حکومت کو ۴۰؍ ہزار روپے دینے کا حکم ۔ قانونی لڑائی لڑنے والا کسان خوش۔
کھیت میں طوطا۔ تصویر:آئی این این
عدالت نے طوطوں کے حوالے سے ایک بہت ہی دلچسپ فیصلہ سنایا ہے۔ بامبے ہائی کورٹ کی ناگپور بنچ نے فیصلہ دیاہے کہ طوطے بھی جنگلی جانور کے درجے میں آتے ہیں۔ بنچ نے زور دے کر کہا کہ اگر طوطے کسانوں کی فصلوں کو نقصان پہنچاتے ہیں تو حکومت کو معاوضہ دینا چاہئے۔ جنگلی حیات کے تحفظ کی ذمہ داری صرف شہریوں کی نہیں بلکہ ریاست کی بھی ہے کہ وہ ان سے ہونے والے نقصان کا ازالہ کرے۔
وردھا ضلع کے ہاگی گاؤں کے۷۰؍ سالہ کسان مہادیو ڈیکاٹے سے جڑے کیس میں ہائی کورٹ نے یہ اہم فیصلہ سنایا ہے اور طوطوں کوبھی جنگلی جانور تسلیم کیا ہے۔۲۰۱۶ءمیں کسان مہادیو کے انار کے باغ پر قریبی ہی واقع جنگلی حیات کی پناہ گاہ سے جنگلی طوطوں کے جھنڈ نے حملہ کیاتھا جس میں پرندوں نے انار کے۲۰۰؍ درختوں پر لگنے والے تقریباً۵۰؍ فیصد پھل کھا لئے تھے۔اس سے پریشان ہو کر مہادیو نے ضلع انتظامیہ سے معاوضے کی اپیل کی تھی لیکن انتظامیہ نے یہ کہتے ہوئے انکار کر دیا کہ حکومت کے ضابطے صرف ہاتھیوں یا جنگلی بھینسوں سے ہونے والے نقصان کے معاوضے کی اجازت دیتے ہیں اور طوطوں سے ہونے والے نقصان کو اس ضابطے میں شامل نہیں کیا جاتا۔ اس لئے مہادیو نے عدالت سے رجوع کیاتھا۔
ہائی کورٹ کی ناگپور بنچ کےروبرو جاری اس کیس میں حکومت نے پھر سے اس نقصان کی ذمہ داری سے بچنے کی کوشش کی لیکن جسٹس ارمیلا جوشی- پھالکے اور نویدیتا مہتا کی بنچ نے اس دلیل کو مسترد کر دیا اور مہادیو کو۴۰؍ ہزار روپے کا معاوضہ دینے کا حکم دیا۔
عدالت نے واضح طور پر کہا کہ سب کے ساتھ یکساں سلوک کیا جانا چاہئے اور کسی بھی قسم کا امتیاز آئینی اصولوں کے خلاف ہے۔ عدالت نے یہ بھی کہا کہ جہاں قانون لوگوں سے جنگلی حیات کی حفاظت کا تقاضا کرتا ہے وہیں حکومت کی بھی ذمہ داری ہے کہ وہ ان جانوروں سے ہونے والے نقصان کی تلافی کرے۔
ہندوستان ٹائمز کی خبر کے مطابق عدالت نے واضح کیا ہےکہ جنگلی جانور اور پرندے وائلڈ لائف (تحفظ) ایکٹ ۱۹۷۲ء کے تحت ریاست کی ملکیت ہیں۔ چونکہ طوطے (خاص طور پر الیگزینڈرین طوطے) اس ایکٹ کے شیڈول میں شامل ہیں اس لئے وہ قانونی طور پر محفوظ جنگلی حیات ہیں۔ چونکہ ایکٹ کے تحت جنگلی حیات ’ریاستی ملکیت‘ ہے اس لئے حکومت ’اپنی ملکیت‘ سے ہونے والے نقصان کی ذمہ داری سےپلّہ نہیں جھاڑسکتی۔