم، انہیں برطرف کرنےکی تحریک کے حامیوں کا کہنا ہے کہ الزامات اتنی سنگین ہیں کہ پراسیکیوٹر کی برطرفی ضروری ہے، اور وہ عدالت کے اعلیٰ ترین پراسیکیوشن آفس میں دیانتداری اور غیرجانبداری پر تحفظات کا اظہار کرتے ہیں۔ جمعہ کے ووٹ کا نتیجہ غیر یقینی ہے، کیونکہ رکن ریاستیں سفارتی اور قانونی خطوط پر تقسیم ہیں۔ کچھ ممالک نے مزید شفافیت اور قانونی عمل کا مطالبہ کیا ہے، جبکہ دیگر کا کہنا ہے کہ عدالت کی ساکھ کے تحفظ کے لیے فوری اقدام ضروری ہے۔

یہ بھی پڑھئے: جوہری معاہدہ میں پیش رفت کیلئے سعودی کو اسرائیل سے تعلقات بحال کرنے ہونگے: ٹرمپ

واضح رہے کہ آئی سی سی، جو۲۰۰۲ء میں جنگی جرائم، انسانیت کے خلاف جرائم اور نسل کشی کے مقدمات چلانے کے لیے قائم کی گئی تھی، نے برسوں کے دوران متعدد چیلنجوں کا سامنا کیا ہے، لیکن اس سے قبل کبھی بھی اس کے اعلیٰ پراسیکیوٹر کو اس طرح برطرفی کے براہ راست خطرے کا سامنا نہیں کرنا پڑا۔ یہ فیصلہ عدالت کی مستقبل کی آزادی اور عالمی سطح پر انصاف کے حصول کی صلاحیت پر دور رس اثرات مرتب کرے گا۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK