Inquilab Logo Happiest Places to Work

کلیان: بی ایل اوز کے عدم تعاون سے میپنگ کا کام متاثر، شہری پریشان

Updated: March 30, 2026, 10:42 AM IST | Ejaz Abdul Gani | Kalyan

شہر میں اسپیشل انٹینسیو ریویژن( ایس آئی آر ) کے تحت جاری فیملی میپنگ کا عمل کچھ بی ایل او (بوتھ لیول آفیسر) کے عدم تعاون کی وجہ سے متاثر ہورہا ہے۔

Crowds of citizens at the guidance office for mapping. Photo: INN
میپنگ کیلئے رہنمائی دفتر میں شہریوں کی بھیڑ۔ تصویر: آئی این این

شہر میں اسپیشل انٹینسیو ریویژن( ایس آئی آر ) کے تحت جاری فیملی میپنگ کا عمل کچھ بی ایل او (بوتھ لیول آفیسر) کے عدم تعاون کی وجہ سے متاثر ہورہا ہے۔ جہاں ایک طرف سماجی تنظیمیں اس مہم کو گھر گھر پہنچانے کیلئے دن رات ایک کر رہی ہیں وہی دوسری طرف بی ایل او کی بے رخی کی وجہ سے عام شہریوں کیلئے سیلف میپنگ اور پروجینی میپنگ ایک مشکل ترین مرحلہ بن گئی ہے۔ 
شہر میں فروری سے جاری فیملی میپنگ کا مرحلہ اپنے اختتامی مراحل کی طرف بڑھ رہا ہے لیکن بعض بی ایل او کے عدم تعاون اور تکنیکی دشواریوں کی وجہ سے شہریوں کو شدیدمشکلات کا سامنا ہے۔ اگرچہ ملی و سماجی تنظیموں کی جانب سے چلائی گئی بیداری مہم کے بعد مسلم علاقوں میں کام نے رفتار پکڑی تھی تاہم اب کچھ بی ایل او کی مبینہ لاپروائی اس عمل کی تکمیل میں بڑی رکاوٹ بن گئی ہے۔ مہم کے آغاز میں معلومات کی کمی کے باعث مسلم محلوں میں میپنگ کا عمل کافی سست تھا۔ اس صورتحال کو دیکھتے ہوئے چند فعال سماجی اور ملی تنظیموں نے منظم مہم کا آغاز کیا۔ مساجد اور تنظیموں کے دفاتر میں تربیتی کیمپ لگائے گئے اور سوشل میڈیا کے ذریعے عوام کی رہنمائی کی گئی۔ اس بیداری کا نتیجہ یہ نکلا کہ اب ہر شہری اپنی فیملی میپنگ بروقت مکمل کروانا چاہتا ہے تاکہ مستقبل میں ایس آئی آر سروے کے دوران کسی پیچیدگی یا اضافی دستاویزات کی ضرورت سے بچا جا سکے۔ 

یہ بھی پڑھئے: ممبئی احمد آباد بلٹ ٹرین روٹ پر کل ۲۵؍ ندیوں پر پل زیر تعمیر ہیں، طویل ترین پل ویترنا ندی پر بنے گا

اس ضمن میں نمائندۂ انقلاب سے گفتگو کرتے ہوئے سماجی کارکن وقار مومن نے بتایا کہ کئی بی ایل اوز کے فون مسلسل بند آ رہے ہیں جس کی وجہ سے میپنگ کا کام رکا ہوا ہے۔ بی ایل او کو آن لائن میپنگ کی سہولت دی گئی ہے کہ وہ ووٹر آئی کارڈ اور ۲۰۰۲ ءکی ووٹر لسٹ کی بنیاد پر کام مکمل کریں لیکن وہ رائے دہندگان کو ذاتی ملاقات کے لئے مجبور کر رہے ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ جو لوگ دوسرے شہروں میں منتقل ہوگئے ہیں ان کے لئے ذاتی طور پر حاضر ہونا آسان نہیں ہے۔ ایسے میں بی ایل او کا تعاون ناگزیر ہے لیکن بعض جان بوجھ کر تاخیری حربے استعمال کر رہے ہیں۔ 
ایک اور رضاکار عباد شملے نے نشاندہی کی کہ کچھ بی ایل اوز نے الیکشن کمیشن کو استعفیٰ دے دیا ہے لیکن سرکاری فہرست میں اب بھی ان کے نام موجود ہیں۔ ایسے میں وہ عوام کے فون اٹھانے سے گریز کر رہے ہیں۔ دوسری جانب جن ملازمین کو زبردستی ڈیوٹی پر لگایا گیا ہے وہ بھی کام میں دلچسپی نہیں لے رہے جس کا خمیازہ عام شہریوں کو بھگتنا پڑ رہا ہے۔ 
اس حوالے سے جب سپروائزر دھونڈو بڑے سے رابطہ کیا گیا تو انہوں نے اعتراف کیا کہ کچھ شکایات موصول ہوئی ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ جن بی ایل او کے خلاف شکایات ملی ہیں ان کی رپورٹ متعلقہ الیکشن آفس کو بھیج دی گئی ہے۔ غیر فعال یا کام چھوڑنے والوں کی جگہ نئے بی ایل او کے تقرر کا عمل جاری ہے تاکہ میپنگ کا عمل جلد مکمل کیا جا سکے۔ 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK