Inquilab Logo Happiest Places to Work

اسرائیل نے یہودیوں کو مسجد اقصیٰ میں عبادت کی اجازت دی

Updated: August 20, 2026, 12:33 PM IST | Agency | Tal Aviv

دہائیوں پرانی روایت میں بڑی تبدیلی، نوآبادکاروں کو دعاؤں کی کتابیں لے جانے اور اجتماعی عبادت کی اجازت،اسلامی وقف کا شدید ردعمل۔

In July, thousands of Jews worshipped within the Al-Aqsa Mosque compound—an act deemed a violation of the existing status quo arrangements. Picture: INN
جولائی میں ہزاروں یہودیوں نے مسجداقصیٰ کے احاطے میں عبادت کی جسے موجودہ اسٹیٹس کو انتظامات کی خلاف ورزی قرار دیا گیا ہے۔ تصویر: آئی این این

اسرائیل نے موجودہ انتظامی حیثیت (اسٹیٹس کو) کی صریح خلاف ورزی کرتے ہوئے مسجد اقصیٰ میں یہودیوں کو عبادت کی باضابطہ اجازت دے دی۔عرب میڈیا کے مطابق اسرائیلی حکام نے پہلی بار مقبوضہ مشرقی یروشلم میں مسجد اقصیٰ کے اندر یہودیوں کو مذہبی عبادت کی باضابطہ اجازت دے دی ہے جو اس مقام کی کئی دہائیوں سے قائم موجودہ انتظامی حیثیت کی ایک صریح خلاف ورزی ہے۔یروشلم اسلامی وقف کا کہنا ہے کہ اسرائیلی پولیس نے اتوار کو مسجداقصیٰ میں دھاوا بولنے والے آبادکاروں کو سِدوریم (یہودی دعاؤں کی کتابیں) اندر لے جانے اور اجتماعی عبادت کرنے کی اجازت دی۔

اگرچہ ماضی میں بھی اس نوعیت کی سرگرمیاں ہوتی رہی ہیں لیکن زیادہ تر یہ سرکاری اجازت کے بغیر انجام دی جاتی رہی ہیں۔ اب انہیں باضابطہ طور پر اجازت دینے کا فیصلہ ایک اہم تبدیلی کی نشان دہی کرتا ہے۔

یہ بھی پڑھئے: ہرمز کے متعلق ٹرمپ کے دعوے پر ایران نے کیلیفورنیا کو اپنا ’’نیا علاقہ‘‘ قرار دیا

وقف کا کہنا ہے کہ کسی مقام پر بطور زائر آنا اور وہاں عبادت کرنے کے لئے آنا، دونوں میں ایک اہم فرق ہے، باضابطہ اجازت ملنے کا مطلب یہ ہے کہ اب وہ اس جگہ اپنے قواعد بھی قائم کر سکیں گے۔یاد رہے کہ اسٹیٹس کو ایک کئی دہائیوں پرانا اور بین الاقوامی سطح پر تسلیم شدہ انتظام ہے جس کے تحت مسجدِ اقصیٰ تک رسائی اور اس کے انتظام و انصرام کے معاملات دیکھے جاتے ہیں۔ اس انتظام کے تحت۱۴ء۴؍ ہیکٹر پر مشتمل پورے احاطے کو خصوصی طور پر اسلام کا مقدس مقام تسلیم کیا جاتا ہے۔مسجد تک رسائی، عبادت کے انتظامات، دیکھ بھال اور کھدائیوں کی ذمہ داری ’یروشلم اسلامی وقف‘ کے پاس ہے جو مسجد کا انتظام چلانے والا مذہبی ادارہ ہے لیکن۱۹۶۷ء میں مشرقی یروشلم پر قبضہ کرنے کے بعد سے اسرائیل نے بتدریج اس موجودہ انتظامی حیثیت کو کمزور کیا ہے اور یہودیوں کو باضابطہ طور پر عبادت کی اجازت دینا اس سلسلے کا تازہ ترین قدم ہے۔کئی برسوں سے اسرائیلی فورسیز مسجد اقصیٰ میں روزانہ کے دھاووں کے دوران اسرائیلی شہریوں کو وہاں عبادت کرنے سے چشم پوشی کرتی رہی ہیں۔

یہ بھی پڑھئے: ایف ڈی اے کی کارروائی کا ریلوے میں بھی اثر

ادھرعرب لیگ کے۱۰؍ رکن ممالک کے وزرائے خارجہ نے عمان میں پچھلے دنوں ایک ہنگامی اجلاس کے بعد کہا کہ مسجد اقصیٰ میں اسرائیلی مداخلت ایسے مذہبی تنازع کو جنم دے سکتی ہے جس کے اثرات خطے سے باہر تک پھیل سکتے ہیں اور علاقائی اور بین الاقوامی امن و سلامتی کیلئے خطرہ بن سکتے ہیں۔‘‘اس اجلاس کے اعلامیے پر انڈونیشیا، پاکستان، ترکی اور ملائیشیاکے وزرائے خارجہ نے بھی دستخط کئے ہیں۔اردن نے یہ اجلاس ایسے وقت پر طلب کیا، جب اسرائیلی حکومت کی جانب سے مسجد اقصیٰ کے احاطے میں کئی دہائیوں پرانے انتظامی’اسٹیٹس کو‘ معاہدے میں مبینہ طور پر خاموشی سے تبدیلیاں کرنے کے شواہد سامنے آئے۔ اسرائیلی وزارت خارجہ نے ان الزامات کی تردید کی ہے۔مسجد اقصیٰ مکہ میں مسجد الحرام اور مدینہ میں مسجد نبویؐ کے بعد مسلمانوں کے لئے دنیا کا تیسرا مقدس ترین مذہبی مقام ہے۔یہ پورا احاطہ یہودیوں کے لئے بھی انتہائی مقدس ہے جسے وہ ٹیمپل ماؤنٹ کہتے ہیں۔ مسیحیوں کے لئے بھی یہ علاقہ یسوع مسیح کی زندگی سے متعلق مذہبی روایات کے باعث اہمیت رکھتا ہے۔مسجد اقصیٰ کی اہمیت صرف مذہبی نہیں بلکہ سیاسی بھی ہے۔ بہت سے فلسطینی اسے فلسطینی شناخت کی علامت سمجھتے ہیں اور یروشلم کو مستقبل کی فلسطینی ریاست کا دارالحکومت بنانے کے مطالبے کے تناظر میں یہ مقام ایک اہم مرکزی حیثیت رکھتا ہے۔

مسجد کے احاطےمیں کشیدگی 
 تازہ ترین صورتحال عبادت کی اجازت سے اسرائیلی فیصلے کے بعد احاطہ مسجد میں کشیدگی بڑھ گئی ہے۔ یہودی آباد کاروں کی جانب سے مسلسل مسجداقصیٰ پر چڑھائیاں اور دھاوے جاری ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ انتظامی نظام کی تبدیلی سے علاقائی جنگ اور بڑے پیمانے پر سفارتی بحران کا خطرہ پیدا ہو گیا ہے۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK