Updated: January 13, 2026, 9:53 PM IST
| New Delhi
سپریم کورٹ کے سابق ججوں نے ایک بیان میں کہا کہ عمر خالد اور شرجیل امام کی ضمانت کی نامنظوری مایوس کن اور افسوسناک امر ہے، بیان میں کہا گیا کہ یہ فیصلہ خاص طور پر اس لحاظ سے غلط ہے کہ اس میں مقدمے کی تاخیر اور مدعا علیہان کی طویل قید کے پہلو پر غور نہیں کیا گیا۔
شرجیل امام( دائیں) عمر خالد ( بائی) ۔ تصویر: آئی این این
جے این یو کے طلبہ کارکنان اور محققین عمر خالد اور شرجیل امام کی ضمانت منظور نہ کیے جانے کے خلاف عدالتی برادری اور سول سوسائٹی میں بڑھتے ہوئے عدم اطمینان کے تناظر میں، سابق سپریم کورٹ جسٹس مدن بی لوکور اور سدھانشو دھولیا نے اس فیصلے کو مایوس کن اورافسوسناک قرار دیا ہے۔سینئر ایڈووکیٹ کپل سبل کے ٹاک شو میں شرکت کرتے ہوئے، جو سپریم کورٹ میں عمر خالد کی نمائندگی کر چکے ہیں، جسٹس لوکور نے کہا کہ وہ ضمانت انکار پر اداس ہیں۔جبکہ اسی پروگرام میں، جس میں سینئر ایڈووکیٹ دشینت دوے بھی موجود تھے، جسٹس دھولیا نے کہا کہ سپریم کورٹ کا یہ فیصلہ ’’مایوس کن‘] ہے۔جسٹس لوکور نے کہا کہ یہ فیصلہ خاص طور پر اس لحاظ سے غلط ہے کہ اس میں مقدمے کی تاخیر اور مدعا علیہان کی طویل قید کے پہلو پر غور نہیں کیا گیا۔
یہ بھی پڑھئے: ہندوستان میں ۲۰۲۵ء کے دوران ۵۰؍ سے زائد مسلمانوں کا ماورائے عدالت قتل: ساؤتھ ایشیا جسٹس کیمپین
اگرچہ خالد اور امام کو۲۰۲۰ء میں گرفتار کیا گیا تھا، لیکن انہیں ایف آئی آر کی نقل اور دیگر مواد، فوجداری کوڈ کی دفعہ ۲۰۷؍ کے تحت تین سال بعد دیا گیا۔لائیو لاء ڈاٹ ان کے حوالے سے جسٹس لوکور نے حیرت کا اظہار کیا کہ مواد حوالے کرنے میں تین سال کی تاخیر کا ذمہ دار مدعا علیہان کو کیسے ٹھہرایا جا سکتا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ ریکارڈ سے پتہ چلتا ہے کہ خالد اور امام الزامات پر بحث کے لیے ہمیشہ تیار رہے۔اس سے قبل، سابق مرکزی وزیر قانون و انصاف اشوینی کمار نے کہا تھا کہ ’’ملک کے آج کے حریت پسند ناخوش ہوں گے۔ آئین کا ضمیر حریت پسند ہے، اور ضمانت عام قاعدہ ہے اور جیل رعایت، فوجداری قانون کا ایک مسلمہ اصول ہے۔‘‘ اشوینی کمار نے کہا کہ سزا کے بغیر طویل قید سنگین آئینی خدشات پیدا کرتی ہے۔انہوں نے کہا، ’’عمومی طور پر، سزا کے بغیر اس قدر طویل قید آئین کے ضمیر کے مطابق نہیں ہے۔‘‘
یہ بھی پڑھئے: الیکشن کمشنرس کو قانونی کارروائی سے تاحیات استثنیٰ پر نوٹس
