ایران کے میجر جنرل یحییٰ رحیم صفوی نے کہا ہے کہ ایرانی افواج نے مختلف ممکنہ حالات کیلئے تیاری کر رکھی ہے۔
EPAPER
Updated: September 25, 2026, 4:52 PM IST | Agency | Tehran
ایران کے میجر جنرل یحییٰ رحیم صفوی نے کہا ہے کہ ایرانی افواج نے مختلف ممکنہ حالات کیلئے تیاری کر رکھی ہے۔
ایران نے خبردار کیا ہے کہ امریکہ یا اسرائیل کی جانب سے کسی بھی نئے حملے کی صورت میں جاری مشرق وسطیٰ کی جنگ بحر ہند تک پھیل سکتی ہے، جبکہ خلیج فارس اور بحیرہ احمر میں کشیدگی بدستور برقرار ہے۔ ایران کے سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای کے سینئر فوجی مشیر میجر جنرل یحییٰ رحیم صفوی نے کہا ہے کہ ایرانی افواج نے مختلف ممکنہ حالات کے لیے تیاری کر رکھی ہے، جن میں ملک کی تنصیبات یا قومی مفادات پر مزید حملوں کا امکان بھی شامل ہے۔
ایران کی خبر رساں ایجنسی فارس کے مطابق صفوی نے کہا، ہم نہیں جانتے کہ (امریکی صدر) ٹرمپ اور (اسرائیلی وزیر اعظم) نیتن یاہو کے ذہنوں میں کیا چل رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایرانی مسلح افواج بدترین حالات سمیت تمام ممکنہ صورت حال کے لیے ہر وقت تیار ہیں اور خبردار کیا کہ مزید کشیدگی سے جنگ کا جغرافیائی دائرہ نمایاں طور پر وسیع ہوسکتا ہے۔ انہوں نے کہا، اب جبکہ جنگ خلیج اور آبنائے ہرمز سے بحیرہ احمر تک پھیل چکی ہے، یہ ممکن ہے کہ امریکہ کے ساتھ ممکنہ جنگ کے اگلے مرحلے میں یہ محاذ مزید وسیع ہوکر بحر ہند یا کسی اور علاقے تک پہنچ جائے۔
یہ بھی پڑھئے: نوئیڈا کی ڈی ایم کا معاملہ: آکرتی چودھری کی حراست کو رد کرنے کےفیصلے پر روک نہیں
صفوی کا یہ انتباہ ایسے وقت سامنے آیا ہے جب تنازع پہلے ہی خلیج کے فوری جنگی محاذ سے آگے بڑھ چکا ہے اور بحیرہ احمر اور تزویراتی آبنائے باب المندب کے اطراف کشیدگی میں اضافہ ہوا ہے۔ باب المندب ایک اہم بحری راستہ ہے جو بحیرہ احمر کو خلیج عدن اور وسیع تر بحر ہند سے ملاتا ہے۔یمن کے حوثی، جو سعودی عرب کی حمایت یافتہ حکومتی فورسز کے خلاف لڑ رہے ہیں، نے حالیہ دنوں میں یمن کے بحیرہ احمر کے ساحلی علاقوں کے بعض حصوں پر اپنا کنٹرول مزید مضبوط کیا ہے، جس سے اس تزویراتی آبی گزرگاہ کے اطراف دباؤ میں اضافہ ہوا ہے۔ایران نے فروری کے آخر میں امریکہ اور اسرائیل کے حملوں کے بعد، جن سے مشرق وسطیٰ کی جنگ کے تازہ مرحلے کا آغاز ہوا، اپنی جنوبی ساحلی حدود کے قریب آبنائے ہرمز سے بحری آمدورفت بھی محدود کردی ہے۔ آبنائے ہرمز دنیا کی اہم ترین توانائی کی گزرگاہوں میں سے ایک ہے، جہاں سے عالمی تیل اور گیس کی بڑی مقدار گزرتی ہے۔ آبنائے میں کسی بھی طویل رکاوٹ سے بین الاقوامی توانائی کی منڈیوں اور بحری تجارت پر اثر پڑنے کا خدشہ ہے۔ صفوی کے بیان سے اشارہ ملتا ہے کہ اگر ایران کو ایک اور حملے کا سامنا کرنا پڑا تو تہران خلیج اور بحیرہ احمر سے باہر تنازع کو وسیع کرنے پر غور کرسکتا ہے۔