راگھو چڈھا نے حال ہی میں گگ اکانومی کے ’’استحصالی حقائق‘‘ پر آواز اٹھائی تھی، جس کے بعد ان کا ’ایک دن کے لیے ڈیلیوری ایجنٹ‘‘ بننے کا ویڈیو سامنے آیا ہے۔
EPAPER
Updated: January 12, 2026, 8:15 PM IST | New Delhi
راگھو چڈھا نے حال ہی میں گگ اکانومی کے ’’استحصالی حقائق‘‘ پر آواز اٹھائی تھی، جس کے بعد ان کا ’ایک دن کے لیے ڈیلیوری ایجنٹ‘‘ بننے کا ویڈیو سامنے آیا ہے۔
عام آدمی پارٹی (آپ) کے لیڈر اور رکنِ پارلیمنٹ راگھو چڈھا نے ایک دن کے لیے بلنک اِٹ کے ڈیلیوری ایجنٹ کا روپ اختیار کرکے عوامی توجہ اپنی جانب مبذول کرلی ہے۔ اپنے معمول کے رسمی لباس کے بجائے کوئیک کامرس کمپنی کی پیلی وردی پہن کر انہوں نے ملک کی ’’گگ اکانومی‘‘ (Gig Economy) کی تلخ حقیقتوں کو قریب سے سمجھنے کی کوشش کی ہے۔ سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر ۴۰؍ سیکنڈ کا ایک مختصر ویڈیو شیئر کرتے ہوئے راگھو چڈھا نے لکھا: ’’بورڈ رومز سے دور، زمینی سطح پر۔ میں نے ان کی طرح دن گزارا۔‘‘
Away from boardrooms, at the grassroots. I lived their day.
— Raghav Chadha (@raghav_chadha) January 12, 2026
Stay tuned! pic.twitter.com/exGBNFGD3T
اس ویڈیو کلپ میں راجیہ سبھا رکن کو بلنک اِٹ کی وردی پہنے، کندھے پر ڈیلیوری بیگ لٹکائے ایک اسکوٹر پر ڈیلیوری ایجنٹ کے پیچھے بیٹھے دیکھا جا سکتا ہے۔ ویڈیو کے اختتام میں چڈھا ایک رہائشی عمارت میں سامان پہنچانے کے لیے پہنچتے ہیں۔ چڈھا نے مزید تفصیلات کے خواہش مند صارفین کے لیے ’’اسٹے ٹیونڈ!‘‘ (جڑے رہیں) کا پیغام لکھ کر تجسس پیدا کر دیا ہے۔ چڈھا کا شیئر کردہ ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہوگیا ہے جس کے بعد انٹرنیٹ صارفین کے درمیان گرماگرم بحث چھڑ گئی ہے کہ آیا اس طرح کے علامتی اقدامات، پالیسی سطح پر کسی تبدیلی کا محرک بن سکتے ہیں۔
یہ بھی پڑھئے: تریپورہ میں مندر کیلئے عطیہ نہ دینے پر مسجد ،مسلمانوں کی دکانیں اورمکان نذر آتش
تنقید سے عملی شرکت تک
راگھو چڈھا نے حال ہی میں گگ اکانومی کے ’’استحصالی حقائق‘‘ پر آواز اٹھائی تھی، جس کے بعد ان کا ’ایک دن کے لیے ڈیلیوری ایجنٹ‘‘ بننے کا ویڈیو سامنے آیا ہے۔ گزشتہ ماہ انہوں نے ایک بلنک اِٹ ڈیلیوری ایجنٹ کی آمدنی کا اسکرین شاٹ شیئر کیا تھا جس میں دکھایا گیا تھا کہ تقریباً ۱۵؍ گھنٹے کام کرنے اور ۲۸؍ ڈیلیوریاں مکمل کرنے پر ایجنٹ کو تقریباً ۷۶۲؍ روپے ملے یعنی تقریباً ۵۲؍ روپے فی گھنٹہ۔ چڈھا نے اس پوسٹ میں لکھا تھا کہ ’’کم تنخواہ، سخت اہداف، نوکری کے تئیں عدم تحفظ اور گگ ورکرز کے لیے کوئی وقار نہیں۔‘‘ انہوں نے دلیل دی تھی کہ ہندوستان کی ڈجیٹل معیشت، کم اجرت اور ضرورت سے زیادہ کام کرنے والے مزدوروں پر انحصار نہیں کرسکتی۔ انہوں نے گگ ملازمین کے لیے منصفانہ اجرت، کام کے انسانی اوقات اور گگ ورکرز کے لیے سماجی تحفظ کے قوانین کا مطالبہ کیا تھا۔
کچھ دن بعد، چڈھا نے اسی ڈیلیوری ایجنٹ ہمانشو کو ظہرانے پر مدعو کیا اور ۱۷؍ منٹ کی ایک ویڈیو شیئر کی جس میں کام کے طویل اوقات، سڑکوں پر حادثات کے خطرات اور کسی حفاظتی نیٹ کی عدم موجودگی پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ ہمانشو نے ڈیلیوری ورکرز کو ’’قومی معیشت کے غیر مرئی پہیے‘‘ قرار دیتے ہوئے نشان دہی کی کہ رائڈر اکثر سخت ڈیڈ لائنز کو پورا کرنے کے لیے تیز رفتاری سے بائیک چلاتے ہیں یا ٹریفک سگنل توڑ کر اپنی جان جوکھم میں ڈالتے ہیں۔ انہوں نے زور دے کر کہا کہ ’’یہ لوگ روبوٹ نہیں ہیں۔‘‘ وہ کسی کے والد، بیٹے اور گھر کے واحد کفیل ہیں۔ آپ کے سینئر لیڈر کا مطالبہ ہے کہ ایسی آوازوں کو پارلیمنٹ میں سنا جائے۔