بعد ازاں سبل کے ٹاک شو میں، جسٹس لوکور نے ملزم کے خلاف غیرقانونی سرگرمیاں (روک تھام) ایکٹ کی دفعہ۱۵؍ کے تحت دہشت گردی کا جرم عائد کرنے کی بنیاد پر بھی سوال اٹھایا۔ انہوں نے کیا کیا؟ کچھ میٹنگیں کیں، واٹس ایپ گروپ بنائے، تقریریں کیں، اور پمفلٹ تقسیم کیے۔ یہ دہشت گرد سرگرمی کیسے ہے؟جسٹس لوکور کے خیالات کی تائید کرتے ہوئے، جسٹس دھولیا نے کہا کہ اس فیصلے میں یونین آف انڈیا بمقابلہ کے اے نجیب کے تین ججوں کی بینچ کے فیصلے کی غلط تشریح کی گئی ہے۔ جسٹس دھولیا نے کہا کہ نجیب فیصلے میں کہا گیا تھا کہ طویل قید اور مقدمہ جلد مکمل نہ ہونے کے امکان، یو اے پی اے کی دفعہ کی سختی کے باوجود، ضمانت دینے کی وجوہات ہیں۔تاہم، عمر خالد کیس کے فیصلے میں صرف طویل قید کے پہلو پر غور کیا گیا ہے، اور مقدمہ مکمل ہونے کے امکان پر کوئی بات چیت نہیں کی گئی۔ انہوں نے کہا کہ نجیب کیس میں۲۰۰؍ گواہوں کی سماعت باقی تھی، جبکہ اس کیس میں۹۰۰؍ گواہوں کی سماعت باقی ہے، اور اس لیے قریب ترین مستقبل میں مقدمہ مکمل ہونا بالکل ناممکن ہے۔
لائیو لاء ڈاٹ ان کی رپورٹ کے مطابق، سبل نے بتایا کہ چارج شیٹ۳۰۰۰؍ صفحات پر مشتمل ہے، اور دستاویزات ۳۰۰۰۰؍ صفحات سے زیادہ ہیں۔جسٹس دھولیا نے سپریم کورٹ کی طرف سے امام اور خالد پر نئی ضمانت کی درخواست دائر کرنے پر ایک سال کی پابندی عائد کرنے کی بنیاد پر بھی سوال اٹھایا۔ انہوں نے پوچھا ’’یہ کہاں سے آیا؟‘‘دشینت دوے کی رائے تھی کہ ’’ججوں نے پہلے اپنا ذہن بنا لیا تھا اور پھر انہوں نے وجوہات ڈھونڈنے کی کوشش کی۔‘‘انہوں نے نجیب کی قابلِ عمل نظیر کو نظرانداز کرنے پر فیصلے کی تنقید کی۔ دوےنے بتایا کہ عمر خالد کیس میں فیصلہ سنانے کے ہی دن، اسی بینچ نے اڈانی پاور کیس میں فیصلہ سنایا تھا، جس میں اس نے گجرات ہائی کورٹ پر ایک نظیر کو نظرانداز کرنے پر تنقید کی تھی اورسٹیئر ڈیسیسس(گذشتہ نظیر پر عمل) کے اصول کی اہمیت پر زور دیا تھا۔
یہ بھی پڑھئے: ’منریگا بچاؤ مارچ‘ کے دوران پولیس پر طاقت کے استعمال کاالزام
دوے نے کہا کہ سپریم کورٹ مسلسل غیر مستقل مزاج ہے۔ انصاف ملنا سکے کا ایک ٹاس ہے۔ یہ اس پر منحصر ہے کہ آپ کا معاملہ کس بینچ کے سامنے پیش ہوتا ہے۔ ان لڑکوں کو تو اولاً گرفتار ہی نہیں کرنا چاہیے تھا۔ میں نہیں سمجھتا کہ ان کے خلافپہلی نظر میں کیس کیسے ہو سکتا ہے۔ انہوں نے نہ کوئی بم، نہ مواد استعمال کیا، نہ تشدد کیا، نہ ہلاکتیں کیں۔ تو یہ کیس ہے کس بارے میں؟
سبل نے کہا کہ دہلی فسادات کے حقیقی تشدد کے سلسلے میں۷۵۰؍ ایف آئی آر درج ہوئی ہیں، اور ان میں سے کسی میں بھی عمر خالد اور شرجیل امام کے نام ملزمان کے طور پر درج نہیں ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ فسادات کے مقدمات میں اب تک ۹۷؍ بری اور۱۶؍ کو سزائیں ہوئی ہیں، اور ملزمان کو بری کرتے ہوئے، ٹرائل کورٹ نے دہلی پولیس پر ’’کیس ڈائریاں گھڑنے، جعلی ثبوت جمع کرنے کا الزام لگایا ہے۔ ‘‘سبل نے کہا کہ’’ یہ کیس صرف حکومت کی جانب سے انہیں سبق سکھانے کی خواہش" کی ایک مثال ہے۔‘‘ اس سے اتفاق کرتے ہوئے، جسٹس لوکور نے کہا،’’ ایسا ہی لگتا ہے۔‘‘