Updated: May 25, 2026, 5:04 PM IST
| Dispur
آسام حکومت کی جانب سے یونیفارم سول کوڈ (UCC) بل اسمبلی میں پیش کئےجانے سے قبل مسلم مذہبی اور سماجی تنظیموں نے شدید تحفظات کا اظہار کیا ہے۔ اقلیتی لیڈران نے مطالبہ کیا ہے کہ اسلامی پرسنل لا سے متعلق اس حساس معاملے پر تمام فریقوں سے مشاورت کے بعد ہی قانون سازی کی جائے۔
ہیمنت بسوا شرما۔ تصویر؛ آئی این این
آسام میں مسلم مذہبی اور سماجی تنظیموں نے بی جے پی کی قیادت والی ریاستی حکومت سے مطالبہ کیا تھا کہ مجوزہ یونیفارم سول کوڈ (UCC) قانون سازی کو آگے بڑھانے سے پہلے اقلیتی فریقوں سے مشاورت کی جائے، اس سے قبل کہ بل بالآخر اسمبلی میں پیش کیا گیا۔ یونیفارم سول کوڈ (UCC) بل پیر کو آسام قانون ساز اسمبلی میں پارلیمانی امور کے وزیر اَتل بورا نے وزیر اعلیٰ ہمانت بسوا سرما کی جانب سے پیش کیا۔ اسمبلی کی کارروائی کے مطابق، بل پر بحث۲۷؍ مئی کو مقرر کی گئی ہے۔
یہ بھی پڑھئے: ’’دنیا میں ہر۳۰۰؍میں سے ایک شخص شیزوفرینیا کا شکار ہے‘‘
اخبار’’ دی ہندو ‘‘کی ایک رپورٹ کے مطابق، کم از کم۱۰؍ تنظیموں کے لیڈروں ، جن میں جمعیت علمائے ہند کے مختلف دھڑے، جماعت اسلامی ہند، مسلم پرسنل لا بورڈ، ندوۃ التعمیر، ملی کونسل اور آل آسام مائنارٹی اسٹوڈنٹس یونین شامل ہیں، نے گوہاٹی میں ملاقات کی اور یہ فیصلہ کیا کہ بل کو اسمبلی میں پیش کرنے سے پہلے وسیع مشاورت کا مطالبہ کرتے ہوئے ایک یادداشت پیش کی جائے گی۔ یہ مطالبہ اس وقت سامنے آیا جب آسام کے وزیر اعلیٰ ہمانت بسوا سرما نے اعلان کیا کہ یو سی سی بل کا مسودہ۲۶؍ مئی کو خصوصی اسمبلی اجلاس کے آخری دن پیش کیا جائے گا۔ مجوزہ قانون کا مقصد شادی، طلاق، وراثت اور گود لینے جیسے معاملات کیلئے مذہب سے بالاتر ہو کر ایک مشترکہ پرسنل لا نافذ کرنا ہے۔
یہ بھی پڑھئے: یوپی میں بجلی کا بحران ، یوگی آدتیہ ناتھ نے ہنگامی میٹنگ بلائی
دی آسام سول سوسائٹی کے جاری کردہ بیان کے مطابق، یہ اجلاس سنیچر گوہاٹی میں منعقد ہوا تاکہ ان خبروں پر غور کیا جا سکے کہ آسام حکومت پیر کو اسمبلی میں یونیفارم سول کوڈ (UCC) بل پیش کرنے کی تیاری کر رہی ہے۔ اجلاس کی صدارت سینئر وکیل اور آسام سول سوسائٹی کے صدر حفیظ رشید احمد چودھری نے کی۔ ندوۃ التعمیر کے مولانا فرید الدین چودھری، جنہوں نے اجلاس کی صدارت کی، نے کہا کہ حکومت کو ایسے معاملے میں اقلیتی فریقوں کی آراء کو نظر انداز نہیں کرنا چاہئے جو براہِ راست اسلامی پرسنل لا اور مذہبی روایات سے متعلق ہے۔ آسام سول سوسائٹی کے سینئر وکیل حفیظ رشید احمد چودھری نے بھی کسی بھی قانون سازی سے پہلے وسیع مشاورت کی ضرورت پر زور دیا۔
یہ بھی پڑھئے: ناندیڑ : بکروں کی قیمتوں میں۳۰؍ فیصد تک اضافے کے باوجودخریداری میں نمایاں تیزی
بی جے پی نے اسمبلی انتخابات سے قبل یو سی سی نافذ کرنے کا وعدہ کیا تھا، اور دوبارہ اقتدار میں آنے کے بعد سرما نے دہرایا کہ ان کی حکومت اس قانون سازی کو آگے بڑھائے گی۔ تاہم، انہوں نے کہا کہ قبائلی برادریوں اور آئین کے چھٹے شیڈول کے تحت آنے والے علاقوں کو ان کی روایات اور رسم و رواج کے تحفظ کیلئےمستثنیٰ رکھا جائے گا۔ اپنے خطاب میں، جس میں انہوں نے نئی حکومت کے پانچ سالہ وژن کا خاکہ پیش کیا، آسام کے گورنر لکشمن پرساد آچاریہ نے کہا کہ یو سی سی سماجی ہم آہنگی، انصاف، صنفی مساوات اور ایک ترقی پسند معاشرے کو فروغ دے گا۔