Updated: January 13, 2026, 9:05 PM IST
| Mumbai
ممبئی پولیس نے آر ڈبلیو پی آئی کی امیدوار کو انتخابی مہم کے دوران ، ایک کارکن کے بیگ پر فلسطینی پرچم ہونے پر نوٹس جاری کیا، پرادنیہ پربھولکر، جو ممبئی میونسپل کارپوریشن انتخابات میں وارڈ نمبر۱۴۰؍ سے آروڈبلیوپی آئی امیدوار ہیں، نے کہا کہ یہ نوٹس۳؍ جنوری کو بھجبل واڈی، گوونڈی میں منعقدہ مہم ریلی کے بعد جاری کیا گیا۔
مکتوب میڈیا کے شکریے کے ساتھ۔ تصویر: ایکس
ممبئی پولیس نے انڈین ریولیوشنری ورکرز پارٹی کی ایک امیدوار کو قانونی نوٹس دیا ہے بعد ازاں کہ ایک بلدیاتی الیکشن ریلی کے دوران ان کے ایک کارکن کے تھیلے پر فلسطینی پرچم دیکھا گیا، جس پر حقوق کارکنوں کی طرف سے تنقید کی گئی ۔ پرادنیہ پربھولکر، جو ممبئی میونسپل کارپوریشن انتخابات میں وارڈ نمبر۱۴۰؍ سے آروڈبلیوپی آئی امیدوار ہیں، نے کہا کہ یہ نوٹس۳؍ جنوری کو بھجبل واڈی، گوونڈی میں منعقدہ مہم ریلی کے بعد جاری کیا گیا۔پربھولکر کے مطابق، ریلی کے دوران ان کے ساتھ موجود ایک خاتون ایک تھیلہ لے کر جا رہی تھی جس پر فلسطینی پرچم کی تصویر تھی، جو کہ وہ خاتون باقاعدگی سے استعمال کرتی ہیں۔ پولیس نے بعد میں اس کو غیر قانونی قرار دیا اور کہا کہ اس سے عوامی امن میں خلل پڑ سکتا ہے۔
یہ بھی پڑھئے: دیوریا میں ۵۰؍ سالہ قدیم مزار پر بلڈوزر کارروائی، پورا علاقہ پولیس چھاؤنی میں تبدیل
مکتوب میڈیا سے بات کرتے ہوئے، پربھولکر نے کہا کہ مقامی پولیس افسران نے ریلی کی تصاویر لیں، ابتدائی طور پر مہم کے اراکین کو بتایا کہ تصاویر معمول کے ریکارڈ کے لیے لی جا رہی ہیں۔ ریلی ختم ہونے کے بعد، دیونار پولیس اسٹیشن کے سینئر پولیس انسپکٹر رمیش یادو نے انہیں اسٹیشن بلایا، یہ کہتے ہوئے کہ انہیں ایک اہم معاملے پر بات کرنی ہے۔انہوں نے کہا کہ اسٹیشن پر، پولیس نے پربھولکر کو بھارتیہ ناگریک سورکشا سنہیتا کی دفعہ۱۶۸؍ کے تحت نوٹس دیا۔ افسران نے انہیں بتایا کہ’’ تھیلے پر فلسطینی پرچم تھا اس سے علاقے میں بے امنی پھیل سکتی ہے۔پربھولکر نے کہا کہ پولیس نے خبردار کیا کہ اگر ایسا واقعہ دوبارہ پیش آیا تو کارروائی کی جائے گی۔
بعد ازاں انہوں نے پولیس کے اس اقدام کی مذمت کی۔ ڈاکٹر پوجا ورشالی، جو بائیکاٹ، ڈیویسٹمنٹ اینڈ سینکشنز موومنٹ اور انڈین پیپل ان سولیڈیرٹی ود پلیسٹائن سے وابستہ کارکن ہیں، نے سوال اٹھایا کہ فلسطین کے ساتھ یکجہتی کا اظہار عوامی نظم و ضبط کے لیے کیسے خطرہ تصور کیا جا سکتا ہے۔انہوں نے الزام لگایا کہ یہ نوٹس جمہوری حقوق پر حملہ ہے۔انڈیا پلیسٹائن سولیڈیرٹی فورم کے فیروز میٹھی بوروالانے بھی نوٹس کی مذمت کی، اسے دوہرے معیار کی مثال قرار دیا۔انہوں نے کہا،یہ ہماری خارجہ پالیسی کی کمزوری کو بے نقاب کرتا ہے۔فرینڈز آف پلیسٹائن، ممبئی کے کارکن ڈاکٹر کاشف نے اس واقعہ کو قابل مذمت قرار دیا، یہ الزام لگاتے ہوئے کہ اس نے اظہار رائے کی آئینی حفاظت کی خلاف ورزی کی ہے اور پولیس نظام میں تعصب کی عکاسی کی ہے۔
یہ بھی پڑھئے: کانگریس لیڈر منی شنکر ایئر کے ہندوتوا پر تنقیدی تبصروں کے بعد سیاسی طوفان، بی جے پی کا سخت ردعمل
بعد ازاں پربھولکر نے کہا کہ پولیس کے پاس الیکشن مہم کے دوران اٹھائے گئے سیاسی مسائل پر اعتراض کرنے کا کوئی قانونی اختیار نہیں ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ فلسطین کی حمایت مذہبی معاملہ نہیں بلکہ قومی آزادی کا سوال ہے۔انہوں نے کہا، ہم اس کی حمایت جاری رکھیں گے۔ تاہم دیونار پولیس اسٹیشن کے سینئر پولیس انسپکٹر رمیش پانڈورنگ یادو سے تبصرے کے لیے رابطے کی بار بار کی گئی کوششیں ناکام رہیں۔اس کے علاوہ پولیس نے تھیلے پر فلسطینی پرچم کی نمایش کو غیر قانونی قرار دینے کے قانونی بنیاد کے بارے میں سوالات کا جواب نہیں دیا۔