Inquilab Logo Happiest Places to Work

برائن لارا کرکٹ اکیڈمی میں تاریخ کا پہلا ٹیسٹ، ونڈیز اور پاکستان کی ٹکر

Updated: July 24, 2026, 10:08 PM IST | New Delhi

ویسٹ انڈیز اور پاکستان کے درمیان دو ٹیسٹ میچوں کی سیریز کا پہلا مقابلہ برائن لارا کرکٹ اکیڈمی میں کھیلا جائے گا، جہاں میزبان ٹیم کو معمولی برتری حاصل مانی جا رہی ہے، جبکہ پاکستان حالیہ خراب کارکردگی سے نکل کر ٹیسٹ کرکٹ میں واپسی کی امید کے ساتھ میدان میں اترے گا۔

Team Captains.Photo:X
ٹیم کے کپتان۔ تصویر:ایکس

 ویسٹ انڈیز اور پاکستان کے درمیان دو ٹیسٹ میچوں کی سیریز کا پہلا مقابلہ ہفتہ سے برائن لارا کرکٹ اکیڈمی میں کھیلا جائے گا، جہاں میزبان ٹیم کو معمولی برتری حاصل مانی جا رہی ہے، جبکہ پاکستان حالیہ خراب کارکردگی سے نکل کر ٹیسٹ کرکٹ میں واپسی کی امید کے ساتھ میدان میں اترے گا۔ بارش اس میچ پر اثر انداز ہو سکتی ہے، جبکہ برائن لارا کرکٹ اکیڈمی ویسٹ انڈیز کا ۱۳؍واں ٹیسٹ میزبان میدان بن جائے گا۔


دونوں ٹیموں کے درمیان ۳۸؍ برس قبل ہونے والی یادگار سیریز کے بعد ایک بار پھر کیریبین میں ٹیسٹ سیریز کھیلی جا رہی ہے، تاہم اس بار مقابلہ عالمی ٹیسٹ چیمپئن شپ کے نچلے درجے کی دو ٹیموں کے درمیان ہوگا۔ موجودہ ورلڈ ٹیسٹ چیمپئن شپ سائیکل میں ویسٹ انڈیز آٹھویں اور پاکستان نویں نمبر پر ہے۔ اعداد و شمار بھی دونوں ٹیموں کی جدوجہد کی عکاسی کرتے ہیں۔ پاکستان اپنے گزشتہ ۱۶؍ ٹیسٹ میچوں میں سے ۱۲؍ ہار چکا ہے، جبکہ ویسٹ انڈیز نے اپنے آخری ۱۰؍ ٹیسٹ میچوں میں صرف ایک کامیابی حاصل کی ہے۔ گزشتہ عالمی ٹیسٹ چیمپئن شپ سائیکل میں بھی ویسٹ انڈیز آٹھویں اور پاکستان نویں مقام پر رہا تھا۔
 میزبان ٹیم کے لیے یہ سیریز قیمتی پوائنٹس حاصل کرنے کا ایک اہم موقع ہے۔ ویسٹ انڈیز کے پاس شاندار تیز گیندبازوں کا دستہ موجود ہے، جس میں شمار جوزف کی رفتار، جیڈن سیلز کا پاکستان کے خلاف عمدہ ریکارڈ اور تجربہ کار کیمار روچ کی مستقل کارکردگی شامل ہے، جس کے باعث ٹیم الزاری جوزف کی غیر موجودگی کو بھی پورا کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔
 ویسٹ انڈیز کی ٹیم سری لنکا کے خلاف ۰۔۱؍ سے ہوم سیریز جیتنے کے بعد اس سیریز میں اتر رہی ہے۔ اس کامیابی میں امیر جانگو کی دوہری سنچری نے ان کی بیٹنگ کو نئی امید دی، جبکہ جومیل واریکن اور روسٹن چیز کی موجودگی میں میزبان ٹیم اسپن بولنگ میں بھی پاکستان کو سخت ٹکر دے سکتی ہے، خاص طور پر اگر پچ اسپنرز کے لیے سازگار ثابت ہوئی۔

یہ بھی پڑھئے:لیونل میسی جلد بین الاقوامی فٹبال کو خیرباد کہہ سکتے ہیں، الوداعی میچ کی تیاری


 دوسری جانب پاکستان ایک بار پھر نئی قیادت کے ساتھ میدان میں اترے گا۔ شان مسعود کے تقریباً ڈھائی سالہ دور کے بعد بابر اعظم کو دوبارہ ٹیسٹ ٹیم کی قیادت سونپی گئی ہے۔ اب دیکھنا یہ ہوگا کہ آیا یہ تبدیلی ٹیم کی مسلسل گرتی ہوئی کارکردگی میں بہتری لا سکتی ہے یا نہیں، کیونکہ کھلاڑیوں کے تال میل میں زیادہ تبدیلی نہیں آئی ہے۔
 پاکستان کے لیے عامر جمال کی واپسی بھی خاص اہمیت رکھتی ہے۔ ٹیم ایک ایسے سیم بولنگ آل راؤنڈر کی تلاش میں ہے جو بیٹنگ اور بولنگ دونوں شعبوں میں مؤثر کردار ادا کر سکے۔ آئندہ ماہ انگلینڈ میں ہونے والی سیریز سے قبل اگر عامر جمال اپنی بہترین فارم برقرار رکھتے ہیں تو وہ نچلے درمیانی درجے میں ٹیم کو بہتر توازن فراہم کر سکتے ہیں، خاص طور پر ایسے میدان پر جہاں اس سے قبل کبھی ٹیسٹ کرکٹ نہیں کھیلی گئی۔
 برائن لارا کرکٹ اکیڈمی اس میچ کے ذریعے پہلی بار کسی ٹیسٹ میچ کی میزبانی کرے گی۔ اگرچہ توقع کی جا رہی ہے کہ پچ سست رفتار بولنگ کے لیے معاون ہوگی، تاہم ایک معیاری سیم بولنگ آل راؤنڈر کی موجودگی دونوں شعبوں میں ٹیم کے لیے فائدہ مند ثابت ہو سکتی ہے۔

یہ بھی پڑھئے:ہندوستان کی خدماتی برآمدات ۲۶۔۲۰۲۵ء میں بڑھ کر۳ء۴۲۱؍ ارب ڈالر تک پہنچ گئیں


اگرچہ ویسٹ انڈیز اور پاکستان اپنے سنہری دور سے بہت آگے نکل چکے ہیں، لیکن حالیہ برسوں میں، خاص طور پر کیریبین میں، دونوں ٹیموں کے درمیان دلچسپ مقابلے دیکھنے کو ملے ہیں۔۲۰۲۱ء میں ویسٹ انڈیز کی ایک وکٹ سے فتح دہائی کے بہترین ٹیسٹ میچوں میں شمار کی جاتی ہے، جبکہ ۲۰۱۷ء میں کم روشنی کے دوران یاسر شاہ کی شاندار بولنگ کی بدولت پاکستان نے سیریز  ۱۔۲؍ سے اپنے نام کی تھی۔ قابل ذکر بات یہ ہے کہ دونوں ٹیموں کے درمیان کھیلی گئی گزشتہ سات ٹیسٹ سیریز میں سے چار برابر رہی ہیں۔ اگرچہ دونوں ٹیمیں اب عالمی کرکٹ کی بڑی طاقتوں میں شمار نہیں ہوتیں، لیکن ایک دوسرے کے خلاف ہمیشہ سخت مقابلہ پیش کرتی رہی ہیں۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK