Updated: May 20, 2026, 4:02 PM IST
| New york
آئی ایل او International Labour Organization نے خبردار کیا ہے کہ مشرق وسطیٰ میں جاری جنگ اور توانائی بحران عالمی معیشت اور لیبر مارکیٹ کے لیے ایک ’’سست مگر طویل جھٹکا‘‘ بنتا جا رہا ہے۔ ادارے کے مطابق اگر تیل کی قیمتیں موجودہ سطح سے ۵۰؍ فیصد بڑھتی رہیں تو ۲۰۲۷ء تک دنیا بھر میں ۸ء۳؍ کروڑ کل وقتی ملازمتوں کے برابر کام متاثر ہو سکتا ہے جبکہ عالمی مزدوروں کی حقیقی آمدنی میں ۳؍ کھرب ڈالر تک کمی آسکتی ہے۔
International Labour Organization نے ایک نئی عالمی رپورٹ میں خبردار کیا ہے کہ مشرق وسطیٰ میں جاری جغرافیائی کشیدگی اور جنگی صورتحال اب صرف علاقائی بحران نہیں رہی بلکہ یہ دنیا بھر کی لیبر مارکیٹس، روزگار، تنخواہوں اور سپلائی چینز پر گہرے اثرات مرتب کر رہی ہے۔ آئی ایل او کے مطابق اگر موجودہ کشیدگی برقرار رہی اور عالمی منڈی میں تیل کی قیمتیں ۲۰۲۶ء کی ابتدائی اوسط سے تقریباً ۵۰؍ فیصد بلند رہیں تو اس کے نتیجے میں عالمی سطح پر کام کے اوقات میں نمایاں کمی آسکتی ہے۔ ادارے نے تخمینہ لگایا کہ ۲۰۲۶ء میں عالمی کام کے اوقات ۵ء۰؍ فیصد جبکہ ۲۰۲۷ء میں ۱ء۱؍ فیصد تک گر سکتے ہیں، جو بالترتیب ۴ء۱؍ کروڑ اور ۸ء۳؍ کروڑ کل وقتی ملازمتوں کے برابر نقصان ہوگا۔
یہ بھی پڑھئے : ایران آبنائے ہرمز میں انٹرنیٹ کیبل بچھانے کی فیس وصول کرے گا
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ بڑھتی ہوئی ایندھن کی قیمتیں، آبنائے ہرمز میں غیر یقینی صورتحال، تجارتی راستوں کی رکاوٹیں، سپلائی چین کا دباؤ اور سیاحت میں کمی پہلے ہی عالمی معیشت کو متاثر کر رہی ہے۔ آئی ایل او کے چیف اکنامسٹ سینگھیون لی نے کہا کہ ’’یہ بحران دنیا بھر کے کارکنوں کے لیے ایک سست رفتار مگر ممکنہ طور پر طویل المدتی جھٹکا بنتا جا رہا ہے۔‘‘ رپورٹ میں خاص طور پر عرب ریاستوں اور ایشیا پیسیفک خطے کو سب سے زیادہ خطرے میں قرار دیا گیا ہے کیونکہ ان معیشتوں کا انحصار خلیجی توانائی، تجارتی گزرگاہوں اور تارکین وطن مزدوروں پر ہے۔
آئی ایل او نے خبردار کیا کہ عرب ریاستوں میں کام کے اوقات میں ۲ء۱۰؍ فیصد تک کمی ہو سکتی ہے، جو کووڈ ۱۹؍ وبا کے دوران ہونے والے نقصان سے بھی زیادہ ہوگی۔ اس کے علاوہ خلیجی ممالک میں مزدوروں کی نقل مکانی میں تیزی سے کمی دیکھی جا رہی ہے، جبکہ جنوبی اور جنوب مشرقی ایشیا کو بھیجی جانے والی ترسیلات زر میں ابتدائی کمی کے آثار سامنے آنے لگے ہیں۔ یہ صورتحال خاص طور پر ہندوستان، پاکستان، بنگلہ دیش اور فلپائن جیسے ممالک کے لیے تشویش کا باعث بن رہی ہے، جہاں لاکھوں خاندان خلیجی ممالک سے آنے والی ترسیلات زر پر انحصار کرتے ہیں۔
یہ بھی پڑھئے : امریکہ اور ایران کی جنگ میں کسےفتح ملی اور کسے شکست ہوئی ؟دونوں کے اپنے اپنے دعوے
رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا کہ مزدوروں کی حقیقی آمدنی میں ۲۰۲۶ء میں ۱ء۱؍ فیصد اور ۲۰۲۷ء میں ۳؍ فیصد تک کمی ہو سکتی ہے، جو عالمی سطح پر تقریباً ۱ء۱؍ کھرب ڈالر اور ۳؍ کھرب ڈالر کے نقصان کے برابر ہوگی۔ اقتصادی ماہرین کے مطابق اس بحران کے اثرات صرف توانائی تک محدود نہیں رہیں گے بلکہ مہنگائی، خوراک، نقل و حمل، ایوی ایشن، مینوفیکچرنگ اور روزگار کے شعبوں تک پھیل سکتے ہیں۔ عالمی سطح پر کاروباری لاگت میں اضافہ چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروباروں کے لیے بھی بڑا خطرہ بن رہا ہے۔ آئی ایل او نے حکومتوں پر زور دیا کہ وہ ’’روزگار پر مبنی بحران حکمت عملی‘‘ اپنائیں، خاص طور پر غیر رسمی شعبے کے مزدوروں، تارکین وطن، پناہ گزینوں اور چھوٹے کاروباروں کے تحفظ کے لیے فوری اقدامات کیے جائیں۔
رپورٹ ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب ۲۸؍ فروری کو امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے ایران کے خلاف حملوں کے بعد مشرق وسطیٰ میں کشیدگی میں شدید اضافہ ہوا۔ ایران نے بعد ازاں اسرائیل اور خلیج میں امریکی اتحادیوں کے خلاف جوابی کارروائیاں شروع کیں جبکہ آبنائے ہرمز کی بندش کے خطرات نے عالمی توانائی منڈیوں کو ہلا کر رکھ دیا۔ ماہرین خبردار کر رہے ہیں کہ اگر بحران طویل ہوا تو یہ صرف ایک علاقائی جنگ نہیں رہے گی بلکہ عالمی معاشی سست روی، بے روزگاری اور سماجی بے چینی کی نئی لہر کو جنم دے سکتی ہے۔