• Mon, 28 September, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

’’خشک سالی کی فوری امداد نہ پہنچی تو ریاست میں نظم و نسق کا بڑا مسئلہ پیدا ہوسکتا ہے‘‘

Updated: September 28, 2026, 12:31 PM IST | ZA Khan | Prabhani

رکن اسمبلی آدتیہ ٹھاکرے نے پربھنی میں کسانوں کی فصلوں کے نقصانات کا جائزہ لیا۔ حکومت کی ۱۲؍ امدادی اسکیموں پر سوال قائم کئے۔ مرکز سے پی ایم کیئر فنڈ کے ذریعے مہاراشٹر کی مدد کا مطالبہ۔

Shiv Sena (UBT) MLA Aaditya Thackeray speaking to the media in Parbhani. Photo: Inquilab.
شیوسینا (یوبی ٹی ) کے رکن اسمبلی آدتیہ ٹھاکرے پربھنی میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے۔ تصویر: انقلاب

مراٹھواڑہ کے خشک سالی سے متاثر ہونے والے علاقوں کے دورے کے دوسرے روز شیوسینا(یوبی ٹی ) کے رکن اسمبلی آدتیہ ٹھاکرے  پربھنی ضلع پہنچ کر براہِ راست کسانوں کے کھیتوں میں گئے اور فصلوں کو پہنچنے والے نقصانات کا جائزہ لیا۔ اس کے بعد پربھنی میں منعقدہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے ریاستی اور مرکزی حکومت کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا۔آدتیہ ٹھاکرے نے کہا کہ حکومت نے خشک سالی کا اعلان کردیا ہے اور  جی آر جاری کرکے۱۲؍ امدادی اقدامات کا بھی اعلان کیا ہے لیکن اصل سوال یہ ہے کہ متاثرین کے بینک کھاتوں میں امداد کب پہنچے گی؟انہوں نے خبردار کیا کہ کسانوں کے خودکشی کے بڑھتے واقعات کے پیش نظر اگر متاثرین تک امداد فوری طور پر نہ پہنچی تو ریاست میں نظم و نسق کا   بڑا مسئلہ پیدا ہوسکتا ہے۔

ریاست میں خشک سالی کی موجودہ صورت حال پر گفتگو کرتے ہوئے آدتیہ ٹھاکرے نے کہا کہ حالات انتہائی سنگین ہیں اور آنے والے دنوں میں خشک سالی کی شدت مزید بڑھ سکتی ہے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ وہ گزشتہ روز سے شولا پور سمیت کئی علاقوں کا دورہ کرکے صورتحال کا جائزہ لے رہے ہیں۔ان کے مطابق سب سے اہم بات یہ ہے کہ کسانوں کو یہ معلوم ہونا چاہئے کہ حکومت کی امداد کب ملے گی۔

یہ بھی پڑھئے:مہاراشٹر کے ۲۶۵؍ تحصیلوں میں خشک سالی کا اعلان، ریاست کا تین چوتھائی حصہ متاثر

آدتیہ ٹھاکرےکے مطابق کسانوں کا کہنا ہے کہ حکومت کی جانب سے اعلان کردہ۱۲؍ امدادی اقدامات ان کیلئے زیادہ کارآمد نہیں ہیں۔ گزشتہ سال ہوئی شدید بارش سے ہونے والے نقصانات کی امداد ابھی تک نہیں ملی ہے، قرض معافی کا پیکیج بھی نہیں ملا اور اب خشک سالی کے سبب   امدادکا جو اعلان کیا گیا ہے، وہ کب ملے گی، اس بارے میں وزیر اعلیٰ کو وضاحت کرنی چاہئے۔انہوں نے یہ بھی کہا کہ اب کسانوں کا سرکاری فیصلوں ’جی آر‘ پر بھی اعتماد باقی نہیں رہا۔آدتیہ ٹھاکرے نے ریاست میں کسانوں کی خودکشی کے بڑھتے واقعات  پر بھی شدید تشویش کا اظہار کیا۔

’’ ریاست کے ۷۵؍ فیصد علاقوں میں خشک سالی‘‘

آدتیہ ٹھاکرے نے ان وزراء کے بیانات پر بھی سوال اٹھایا جو امداد پہنچنے میں وقت لگنے کی بات کررہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ایسے وزراء کو قابو میں رکھنے کی ضرورت ہے اور حکومت کے کام کرنے کے طریقۂ کار پر بھی سوالات اٹھائے۔ انہوں نے کہا کہ ریاست کے تقریباً۷۵؍ فیصد علاقوں میں خشک سالی کا اعلان کیا جاچکا ہے لیکن گزشتہ دو تین برس کے دوران کسانوں کو مناسب امداد نہیں ملی۔انہوں نے سوال کیا کہ گزشتہ سال شدید بارش کے بعد ۳۲؍ ہزار کروڑ روپے کے امدادی پیکیج کا اعلان کیا گیا تھا، وہ رقم کہاں گئی؟آدتیہ ٹھاکرے نے کہا کہ صرف سیٹیلائٹ کے ذریعے جائزہ لینے سے مسئلہ حل نہیں ہوگا۔ انہوں نے سوال کیا کہ جب زمین پر کھڑی فصلیں سوکھ کر تباہ ہورہی ہیں تو اس کا کیا ہوگا؟

