رضا اکیڈمی کی جانب سے ۱۵۰۱؍سالہ ولادتِ رسول اکرم ؐکی مناسبت سے پیغام ۔ سیرتِ طیبہ کو صرف محافل اور جلسوں تک محدود نہ رکھ کرعملی زندگی میں نافذ کرنے کی تلقین بھی کی۔
EPAPER
Updated: August 20, 2026, 11:42 AM IST | Inquilab News Network | Mumbai
رضا اکیڈمی کی جانب سے ۱۵۰۱؍سالہ ولادتِ رسول اکرم ؐکی مناسبت سے پیغام ۔ سیرتِ طیبہ کو صرف محافل اور جلسوں تک محدود نہ رکھ کرعملی زندگی میں نافذ کرنے کی تلقین بھی کی۔
’’سیرتِ مصطفیٰ ؐکو اپنا کر اپنی زندگیوں کوروشن کریں۔‘‘رضا اکیڈمی کی جانب سے ۱۵۰۱؍ سالہ ولادتِ رسول اکرم ؐکی مناسبت سے پیغام دیتے ہوئے یاددہانی کرائی گئی کہ آپؐ سے محبت کاتقاضا یہ ہے کہ آپ ؐکی سیرتِ طیبہ کو صرف محافل اور جلسوں تک محدود نہ رکھا جائے بلکہ اپنے کردار، معاملات، گھروں، بازاروں، معاشرے اور پوری انسانی زندگی میں نافذ کیا جائے۔اسی مقصد کے تحت رضا اکیڈمی دنیا بھر کے مسلمانوں، علماء، مشائخ، خانقاہوں، مدارس، مساجد، دینی اداروں، تنظیموں اور نوجوانوں سے اپیل کرتی ہے کہ آئیے آپؐ کی تشریف آوری کے ۱۵۰۱؍ویں سال کو سیرتِ مصطفیٰ ؐکے عملی سال کے طور پر منائیں۔ہم عہد کریں کہ ہم نماز اور عبادات کی پابندی کریں گے۔روزانہ کثرت سے درود و سلام پڑھیں گے۔جھوٹ، خیانت، دھوکہ اور بددیانتی سے بچیں گے۔ والدین کے ساتھ حسنِ سلوک کریں گے۔ رشتہ داروں اور پڑوسیوں کے حقوق ادا کریں گے۔ یتیموں، بیواؤں، غریبوں اور ضرورتمندوں کی مدد کریں گے۔تجارت اور معاملات میں دیانتداری اختیار کریں گے۔کسی پر ظلم نہیں کریں گے۔ اختلافِ رائے کے باوجود اخلاق اور احترام کا دامن نہیں چھوڑیں گے۔علم حاصل کریں گے اور علم کو عام کریں گے۔اپنے گھروں کو محبت، شفقت، حیاءاور اخلاقِ نبوی ؐکا نمونہ بنائیں گے۔اس کے ساتھ ہی اس مبارک موقع پر نوجوانوں کو خصوصی پیغام میں کہا گیا کہ ہر نوجوان کم از کم ایک ایسی سنت ِ مصطفیٰ کو اپنی زندگی میں شامل کرے جس کی روشنی میں وہ خود کواور معاشرے کو بہتر بنائے اور کم از کم ایک دوسرے تک اس پیغام کو پہنچائے۔
یہ بھی پڑھئے:نیویل ڈیسوزا گرائونڈ پر ایگزبیشن سینٹربنانے کو منظوری
مساجد اور مدارس کے ذمہ داران اورائمہ وعلماء سے درخواست ہے کہ مسجد میں سیرتِ مصطفیٰ کا مستقل درس، ہر مدرسے میں سیرت کا خصوصی پروگرام اور ہر اسلامی ادارے میں ایسی منصوبہ بندی کی جائے جس سے حضور اکرم ؐکی پاکیزہ تعلیمات رحمت، عدل، علم، اخلاق اور خدمت ِ خلق کو عملی شکل دی جاسکے۔ اسی طرح علماء اہلِ سنت اور مشائخِ طریقت ۱۵۰۱؍ ویں سال کو سیرتِ مصطفیٰ کو ایک عالمی اصلاحی تحریک بنانے میں اپنا کردار ادا کریں اور عوام کو محبت ِ رسولؐ کے ساتھ اتباعِ رسولؐ کی طرف بھی متوجہ فرمائیں۔اس کےعلاوہ دنیا کے مسلمانوں سے اپیل ہے کہ یہ تحریک کسی ایک ملک، شہر، جماعت یا تنظیم کی نہیں، یہ حضور رحمت ِ عالم سے محبت رکھنے والے ہر انسان کی تحریک ہے۔ ہندوستان سے حجاز تک، ایشیا سے یورپ تک اور افریقہ سے امریکہ تک، دنیا کے ہر خطے میں جہاں عاشقانِ رسول ؐموجود ہیں، وہاں یہ پیغام پہنچایا جائے۔سیرت پڑھیں، سیرت سمجھیں، سیرت اپنائیں۔ میلاد مصطفیٰؐ منائیں اور سیرت مصطفی ٰؐکو زندگی میں لائیں۔ہم اس سال صرف یہ نہ کہیں کہ ہم حضور اکرمؐ سے محبت کرتے ہیںبلکہ اپنی زندگی میں اس محبت اور سچی غلامی کا ثبوت بھی پیش کریں۔‘‘