سپریم کورٹ نے اپنے حکم میں ترمیم کرتے ہوئے وضاحت کی۔
EPAPER
Updated: September 25, 2026, 4:27 PM IST | Agency | New Delhi
سپریم کورٹ نے اپنے حکم میں ترمیم کرتے ہوئے وضاحت کی۔
سپریم کورٹ نے گوتم بدھ نگر ضلع (نوئیڈا) کی مجسٹریٹ میدھا روپم کی طرف سے دائر کی گئی ایک درخواست میں منظور کردہ اپنے عبوری حکم میں ترمیم کرتے ہوئے کہا کہ یہ روک صرف افسر کے خلاف الٰہ آباد ہائی کورٹ کےسخت تبصروں اور طالبہ آکرتی چودھری کو معاوضہ ادا کرنے کے اس کی ہدایت کی روشنی میں ہے، جس کے خلاف نوئیڈا کے احتجاج کے سلسلے میں قومی سلامتی ایکٹ کے تحت مقدمہ درج کیا گیا تھا۔ یعنی چودھری کی حراست کو رد کرنے کے ہائی کورٹ کے فیصلے پر روک نہیں لگائی گئی۔
یہ بھی پڑھئے: الیکشن کمیشن میں اختلافات کے سبب نئے ووٹروں کا اندراج بھی تعطل کا شکار
جمعرات کو گوتم بدھ نگر کی ضلع مجسٹریٹ میدھا روپم کو راحت دینے کے اپنے حکم میں سپریم کورٹ نے واضح کیا کہ اس نے الٰہ آباد ہائی کورٹ کے پورے حکم پر روک نہیں لگائی ہے۔ یہ روک صرف ہائی کورٹ کے حکم کے ان حصوں پر لاگو ہوتی ہے جس میں ڈی ایم کو طالبہ آکرتی کو ۵؍ لاکھ روپےکا معاوضہ ادا کرنے کی ہدایت دی گئی تھی اور اس کے خلاف کارروائی کے بارے میں تبصرےکیے گئے تھے، جبکہ آکرتی پر عائد این ایس اے کو منسوخ کرنے کے حکم پر روک نہیں لگائی گئی ہے۔۲؍ستمبر کو الٰہ آباد ہائی کورٹ نے نوئیڈا میں مزدوروں کے احتجاج کے سلسلے میں این ایس اے کے تحت زیر حراست طالبہ آکرتی چودھری کے خلاف این ایس اے کی حراست کو ردکر دیا۔ عدالت نے ڈی ایم کو طالبہ کو ۵؍لاکھ روپے کا معاوضہ ادا کرنے کی بھی ہدایت دی اور افسر کے خلاف کارروائی کا حکم دیا۔ سپریم کورٹ نے بدھ کو الٰہ آباد ہائی کورٹ کے حکم کے پیراگراف ۲۷؍سے۳۳؍پر روک لگاتے ہوئے اس معاملے پر حکم جاری کیا۔ ان پیراگراف میں ہائی کورٹ نے ضلع مجسٹریٹ کے خلاف تبصرہ کرتے ہوئے کارروائی کا حکم دیا تھا۔