رکن اسمبلی اور سابق ریاستی وزیرآدتیہ ٹھاکرے نے کہا کہ حکومت کی جانب سے قرضوں کی وصولی پر روک لگانے کی بات کہی جارہی ہے ، اس کے باوجود کئی دیہات میں کسانوں کو بینکوں کی جانب سے نوٹس موصول ہورہے ہیں۔انہوں نے یہ بھی کہاکہ ’’حکومت پوری طرح الجھن کا شکار ہے۔ کسانوں نے مجھے بینکوں کے نوٹس دکھائے ہیں۔ انہیں فوری طور پر روکا جانا چاہئے۔‘‘انہوں نے مزید کہا کہ صرف امتحانی فیس معاف کرنا کافی نہیں ہے بلکہ طلبہ کی پورے تعلیمی سال کی فیس معاف کی جانی چاہئے۔ آدتیہ ٹھاکرے  کے بقول ’’کئی علاقوں میں مویشیوں کیلئے چارا نہیں ہے اور پینے کا پانی بھی دستیاب نہیں ہے۔ اگر کسان اپنے مویشی فروخت کرنے کیلئے لے جاتے ہیں تو نام نہاد گئورکشکوں کی جانب سے انہیں پریشان کیا جاتا ہے۔انہوں نے سوال اٹھایا کہ اگر یہ تنازع بڑھ گیا اور کسان مشتعل ہوگئے تو انہیں کون روکے گا؟

یہ بھی پڑھئے:اویسی نے ایس آئی آر کو پچھلے دروازہ سے این آر سی نافذ کرنے کی کوشش قراردیا

مرکزی حکومت کے کردار سے متعلق سوال پر آدتیہ ٹھاکرے نے گیانیش کمار کے معاملے کا بھی ذکر کیا۔ انہوں نے الزام لگایا کہ مرکز کی حکومت گیانیش کمار کو بچانے میں مصروف ہے۔ انہوں نے مرکز سے مطالبہ کیا کہ پی ایم کیرس فنڈ کے ذریعے بھی مہاراشٹر کی مدد کی جائے۔انہوں نے اپنی پارٹی کے  سربراہ اُدھو ٹھاکرے کے اس مطالبے کو بھی دہرایا کہ شدید خشک سالی کی صورتحال پر بحث کیلئے مانسون یا سرمائی اجلاس کا انتظار نہ کیا جائے بلکہ فوری طور پر ریاستی اسمبلی کا خصوصی اجلاس طلب کیا جائے۔ انہوں نے یہ بھی واضح کیا کہ خشک سالی کی فہرست سے باہر رکھے گئے۲۵؍فیصد تعلقوں کے معاملے میں بھی وہ حکومت سے مسلسل پیروی کریں گے۔

پر بھنی، جالنہ اور اورنگ آباد کا دورہ

آدتیہ ٹھاکرے آج پر بھنی کے علاوہ جالنہ اور اورنگ آباد سمیت ۳؍ اہم اضلاع کا دورہ کریں گے۔گزشتہ روز کے دورے میں کسانوں نے حکومت کے کام کاج اور وزیر اعلیٰ کے دورے کے حوالے سے کھل کر ناراضگی کا اظہار کیا تھا۔ 

شرد پوار نے وزیراعلیٰ کو خط لکھا 

ممبئی ، (ایجنسی ): نیشنلسٹ کانگریس پارٹی کے سربراہ شرد پوار نے  وزیر اعلیٰ دیویندر فرنویس کو خط لکھ کر  خشک سالی سے متاثرہ کسانوں، کھیت مزدوروں اور دیہی علاقوں میں رہنے والے افراد کیلئے فوری امداد کا مطالبہ کیا ہے۔ انہوں نے خط کے ذریعے حکومت کے سامنے  ۱۷؍مطالبات رکھے ہیں جن میں کسانوں کے زرعی قرضوں کی معافی، زمین کا محصول اور زراعت کیلئے بجلی   بلوں کی معافی، فی خاندان۲۵؍ کلو مفت اناج اور کسانوں کو ایک لاکھ روپے فی ہیکٹر کی مالی امداد شامل ہے۔ اس کے علاوہ شرد پوار نے کھیت مزدوروں کیلئے ۲۵؍ ہزار روپے کی امداد، مویشیوں کیلئے پینے کے پانی اور پانی کی فوری سپلائی، روزگار کی ضمانت کے کام کی شروعات اور پانی کے تحفظ کیلئے خصوصی فنڈنگ کا مطالبہ کیا ہے۔ا نہوں نے طلبہ کی ٹیوشن فیس، ہاسٹل فیس اور میس فیس معاف کرنے کے ساتھ ساتھ باغات اور فصلوں کے نقصانات کے معاوضے کا بھی مطالبہ کیا۔ انڈیا ٹی وی کی خبر کے مطابق شرد پوار نے خط کے ذریعے قحط سالی کی سنگین صورتحال پر بحث کرنے اور دسہرہ اور دیوالی سے پہلے کسانوں اور کھیت مزدوروں کو راحت فراہم کرنے کیلئے اسمبلی کا ۳؍ روزہ خصوصی اجلاس بلانے کا بھی مطالبہ کیا  ۔  یہ بھی لکھا کہ ہم حکومت سے اپیل کرتے ہیں کہ متاثرین کی مشکلات پر سنجیدگی سے غور کیا جائے اور ان مطالبات پر بلا تاخیر عمل کیا جائے۔

آج سےشردپوارکا خشک سالی سے متاثرہ علاقوں کا دورہ
  این سی پی سربراہ شرد پوار۲۸؍ ستمبر سے خشک سالی سے متاثرہ علاقوں کا دورہ کریں گے۔ وہ فصلوں کے نقصانات اور خشک سالی کی صورتحال کا جائزہ لینے کیلئے کسانوں کے کھیتوں کا دورہ کریں گے۔ ادھر روہت پوار بھی خشک سالی سے متاثرہ علاقوں میں سرگرم ہیں اور حکومت پر مسلسل حملے کر رہے ہیں۔ واضح رہے کہ  ریاستی حکومت نے ۲۶۵؍  تعلقوں میں خشک سالی کا اعلان کیا ہے۔ 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK