آئی ایف ایف نے دلیل دی کہ ان تجاویز کی کوئی واضح قانونی بنیاد نہیں ہے۔ گروپ نے سپریم کورٹ کے رازداری سے متعلق تاریخی فیصلے ’جسٹس کے ایس پٹاسوامی بمقابلہ یونین آف انڈیا‘ کا حوالہ دیا جس میں معلومات کی رازداری کو بنیادی حق تسلیم کیا گیا ہے۔
EPAPER
Updated: January 13, 2026, 9:52 PM IST | New Delhi
آئی ایف ایف نے دلیل دی کہ ان تجاویز کی کوئی واضح قانونی بنیاد نہیں ہے۔ گروپ نے سپریم کورٹ کے رازداری سے متعلق تاریخی فیصلے ’جسٹس کے ایس پٹاسوامی بمقابلہ یونین آف انڈیا‘ کا حوالہ دیا جس میں معلومات کی رازداری کو بنیادی حق تسلیم کیا گیا ہے۔
’انٹرنیٹ فریڈم فاؤنڈیشن‘ (آئی ایف ایف) نے اسمارٹ فونز کے لیے مرکزی حکومت کے مجوزہ قواعد ’’انڈین ٹیلی کام سیکوریٹی اشورنس ریکوائرمنٹس‘‘ (Indian Telecom Security Assurance Requirements) پر شدید تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے خبردار کیا کہ یہ اقدامات حکومت کو وسیع پیمانے پر نگرانی کا اختیار دے سکتے ہیں، موبائیل ڈیوائسیز کی سیکوریٹی کو کمزور کر سکتے ہیں اور رازداری کے آئینی تحفظات کی خلاف ورزی کا باعث بن سکتے ہیں۔
منگل کے دن جاری کردہ ایک بیان میں، ڈجیٹل حقوق کے لیے سرگرم تنظیم نے رائٹرز کی رپورٹس کا حوالہ دیا جن کے مطابق وزارت برائے الیکٹرانکس اور انفارمیشن ٹیکنالوجی ان شرائط کو لازمی قرار دینے پر غور کر رہی ہے۔ فاؤنڈیشن نے کہا کہ اگرچہ نئے قواعد کا مسودہ مبینہ طور پر پبلک ڈومین میں دستیاب ہے، لیکن محکمہ ٹیلی کمیونکیشن نے تاحال انہیں عوامی مشاورت کے لیے باضابطہ طور پر پیش نہیں کیا ہے۔
رپورٹس کے مطابق، مجوزہ ڈھانچے کے تحت اسمارٹ فون بنانے والی کمپنیوں کے لیے ضروری ہوگا کہ وہ اپنا ملکیتی ’سورس کوڈ‘ (source code) ظاہر کریں، ۱۲؍ ماہ تک ہر ڈیوائس کے تفصیلی ریکارڈز محفوظ رکھیں اور آپریٹنگ سسٹم کی بڑی اپ ڈیٹس یا سیکیورٹی پیچز جاری کرنے سے پہلے حکومت سے منظوری یا نوٹیفیکیشن حاصل کریں۔ فاؤنڈیشن نے خبردار کیا کہ ایسی دفعات ’’ہر شہری کو ایک مشتبہ فرد اور ہر ڈیوائس کو نگرانی کا آلہ کار بنا دیں گی۔‘‘
رازداری اور آئینی خدشات
گروپ نے دلیل دی کہ ان تجاویز کی کوئی واضح قانونی بنیاد نہیں ہے اور ایسا لگتا ہے کہ انہیں سول سوسائٹی یا آزاد ماہرین کے ساتھ بامعنی گفتگو کے بجائے مرکزی حکومت اور اسمارٹ فون مینوفیکچررز کے درمیان بند کمرے کے مذاکرات کے ذریعے تیار کیا گیا ہے۔ آئینی نقطہ نظر سے، فاؤنڈیشن نے سپریم کورٹ کے رازداری سے متعلق تاریخی فیصلے ’جسٹس کے ایس پٹاسوامی بمقابلہ یونین آف انڈیا‘ کا حوالہ دیا جس میں معلومات کی رازداری کو بنیادی حق تسلیم کیا گیا ہے۔ اس فیصلے کے مطابق، اس معاملہ میں حکومت کی جانب سے کسی بھی مداخلت کے لیے قانونی جواز، ضرورت اور تناسب کے معیار پر پورا اترنا ضروری ہے۔ فاؤنڈیشن کا کہنا ہے کہ مجوزہ قواعد ان معیارات پر پورا اترنے میں ناکام رہے ہیں۔
سیکوریٹی خطرات اور صارف کا کنٹرول
آئی ایف ایف نے سرکاری لیبارٹریوں میں ملکیتی سورس کوڈ جمع کرانے کی شرط کو ’’تکنیکی طور پر ناقص اور خطرناک‘‘ قرار دیا ۔ گروپ نے خبردار کیا کہ حساس سورس کوڈ کو ایک جگہ جمع کرنا سائبر حملہ آوروں کے لیے ایک پرکشش ہدف بن سکتا ہے جس پر حملے کی صورت میں ریاستی اور غیر ریاستی عناصر کے ذریعے لاکھوں ڈیوائسیز کا ڈیٹا خطرے میں پڑ سکتا ہے۔ گروپ نے ڈیوائسیز میں ایپس کے انسٹالیشن اور لاگ ان کی کوششوں سے متعلق ڈیٹا کو لازمی طور پر محفوظ رکھنے کو بھی ’انتہائی مداخلت پسندی پر مبنی‘ قرار دیا۔ گروپ کے مطابق، اس طرح کا ڈیٹا صارفین کی نجی زندگی، تعلقات اور دلچسپیوں کا ایک ’’انتہائی تفصیلی نقشہ‘‘ تیار کرسکتا ہے، جو ڈیٹا کے کم سے کم استعمال کے بنیادی اصولوں کی خلاف ورزی ہے۔
فائونڈیشن نے سیکوریٹی اپ ڈیٹس کے لیے حکومتی کلیئرنس کی ضرورت پر بھی تنقید کی اور متنبہ کیا کہ نوکرشاہی سطح پر تاخیر صارفین کو سائبر خطرات کے سامنے غیر محفوظ بنا کر پیش کرسکتی ہے۔ اس کے علاوہ، ٹیمپر ڈیٹیکشن (tamper-detection) اور ’روٹنگ‘ یا ’جیل بریکنگ‘ پر پابندی جیسی تجاویز کے بارے میں فائونڈیشن کا کہنا ہے کہ یہ صارف کی خود مختاری کو ختم کر دیں گی۔
یہ بھی پڑھئے: الیکشن کمشنرس کو قانونی کارروائی سے تاحیات استثنیٰ پر نوٹس
شفافیت کا مطالبہ
آئی ایف ایف نے مرکزی حکومت پر زور دیا کہ وہ ان شرائط کو نوٹیفائی کرنے کے کسی بھی اقدام سے پیچھے ہٹ جائے اور اس کے بجائے سول سوسائٹی اور آزاد تکنیکی ماہرین کی شمولیت کے ساتھ ایک شفاف مشاورتی عمل شروع کرے۔ تنظیم نے کہا کہ وہ مجوزہ قواعد پر وضاحت اور جوابدہی طلب کرنے کے لیے محکمہ ٹیلی کمیونیکیشن اور وزارتِ الیکٹرانکس اور انفارمیشن ٹیکنالوجی کو باضابطہ طور پر خط لکھنے کا ارادہ رکھتی ہے۔